ہم نے صوفی برکت علی سے سنا تھا کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلہ ہوا کریں گے۔
آج ہم نے فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی شکل میں دیکھ لیا کہ کیسے پاکستان دنیا کے معاملات کو حل کررہا ہے۔عالمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں کردار ادا کررہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملوں کو 5 دن کے لئے معطل کرنے،جنگ بندی کےلئے مذاکرات کرنے سمیت کئی اہم پیشرفت سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔
اس بڑی پیشرفت سے قبل اور پس پردہ کیا ہوتا رہا؟کیسے ہوتا رہا؟ کوئی نہیں جانتا،کبھی تاریخ کے اوراق میں کچھ نقش ہوا ملے گا تو اندازہ ہوگا کہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اور موجودہ حکومت کا کردار کیا تھا۔
بہرحال،دنیا جس جنگ سے پریشان تھی،امریکہ کے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں اور ڈیڈلائن سے پریشان تھی،وہ ٹل چکے ہیں،اس تمام پیشرفت میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آرہا ہے۔
الجزیرہ سمیت کئی عالمی جریدے تصدیق کررہے ہیں کہ اس پیشرفت میں پاکستان،ترکی اور مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر کے حملوں کو 5 دن تک ملتوی کرنے کے اعلان سے چند لمحے قبل وزیر اعظم شہبازشریف کی ایرانی صدر سے فون پر گفتگو ہوئی۔اس گفتگو سے آپ تمام نتائج برآمد کرلیجئے کہ پاکستان اس وقت دنیا میں صوفی برکت علی کی پیشگوئی کے مصداق عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے۔جس کا سہرا فاتح ہند فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے۔
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی ایک خوبی جس نے انہیں آج تک اس مقام سے نواز رکھا ہے وہ جہدِ مسلسل ہے،وہ تسلسل نہیں توڑتے،راستہ نہیں تبدیل کرتے،ویژن میں جو کلیرٹی انہیں ہے وہ آج تک کسی سپہ سالار کو نہیں تھی۔
ایران امریکہ مذاکرات پر جب بہت سے پلیئرز،عالمی میڈیا اور پاکستانی قوم مایوس ہوچکے تھے،تب بھی حافظ سید عاصم منیر نے دن رات ایک کرکے کوشش جاری رکھی،ملٹری ڈپلومیسی کا ایسا کرشمہ دکھایا کہ ایک بار پھر دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر ہیں۔
سوپر پاور کا سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو فیلڈمارشل کا ترجمان بن کر دنیا کو بتارہا ہے کہ فیلڈمارشل عالمی امن کے مشن پر تہران جارہے ہیں۔معاہدہ ہونے کی امید ہے،جلد معاہدہ ہوجائے گا،پاکستان ہی واحد ثالث ہے۔
جب فیلڈمارشل سید عاصم منیر جیسی نگاہِ مومن ہو تو پھر کئی تقدیریں بدل جاتی ہیں،حالات بدل جاتے ہیں،فیصلوں کی سمت رخ بدل لیتی ہے اور یہ معجزہ ہم سید عاصم منیر کے ہاتھوں ہوتا دیکھ رہے ہیں
پاکستان کی سول ملٹری قیادت نے 30 اپریل یعنی معرکہ حق سے عین 7 روز قبل جو دعویٰ کیا تھا،جس طرح جس جس محاذ پر جوابی کارروائی کا کہا تھا 7 مئی کو اُس دعوے سے 10 گنا زیادہ ہی بھارت کو دھول چٹائی۔
وہی بھارت جس کا غرور اور تکبر اس درجے کا تھا کہ پاکستان کو دھمکاتا تھا کہ آپ صرف 7 دن کی مار ہیں،آپ کو بھارت کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم نے آپ کو زندہ رہنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔
اُسی تکبر کو اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھوں دھول چٹائی ہے،30 اپریل کا دن اللہ کی جانب سے نصرت کی نوید تھی جسے عملی جامہ 7 مئی کو پہنایا گیا۔
بھارتی ائیرڈیفنس سسٹم کی قابلیت یہی سے جانچ سکتے ہیں کہ جنگی مشقوں کے دوران اپنا ہی جہاز گرادیا،بالکل ویسے ہی جیسے کشمیر میں اپنا ہیلی کاپٹر گرایا تھا۔
