Imran Khan has completed 3 years in prision and most of it in solitary confinement. He has not been allowed to meet his family. His sons have been denied visa to visit Pakistan and meet their father. He has been denied access to his doctors, lawyers and party people.
For a long period, no one has seen him.
There is no history of any political prisoner being treated in such harsh & brutal conditions.
Despite all these, Imran khan has shown courage, bravery, dignity and character unparalleled in our history. He has won and those who incarcerated him in prison have lost.
ہم SIFC سے ڈالر کمائیں گے۔
ہم معدنیات بیچیں گے
اب ہم جنگی جہاز بنا کر بیچیں گے۔
ہم آئینی عدالت بنا کر ترقی کریں گے
ہم ناکام ہو گئے لہذا اب
اب ہم صوبے بنا کر ترقی کریں گے۔
عاصم منیر مجبوری میں مارشل لا یعنی فوجی وردی میں صدر کے طور پر آ رہا ہے۔ محسن نقوی کا دھیما سا اعلان۔
ضد نہیں اے مجبوری اے۔ کیونکہ نظام فیل ہوگیا۔ واہ واہ کیا کہنے۔
چار کے چالیس صوبے بنا لیں۔ عوامی امنگوں کی ترجمانی کے بغیر نظام نہیں چلے گا ۔۔نہیں چلے گا۔ نہیں چلے گا۔۔ الٹے ہو جائیں ، سیدھے ہو جائیں۔آپ سے یہ نظام نہیں چلے گا۔۔۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ ��وئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
عمران خان جیسا زمانہ پھر کبھی نہیں آنا
ریئل اسٹیٹ کے بزنس مین کہتے ہیں کہ وہ دور آئیڈیل تھا کنسٹرکشن کے حوالے سے کسان کہتے ہیں کہ اتنی برکت تھی کہ جو فصل کاشت کی بمپر کراپ ہوئی اور ریٹ بھی بہترین ملا اور پیسے بھی جلدی ملے اس جیسا دور کبھی آ نہیں سکتا۔ آٹو سیکٹر والے کہتے ہیں جتنی گاڑی خان کے دور میں بک رہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہ ہوا۔ غریب کہتے ہیں کہ ہمارے جیب میں 10 لاکھ روپے کا چیک تھا جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوئی مفت علاج ہوا دوائیاں تک مفت ملا کرتی تھیں۔۔
واقعی ایک غریب پرور اللہ کا خوف والا حکمران پاکستان میں آیا تھا۔ جب سے گیا یے ملک برباد ایسے ہو رہا ہے جیسے کسی نے تیار فصل میں خنزیر چھوڑ دئیے ہوں
فلک جاوید خان صاحبہ سے عدالت کے باہر سوال کیا کہ آپ لوگوں کو اینٹی نیشنل کہا جاتا ہے کیا آپ نورین خان نیازی کے بیان کی مذمت کرتی ہیں
جس پہ فلک جاوید کا جواب
1971 میں جس نے پاکستان کو دولخت کیا انہی غداروں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے میں نواز شریف کے اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
مریم نواز نے اپنے جلسوں میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگوائے میں اس کی مذمت کرتی ہوں
فوج ہماری ہڈیوں میں سے گوشت نکال کر کھا گئی ہے خواجہ آصف کے اس بیان کی میں مذمت کرتی ہوں
کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے چھرا گھونپا میں اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
میں ڈان لیکس اور میمو گیٹ کی بھی مذمت کرتی ہوں
جاوید ہاشمی بالکل صحیح کہہ رہے ہیں
ہم مطالعہ پاکستان ��یں پڑھتے رہے کہ قائداعظم کو پرفضا مقام زیارت میں رکھا گیا
آنکھیں کھلی تو پتہ چلا کہ زیارت میں اس دور میں علاج معالجے کی تو سہولت تک میسر نہ تھی
پاکستان کی تاریخ کے پہلے مسنگ پرسن قائدِاعظم تھے
زیارت میں نہ کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ کوئی علاج ہو رہا تھا
قائدِاعظم کو ریاستی امور سے الگ کرکے وہاں نظر بند کر دیا گیا
ابھی کل تک فائز عیسی کو انصاف کا دیوتا کہا جاتا تھا۔ اس کے بھجن گانے والوں کی قطار نہیں ٹوٹتی تھی۔ آج اسکے فیصلے تھوک لگا لگا کر واپس دیے جارہے ہیں اسکا کہیں نشان بھی نہیں۔ ایسا ہی وقت عاصم منیر پر بھی آئے گا۔ زیادہ شدت اور بوجھ کیساتھ آئے گا۔ اسکے حق میں بولنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اسکا ساتھ دینے والے جھوٹی شکلیں بنا بنا کر معافیاں مانگیں گے۔ یہ تاریخ اور وقت کا سبق ہے۔
ایک انسان جن کی وجہ سے آپ کو شہرت اور وزارت ملی اور بدلے میں آپ نے کیا دیا ؟ ایک محب وطن پاکست��نی بے گناہ جیل میں ہو تو ان کی بہنیں باہر آکر ان کے حق کے لیے آواز اٹھائے تو یہ کونسی موروثی سیاست ہو گئی؟ آگے بڑھ کر ساتھ نہیں دے سکتے حوصلہ نہیں دے سکتے تو خاموش تو رہ سکتے ہیں !
اب یہ پاکستان کی عوام کی زمہ داری ہے کہ وہ نا صرف ع��یمہ خان صاحبہ کی سٹریٹ موومنٹ میں شامل ہوں بلکہ خان صاحب کی ساری بہنوں کی ہر طرح حفاظت فرمائیں۔ کیونکہ ان کے اس اقدام کو اسٹیبلشمنٹ کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتی۔
Plz stay United
#SaveImranKhan
@Aleema_KhanPK
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پ�� ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
اگر مورخ کمپرومائزڈ نہیں نکلا تو ضرور لکھے گا کہ 80 ہزار عہدے داروں کے باوجود
عمران خان کی غیر سیاسی بہن اکیلی بھائی کی رہائی کے لئے سڑکوں پر نکلی تھی 💔
شہباز گل نے حد ہی کردیا!!🔥
کاکول سے نکل کر ہی بدمعاشی کرتے ہیں!!
یہ جرنیل مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں, یہ gangsters ہیں, ان سے سارے اختیارات لینی ہوگی!!
🚨🚨🚨
عمران خان کی رہائی کی کنجی علیمہ اپا کے پاس ہے
صرف چھوٹا سا اعلان کریں:
گوہر شیخ وقاص زرتاج اسد قیصر شاندانہ علی محمد خان پرویز الہی حماد اظہر اور دیگر نارنجی مافیا کا تحریک انصاف سے کوئی لینا دینا نہیں اور ایک نئی نظریاتی "عمران خان رہائی" تنظیم تشکیل دے