پنجاب میں اس وقت تحریک انصاف کی ساری قیادت یا جیل میں ہے یا اغوا ہے۔ نون لیگ کے جلسوں میں سرکاری مشینری استعمال ہو رہی ہے اور نگران حکومتیں بھی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔ لیکن دلچس�� بات یہ ہے کے ان وضح بیساکھیوں کے باوجود بھی ن لیگ اپنے پیروں پڑ کھڑی نہیں ہو پائی۔
اپریل ۲۰۲۲ کے اوئل میں جب سائفر کی ڈی کلاسفیکیشن کے متعلق بحث ہورہی تھی تو چند وزراء نے اس فیصلے کی حمایت تو کی مگر ساتھ ہی وزیراعظم کو تنبیہ کی کہ آپ کی مخالف قوتیں (اندرونی اور بیرونی) بہت طاقتور ہیں اور یہ اقدام سیاسی طور پر آپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کریگا۔ عمران خان کا جواب وہی تھا جس کی ان سے توقع رکھی جاسکتی ہے۔ “میرا اللہ سب سے طاقتور ہے”، ‘وہ جانتا ہے کہ میں اپنے ملک و قوم کے مفاد کے لیے خود کو مشکل میں ڈال رہا ہوں، وہ میری مدد کریگا’۔ خان صاحب کو اپنے اللہ پر ایمان تو تھا ہی انہیں یہ بھی اعتماد تھا کہ ملک کے تمام ادارے پاکستان کی خوداری کو اتنا ہی مقدم رکھتے ہیں جتنا کہ ان کا فرض بنتا ہے۔ اور وہ اس ضمن میں بننے والی پالیسیوں پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ بات انہوں نے میرے سوال کے جواب میں کہی تھی اور میں نے تب بھی زیرِ لب یہی دعا کی کہ اللہ کرے آپ کا یہ اعتم��د قائم رہے۔
اسرائیل کے حوالے سے بھی انہیں یہ یقین تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور بقا کا حلف لینے والی تمام قوتیں قائدِ اعظم کے فرمان کو مقدم رکھیں گی۔
میں نے گذشتہ سال کیے چند وی لاگز میں بارہا کہا کہ رجیم چینج آپریشن کے دوسرے مرحلے میں خطے میں نئے گیم پلان کے تحت دہشتگردی کی واپسی، یوکرائن اور اسرائیل پالیسی میں پیش رفت پر خصوصی نظر رکھیں۔ دہشتگردی کی واپسی کی تردید کی گئی اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس تردید کا بار ہمیں اپنے جنازوں کی صورت اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یوکرائن پر بولے گئے جھوٹ بھی بے نقاب ہوئے اور اسرائیل پر موقف تو نگران وزیرِ خارجہ اور کل کے نگران وزیرِ اعظم کے بیان سے واضح ہے۔
اب مڑ کر دیکھیں اور یاد کریں آپ کے وزیرِ اعظم سے سوال ہوا کہ کیا وہ امریکہ کو اڈے فراہم کریگا تو اس نے یکسر اس امکان کو “ایبسلوٹلی ناٹ” کہہ ک�� رد کردیا۔ تو پھر کون تھا کہ جس سے اڈوں کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کا تذکرہ نیو یارک ٹائمز کی خبر میں کیا گیا؟
یورپین یونین کے یوکرائن اور روس کے حوالے سے ارسال کیے گئے خط پر تو ملک کے منتخب وزیراعظم نے ان سے جواباً سوال پوچھا تھا کہ کیا ہم آپ کے غلام ہیں؟ کیا آپ بھارت سے ایسی ڈیمانڈ کرنے کی جسارت کرسکتے ہیں؟ ہم یوکرائن جنگ کی مذمت کریں تو آپ نے فلسطین اور کشمیر پر قبضوں کے حوالے سے کیا کیا ہے؟
ملک کا سربراہ تو عمران خان تھا اور اس کا ریاست کے behalf پر یہ موقف تھا، تو ایک ذیلی ادارے کا سربراہ کیسے ایک کانفرنس میں بیٹھ کر اس پالیسی سے روگردانی کر رہا تھا؟ اور اپنے بیان سے کس کو کیا پیغام دے رہا تھا؟