ان دونوں نے پاکستان کو جو کامیابی دلائی ہے وہ ورلڈکپ جتوانے سے کئی گنا بڑی ہے۔
شہبازشریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کو سوپر پاور امریکہ کا بھی مشکل کُشا بنادیا ہے۔
پوری دنیا کی تاریخ میں پاکستان کا نام عالمی امن کے ضامن کے طور پر لکھوادیا ہے۔
دونوں دنیاکے محسن ہیں
تیسری عالمی جنگ رکوانے اور دنیا کو مشکل ترین حالات سے نکالنے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے مرد مومن،مرد مجاہد،درویش فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر کو اگر امن کا نوبیل انعام نہ دیا تو پھر یہ نوبیل انعام ہی بے وقعت رہ جائے گا۔شکریہ
صوفی برکت علی نے آج سے 35 سال قبل پیشگوئی کی تھی کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے ہوں گے۔درحقیقت وہ فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر سے متعلق پشینگوئی کررہے تھے۔آج فیلڈمارشل نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچالیا۔ایک خطرناک تباہی سے بچالیا
پاکستان نے ایران کی مدد کرنے کے لئے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا بلکہ پاکستان کے مستقبل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو پہلے سفارتی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
لیکن یہ کلٹ زدہ شخص پاکستان کی خارجہ پوزیشن کو سبوتاژ کررہا ہے،حساس معاملے پر پروپیگنڈہ کررہا ہے۔
آپ صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ کررہے ہیں،صحافی کاکام ہوتا ہے پوری تحقیق کے بعد توازن کیساتھ اسٹوری فائل کرے۔
آپ چونکہ پروپیگنڈہ ماسٹر ہیں تو کچھ حقائق درست کرلیں،جس شخص کو آپ معصوم قرار دے رہے ہیں،اس کی ذرا ٹوئٹر ٹائم لائن وزٹ کریں۔@PoliticalMobile
یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ ملزم نے خود تسلیم کیا اور ایف آئی آر میں بھی اسی اکاؤنٹ کا ذکر ہے۔میں نے آپ کی پوسٹ پڑھنے کے بعد اس اکاؤنٹ کا وزٹ کیا ہے اور مجھے کہیں محسوس نہیں ہوا کہ یہ اکاؤنٹ کسی پاکستانی کا ہے بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے کوئی بھارت اِس اکاؤنٹ کو آپریٹ کررہا ہے۔
موصوف کہیں فیلڈمارشل کے گھر کا ایڈریس اور دیگر ذاتی معلومات کو شیئر کرکے حملے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
کہیں پاک فوج کے خلاف بھارتی میڈیا کی پوسٹیں شیئر کررہے ہیں۔
کہیں فیلڈمارشل کو گالیوں والی پوسٹ کو انڈوز کررہے ہیں شیئر کررہے ہیں
آپ بتائیں کیا ایسا شخص معصوم ہے؟ کیا پیکا قوانین کے مطابق یہ کوئی جرم نہیں ہے؟ صحافی بنیں،تحقیق کریں،توازن قائم رکھیں،دونوں طراف کا موقف دیں۔
البتہ گرفتاری کے بعد اگر فیملی پر غم آئے تووہ افسوس ناک ہیں جن کا ذمہ دار ملزم خود ہے نہ کہ ریاست۔
کہانی تحریک انصاف کے چاہنے والے سہیل خان کے گھر پر گزری قیامت کی
سہیل خان ایک عام پاکستان شہری ہے جو لاہور کے علاقہ ہنجروال میں ایک اکیڈمی چلا رہا تھا.وہ تحریک انصاف کا ایک عام ووٹر تھا،اسکا ٹویٹر اکاونٹ بھی کوئی غیر معمولی فالوونگ نہیں رکھتا،سلیم خان کے گھر یہ قیامت نہ گزرتی تو شاید کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ سلیم خان نامی کوئی شخص بھی تحریک انصاف کا چاہنے والا ہے۔وہ گھر سے اچانک 17 فروری کو غائب ہوا،سراغ نہ ملا تو گھر والوں کا تحریک انصاف کے وکیل رہنما @MalikUmvi سے رابطہ ہوا انہوں نے رٹ فائل کی تو پھر سلیم خان پر پیکا ایکٹ کا مقدمہ درج سامنے آگیا،ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ 27 فروری کو درج ہوا ہے اور سلیم خان نے کوئی پوسٹ ایکس پر شئیر کی تھی جو ناگوار گزری۔