وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان کی زیرصدارت منسٹری کی کارکردگی کاجائزہ اجلاس منعقد!اجلاس میں تجارتی اور برآمداتی صلاحیت کوبڑھانےکےلیےاہم فیصلےکیےگئے۔برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کرنے،پاکستان کی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے،اور نئےعالمی منڈیوں کی تلاش کو ترجیح دینےکی ضرورت پر زور دیا
لا إلهَ إلاَّ اللَّه وحده لا شريك له، لَهُ الملك، وله الحمد، وَهُو عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِيرٌ
لا إلهَ إلاَّ اللَّه وحده لا شريك له، لَهُ الملك، وله الحمد، وَهُو عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِيرٌ
لا إلهَ إلاَّ اللَّه وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وَهُو عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِيرٌ
ایاز صادق۔۔۔۔۔۔اور ن لیگ یاد رکھے
"سانپوں سے حسن سلوک نہیں ہوتا"
آپ کےگھریلو معاملات کی بات ہو تو معافیاں دے/دلوا کر"عظمت کےمینار"پر چڑھتے رہیں۔
یہ معاملہ PTI جیسےملک دشمنوں سےڈیل کرنےکا ہے۔ اگر Pti کی اس وقت حکومت ہوتی اور یہ کام ہم نےکیاہوتا تو ہمارےپچھواڑےسےدھواں نکال دیناتھا
انکو بدمعاش خود پنجاب حکومت نے بنایا ہے ان یوتھیا پولیس افسران ڈی سی اور اے سی صاحبان کے تبادلے بند کرکے۔ پنجاب کے ہر تھانے میں ن لیگی اراکین اسمبلی کو اگنور کرلے یوتھیوں کے کام ہو رہے ہیں اور اوپر سب چین ہی چین لکھ رہا ہے یوتھیوں کو اصل آکسیجن مریم نواز شریف صاحبہ نے مہیا کی ہے
@Aadiiroy2@BilalBaloch1984 ہماری حکومت ہم پر خرچ کرے سوچنا وی نا کدی یہ مسلم لیگ ن اپنے منتخب نماٸندوں کا نہیں سوچتی ہے کبھی ورکر کس کھیت کی مولیاں ہیں جناب دل کو خوش کرنے کے لٸے خواب دیکھنے پر پابندی نہیں
سوشو اکنامک رجسٹری فارم یونین کونسلوں کے سیکرٹریز صاحبان 100 روپے سے 300 روپے میں دھٹاٸی سے فروخت کر رہے خدارا @MaryamNSharif صاحبہ عوام کو ایسے مت لٹنے دیں ان بیوروکریٹس کی چکنی چوپڑی باتوں پر کان مت دھریں آپ اپنی ٹاسک فورس بناٸیں اپنے ورکروں اور عوامی نماٸندوں پر اعتماد کریں
ہماری مسلم لیگ ن کی پنجاب کی چار ماہ کی حکومت کے دوران کرپشن کی ریشو میں 1000 گنا اضافہ ہوا ہے ہر محکمے میں سرعام دھڑلے سے رشوت وصول کی جا رہی ہے ہماری بیوروکریسی محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو سب ok کی رپورٹ دیتے ہیں کمیشن مافیا اور ٹاٶٹوں کا راج ہے آج کل پنجاب میں
@Atifrauf79@MRKPMLN تاحال سیاست تو بچی نہیں اور سیاست کے ساتھ ساتھ ریاست بھی داٶ پر لگی ہوٸی ہے جتنی مضبوطی پی ٹی آٸی کو مریم نواز صاحبہ کی 4 ماہ کی حکومت نے دی ہے اتنے مضبوط وہ اپنی حکومت کے دوران بھی نہیں تھے اپنے اراکین اسمبلی کو دیوار کے ساتھ لگا کر یوتھیے افسروں کو مضبوطی فراہم کی ہے
بغض نواز سے بھرے صحافتی لبادے میں عمرانی تجزیہ کار میڈیا پر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ مہنگی بجلی کے منصوبے نوازشریف نے لگائے نوازشریف نے اگر مہنگی بجلی کے منصوبے لگائے ہوتے تو اس کے دور میں بجلی فی یونٹ 7 روہے نہ ہوتی، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے 2020 میں عمرانی حکومت نے کیئے جس کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے
سچ جان کر جیو۔۔۔۔!!!