روس کا دورہ ہو یا یوکرائن جنگ کے حوالے سے مؤقف عمران خان کے ذاتی فیصلے بھی نہیں تھے وہ ریاست کا سربراہ تھا اور ریاست کے مفاد میں دیگر عہدیداروں کے مشورے سے یہ فیصلے کررہا ��ھا۔ مگر کس کو اپنی ریاست کی خوداری، اس کے مفاد اور اس کی آزادی کی نسبت بیرونی طاقتوں کی خوشنودی مطلوب تھی؟
کیا اب بھی کسی کو یہ شک رہ جاتا ہے کہ ریاستِ پاکستان کے منتخب سربراہ، عمران خان کی پیٹھ میں خنجر بیرونی طاقتوں کی ایماء پر گھونپا گیا تھا؟
آج عمران خان انہی طاقتوں کی منشاء پر جیل میں ہے ڈیمانڈ ہوئ تھی کہ اس کی حکومت گراؤ لیکن کوئ شاہ سے بڑھ کر بھی یاں شاہ کا وفادار نکلا۔
آج رجیم چینج کے ایک ایک ایجنڈے کی تعمیل آپ کو نظر آرہی ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کی پاکستان میں سیاسی اور شخصی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی بھی آپ کو سمجھ آجانی چاہئیے اور یہ بات بھی کہ اپنی غیرت کا بار آپ کو خود اٹھانا پڑیگا کیونکہ یہاں آپ سے مخلص بس وہ ایک آزاد آدمی تھا کہ جو آج اسی جرم میں قید ہے، وہ کہ جس نے آپ کی خوداری، آپ کے مفاد کو اپنی حکومت اور اب تو یوں لگتا ہے کہ اپنی زندگی پر بھی مقدم رکھا ہوا ہے۔
استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہم بہادر فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتےہیں کہ اپنا سکوت توڑیں اور اہلِ فلسطین کیخلاف اسرائیلی سفاکیت و بربریت کیخلاف اقدا�� کریں۔ امن صرف دو ریاستی حل جیسے ایک قابلِ عمل منصوبے ہی سے ممکن ہے۔
#GazaUnderAttack
Trump's plan to shift US embassy in Israel to Jerusalem is contrary to all UN resolutions & is an attempt to deliberately add to the chaos in the ME. This new Trump move will also undermine the international consensus on how to move forward in resolving the Palestinian conflict.
اگرچہ میں متعدد مواقع پر تفصیلاً حقائق ریکارڈ پر لا چکا ہوں لیکن خود کو ریاست سمجھنے والے چند طاقتور افراد کی اپنے حوالے سے منصوبہ بندی اور دیگر قائدین کے ساتھ ان کے طریقۂ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر بیان دیتا ہوں کہ چئیرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے کبھی بھی پرتشدد سیاست کی ��مایت نہیں کی۔ نا ہی ہمیں ان کی جانب سے کبھی بھی کسی بھی صورتحال کی پیشِ نظر کسی پُر تشدد کاروائ کی ہدایت یا اجازت دی گئی ہے۔ نا میں کبھی ایسی کاروائ کا حصہ رہا ہوں اور نا ہی میں نے کبھی حکومتی اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی ہدایات دی ہیں۔
مجھے کچھ بھی ہونے کی صورت میں، میری طرف سے کوئ بیان؛ تحریری یا زبانی آنے کی صورت میں صرف اس بیان کو جو میں نے بقائمی ہوش و حواس اور اپنی مرضی سے دیا ہے کو حقیقت سمجھا جائے نا کہ اس کو جو میری گمشدگی یا گرفتاری کے بعد جبراً حاصل کیا گیا ہو۔
ریکارڈ پر لائے گئے خطوط، پیٹیشنز اور ویڈیو پیغام کے علاوہ میرے حوالے سے چند طاقتور افراد کے ارادوں کو جانتے ہوئے میں اپنا ایک بیان پارٹی کے حوالے بھی کرچکا ہوں جس میں منصوبہ سازوں کے نام بھی درج ہیں۔
Strongly condemn the state terrorism unleashed by the Israeli military against unarmed Palestinians in Gaza protesting the shifting of the US embassy to Jerusalem.