سلیم خان کو جوڈیشل کردیا گیا اس کی ضمانت دائر ہوئی تو جج صاحب نےعید سے چار روز قبل یعنی 17 مارچ کو مسترد کردی.اپنے شوہر کی گرفتاری اور غائب ہونے پر اہلیہ بیمار ہوئی اور اسی غم میں 21 مارچ کو چل بسیں،گھر والوں نے اہلیہ کے آخری دیدار کے لیے سلیم خان کی پیرو ل پر رہائی کی کوشش کی مگر افسران کو یہ گستاخی پسند نہ آئی اور وہ درخواست بھی مسترد کردی گئی۔اب سلیم خان پابند سلاسل ہے اور اسکا تین سال بیٹا ریاست سے پوچھ رہا ہے کہ اسکے والد نے آخر ایسا کونسا سنگین جرم کیا تھا کہ اسکے خاندان کو یہ سزا ملی؟
آپ صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ کررہے ہیں،صحافی کاکام ہوتا ہے پوری تحقیق کے بعد توازن کیساتھ اسٹوری فائل کرے۔
آپ چونکہ پروپیگنڈہ ماسٹر ہیں تو کچھ حقائق درست کرلیں،جس شخص کو آپ معصوم قرار دے رہے ہیں،اس کی ذرا ٹوئٹر ٹائم لائن وزٹ کریں۔@PoliticalMobile
یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ ملزم نے خود تسلیم کیا اور ایف آئی آر میں بھی اسی اکاؤنٹ کا ذکر ہے۔میں نے آپ کی پوسٹ پڑھنے کے بعد اس اکاؤنٹ کا وزٹ کیا ہے اور مجھے کہیں محسوس نہیں ہوا کہ یہ اکاؤنٹ کسی پاکستانی کا ہے بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے کوئی بھارت اِس اکاؤنٹ کو آپریٹ کررہا ہے۔
موصوف کہیں فیلڈمارشل کے گھر کا ایڈریس اور دیگر ذاتی معلومات کو شیئر کرکے حملے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
کہیں پاک فوج کے خلاف بھارتی میڈیا کی پوسٹیں شیئر کررہے ہیں۔
کہیں فیلڈمارشل کو گالیوں والی پوسٹ کو انڈوز کررہے ہیں شیئر کررہے ہیں
آپ بتائیں کیا ایسا شخص معصوم ہے؟ کیا پیکا قوانین کے مطابق یہ کوئی جرم نہیں ہے؟ صحافی بنیں،تحقیق کریں،توازن قائم رکھیں،دونوں طراف کا موقف دیں۔
البتہ گرفتاری کے بعد اگر فیملی پر غم آئے تووہ افسوس ناک ہیں جن کا ذمہ دار ملزم خود ہے نہ کہ ریاست۔
آئیں آپ کو وقت کے صلاح الدین ایوبی سپہ سالار امتِ مسلمہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر کا جلوہ دکھاتے ہیں۔
اسرائیل کے پاس خامنہ ای کے بعد دو سب سے بڑے ٹارگٹ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف تھے۔دونوں کی لوکیشن اسرائیل کے ہاتھ لگ چکی تھی۔
اسرائیل کے لئے وہ موزوں وقت بھی آچکا تھا کہ دونوں کو نشانہ بناکر ختم کردیا جاتا۔
لیکن پاکستان کی انٹیلجینس ایجنسیوں کو اسرائیلی منصوبہ پتہ چل چکا تھا،پھر فیلڈمارشل سید عاصمم منیر سرگرم ہوتے ہیں۔
امریکہ کو پیغام دیتے ہیں کہ اگر آپ ان دونوں شخصیات کو ختم کردیں گے تو مذاکرات کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔فیلڈمارشل نے یہ غلطی کرنے سے امریکہ کو روکا،قائل کیا۔
جس کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو فوری طور پر پیغام دیا اور عباس عراقچی،باقر قالیباف کو نشانہ بنانے سے روک دیا۔
اسرائیل کے لئے اس مشن سے پیچھے ہٹنا بہت مشکل تھا لیکن فیلڈمارشل سید عاصم منیر نے یہ کام امریکہ کے ذریعے کراکر دکھایا۔
وہ امریکہ جو کسی کی نہیں سنتا اور اسرائیل کی ڈکٹیشن پر چلتا ہے،جس سے متعلق تاثر یہی ہے کہ اسرائیل کا ٹرمپ پر تسلط ہے،اُس کو فیلڈمارشل نے کیسے قائل کیا ہوگا،سوچیں کیسی صلاحیتوں کا مالک ہے سید عاصم منیر۔
فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی اتوار کے روز ڈونلڈٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد مزید پیشرفت ہوئی ہے