چیئرمین عمران خان نے ہمیشہ فلسطین کاز کی وکالت کی ہے اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ ان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جبر و تسلط(قبضہ) اور امن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
1948 کے پہلے نکبہ سے لیکر فلسطینیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور غزہ کے محاصرے تک، اہلِ فلسطین تنہا کھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے پُرامن وجود و حیات کے اپنے بنیادی حق کیلئے جدوجہد کی۔
بین الاقوامی برادری قیمتی جانوں کےضیاع سے بچنے کی غرض سے کشیدگی اور تصادم میں مزید اضافہ روکنے کیلئے صورتحال میں بلاتاخیر مداخلت کرے۔
نیز یہ کہ ان واق��ات کو تناز��ے کے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کی روشنی میں پرامن حل یعنی 1967سے پہلے کی سرحدات پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دالحکومت القدس الشریف ہو، کی ضرورت و اہمیّت کے ایک اہم حوالے کے طور پر لیا جائے۔
#PTISMT
Chairman Imran Khan has been and will always remain an advocate for the Palestinian cause. He has consistently maintained his stance that oppression, occupation, and peace cannot go hand in hand.
From the first Nakba in 1948, to inhumane treatment and the siege of Gaza, Palestinians have stood alone fighting for their right to peaceful existence.
International community must intervene to stop the escalation to avoid further loss of precious lives. Also, these events should also serve as a reminder that we need a peaceful solution in accordance with the resolutions passed by the UN and OIC — a State of Palestine with pre-1967 borders and Al-Quds Al-Sharif as its capital.
We stand with the brave Palestinian ppl & ask world powers to break their silence & act against Israeli atrocities committed on the Palestinian ppl. Peace can only come through a viable two-state solution. #GazaUnderAttack
تمہیں کیا لگتا ہے کہ پاکستانی قوم جانتی نہیں ہے کہ آج قاسم سوری، علی امین گنڈاپور، علی اعوان، حماد اظہر، مراد سعید مطلوب کیوں ہیں؟
فرخ حبیب، حسان نیازی لاپتہ کیوں ہیں؟
تمہیں کیا لگتا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ جیسی درجنوں خواتین جیلوں میں کیوں ہیں؟
عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، محمود الرشید کونسی گستا��ی کی قیمت چکا رہے ہیں؟
اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان، جنید اکبر جیسے زیر عتاب کیوں ہیں؟
بات اگر ایک عمارت کی تکریم کی ہوتی تو پریس کانفرنسوں والے معاف نہ ہوتے۔ بات اگر کسی ادارے کی تعظیم کی ہوتی تو اس کو سرِ عام گالیاں دینے والے آج منظورِ نظر نا ہوتے. بات اگر “ملک کی سالمیت” کی ہوتی تو ڈان لیک والو، ممبئ حملوں کا الزام اپنی ایجنسیوں پر لگانے والو کے لیے لیول پلئنگ فیلڈ نا سجائ جارہی ہوتی۔