اُسی کال کے فالو اپ میں وزیر اعظم نے جنگ بندی کے لئے ثالثی کی آفر کا ٹوئٹ کیا
جسے امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کرکے مہرِ تصدیق ثبت کردی۔
شکریہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر
ہم نے صوفی برکت علی سے سنا تھا کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلہ ہوا کریں گے۔
آج ہم نے فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی شکل میں دیکھ لیا کہ کیسے پاکستان دنیا کے معاملات کو حل کررہا ہے۔عالمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں کردار ادا کررہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملوں کو 5 دن کے لئے معطل کرنے،جنگ بندی کےلئے مذاکرات کرنے سمیت کئی اہم پیشرفت سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔
اس بڑی پیشرفت سے قبل اور پس پردہ کیا ہوتا رہا؟کیسے ہوتا رہا؟ کوئی نہیں جانتا،کبھی تاریخ کے اوراق میں کچھ نقش ہوا ملے گا تو اندازہ ہوگا کہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اور موجودہ حکومت کا کردار کیا تھا۔
بہرحال،دنیا جس جنگ سے پریشان تھی،امریکہ کے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں اور ڈیڈلائن سے پریشان تھی،وہ ٹل چکے ہیں،اس تمام پیشرفت میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آرہا ہے۔
الجزیرہ سمیت کئی عالمی جریدے تصدیق کررہے ہیں کہ اس پیشرفت میں پاکستان،ترکی اور مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر کے حملوں کو 5 دن تک ملتوی کرنے کے اعلان سے چند لمحے قبل وزیر اعظم شہبازشریف کی ایرانی صدر سے فون پر گفتگو ہوئی۔اس گفتگو سے آپ تمام نتائج برآمد کرلیجئے کہ پاکستان اس وقت دنیا میں صوفی برکت علی کی پیشگوئی کے مصداق عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے۔جس کا سہرا فاتح ہند فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے۔
یہ ویڈیو دیکھیے،کیسے ایرانی صدر فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے قربت کا اظہار کررہے ہیں،بے قراری سے مل رہے ہیں،بے تکلف گفتگو کررہے ہیں۔اعتماد کا لیول ہی الگ نظر آرہا ہے۔
یہ ویڈیو پوسٹ وار ڈپلومیسی کی ہے،مئی میں بھارت کو دھول چٹانے کے بعد جب فیلڈمارشل پوسٹ وار ڈپلومیسی پر نکلے تھے تب ان کو یوں عزت سے نوازا گیا تھا۔
اب خبر یہ ہے کہ ایران نے عرب ممالک سمیت کسی پر بھی اعتماد کا اظہار نہیں کیا بلکہ مذاکرات کے حوالے سے ان کا انتخاب فیلڈمارشل تھے کہ اگر یہ ثالث بنیں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
فیلڈمارشل خطے کے تمام بڑے پلیئرز سعودی عرب سے رابطے میں رہے۔پاکستانیو قدر کرو،پاکستان کو ہیرا ملا ہے،اعتماد رکھو انشاءاللہ پاکستان دنیا پر راج کرے گا
حالیہ جنگ میں جس طرح اسرائیل اور امریکہ ناکامی کی جانب جارہے ہیں،نیوکلیئر کی طرف معاملات جارہے تھے۔
پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں تھا،دنیااس جنگ سے شدید متاثر ہورہی تھی
اس دوران اگر فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی پس پردہ کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں تو اصل امن کے نوبیل انعام کا حقدار کون ٹھہرے گا؟
سوفیصد تیسری عالمی جنگ کا آخری دہانے سے رُخ موڑنے پر سید عاصم منیر ہی امن کے داعی کہلائیں گے،امن کے ضامن کہلائیں گے اور نوبیل انعام کے حقدار ٹھہریں گے
فنانشنل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملے ملتوی کرنے اور جنگ ختم کرنے جیسے اعلانات سے قبل اتوار کے روز فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔
ہم نے صوفی برکت علی سے سنا تھا کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلہ ہوا کریں گے۔
آج ہم نے فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی شکل میں دیکھ لیا کہ کیسے پاکستان دنیا کے معاملات کو حل کررہا ہے۔عالمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں کردار ادا کررہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملوں کو 5 دن کے لئے معطل کرنے،جنگ بندی کےلئے مذاکرات کرنے سمیت کئی اہم پیشرفت سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔
اس بڑی پیشرفت سے قبل اور پس پردہ کیا ہوتا رہا؟کیسے ہوتا رہا؟ کوئی نہیں جانتا،کبھی تاریخ کے اوراق میں کچھ نقش ہوا ملے گا تو اندازہ ہوگا کہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اور موجودہ حکومت کا کردار کیا تھا۔
بہرحال،دنیا جس جنگ سے پریشان تھی،امریکہ کے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں اور ڈیڈلائن سے پریشان تھی،وہ ٹل چکے ہیں،اس تمام پیشرفت میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آرہا ہے۔
الجزیرہ سمیت کئی عالمی جریدے تصدیق کررہے ہیں کہ اس پیشرفت میں پاکستان،ترکی اور مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر کے حملوں کو 5 دن تک ملتوی کرنے کے اعلان سے چند لمحے قبل وزیر اعظم شہبازشریف کی ایرانی صدر سے فون پر گفتگو ہوئی۔اس گفتگو سے آپ تمام نتائج برآمد کرلیجئے کہ پاکستان اس وقت دنیا میں صوفی برکت علی کی پیشگوئی کے مصداق عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے۔جس کا سہرا فاتح ہند فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے۔
فنانشنل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملے ملتوی کرنے اور جنگ ختم کرنے جیسے اعلانات سے قبل اتوار کے روز فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔
ہم نے صوفی برکت علی سے سنا تھا کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلہ ہوا کریں گے۔
آج ہم نے فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی شکل میں دیکھ لیا کہ کیسے پاکستان دنیا کے معاملات کو حل کررہا ہے۔عالمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں کردار ادا کررہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملوں کو 5 دن کے لئے معطل کرنے،جنگ بندی کےلئے مذاکرات کرنے سمیت کئی اہم پیشرفت سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔
اس بڑی پیشرفت سے قبل اور پس پردہ کیا ہوتا رہا؟کیسے ہوتا رہا؟ کوئی نہیں جانتا،کبھی تاریخ کے اوراق میں کچھ نقش ہوا ملے گا تو اندازہ ہوگا کہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اور موجودہ حکومت کا کردار کیا تھا۔
بہرحال،دنیا جس جنگ سے پریشان تھی،امریکہ کے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں اور ڈیڈلائن سے پریشان تھی،وہ ٹل چکے ہیں،اس تمام پیشرفت میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آرہا ہے۔
الجزیرہ سمیت کئی عالمی جریدے تصدیق کررہے ہیں کہ اس پیشرفت میں پاکستان،ترکی اور مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر کے حملوں کو 5 دن تک ملتوی کرنے کے اعلان سے چند لمحے قبل وزیر اعظم شہبازشریف کی ایرانی صدر سے فون پر گفتگو ہوئی۔اس گفتگو سے آپ تمام نتائج برآمد کرلیجئے کہ پاکستان اس وقت دنیا میں صوفی برکت علی کی پیشگوئی کے مصداق عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے۔جس کا سہرا فاتح ہند فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے۔