بات جرم کی ہوتی تو عدالتوں میں فیصلے ہوتے۔ ثبوت آتے، دلائل دیے جاتے۔ نو مئی کا تو محظ بہانہ ہے، اصل بات کسی کی انویسٹمنٹ کی ہے۔ بات کسی کی خوشنودی کی ہے۔ بات کسی کی انا کی ہے۔
بات تو ان دکانوں کی ہے جو بند ہوجاتی ہیں اگر ‘آوٹ آف سیلیبس’ قاسم سوری کرسی پہ بیٹھ جاتا ہے۔ اگر علی امین تمہارا جبر سہتے ہوئے قہقہے لگاتا ہے۔ اگر علی اعوان ۱۸ مارچ کو تمہاری گولیوں کے سامنے پلک بھی نہیں جھپکتا۔ اگر حماد اظہر اپنے کاروبار کو تالے لگنے پہ تمہارے قدموں میں نہیں گرتا۔ اگر فرخ حبیب بے خوف ہوکر کالے ڈالوں کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر یاسمین راشد تمہاری ٹیسٹ ٹیوب سیاستدانوں کی اگلی کھیپ کے لیے راستہ نہیں چھوڑتی۔ اگر عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ، صنم جاوید تمہیں صنفِ آہن کی اصل تعبیر بن کر دکھا دیتی ہیں۔ اگر عمر چیمہ، محمود الرشید، اعجاز چوہدری بڑی محنت سے بنائے اس متعصبانہ تاثر کو زائل کردیتے ہیں کہ پنجاب کبھی حاکمِ وقت کے خلاف نہیں کھڑا ہوتا۔
اگر اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان اپنی تمام تر نرم خوئ کے باوجود اصول پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ اگر جنید اکبر تمہاری چالوں کو تمہی پر الٹ دیتا ہے۔ بات اس جسارت کی ہے جو ان ہزاروں کارکنان نے کی جنہیں تم نے کبھی اپنے اصل مجرموں سے سوال پوچھنے کا حق نہیں دینا تھا۔
بات تو ان گناہوں کی ہے جن پر پردہ ڈالنا مطلوب ہے۔ بات اس غداری کی ہے جو ملک کے منتخب سربراہ سے کی گئی۔ بات اس قتل کی ہے جہاں قاتلوں کو یقین تھا کہ ان کے جُبہ پر لگی خون کی چھینٹوں کی جانب کوئ اشارہ نا ہوگا۔ بات اُس عالمی سیاست کی ہے جہاں ہمارے جیسے ملکوں کی عوام کو ایندھن بنا کر افراد کی طاقت کو دوام بخشا جاتا ہے۔ وہ سیاست جس میں قابلِ قبول وہی عناصر ہیں جو بند کمروں میں تسلی دیتے ہیں کہ تم قتل کیے جاؤ ہم زبانی کلامی مذمت سے آگے نا بڑھینگے۔ وہ سیاست جو اپنے کاروباری مراسم کو ان پر ترجیح دیتی ہے کہ جو ۷۶ سال سے اپنے مُردے بھی پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفناتے ہیں۔ وہ سیاست جو اپنی سرزمین کی تقسیم کے نعرے پر قائم ہے۔ وہ سیاست جو دین کی دستار سے اپنے تر دامن ڈھانپتی ہے۔
اسی سیاست سے ہی تو تمہاری طاقتوں کو دوام ہے۔ اسی میں تو ڈیلیں ہوتی ہیں۔ باریاں لگتی ہیں۔ مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ نوراکشتی ہوتی ہے۔ اسی کی بدولت تو تم سی قوتوں کو قبولیت ملتی ہے۔
اُس سیاست کی پروردہ کسی طاقت کو کیونکر ریاستِ مدینہ کا کوئ نام لیوا گوارا ہوگا۔ کسی کا ایبسلوٹلی ناٹ کہنا قبول ہوگا۔
کیسے وہ لوگ قبول ہونگے جو اپنے حق کا سوال کرنا جانتے ہیں۔ جو مقابلہ کرتے ہیں، جو ڈٹ جاتے ہیں۔ جو ملک کو اپنی میراث اور عو��م کو اپنی رعایا نہیں سمجھتے۔
تمہیں کیا لگتا ہے قوم نہیں جانتی کہ تمہیں مطلوب قاسم سوری، علی اعوان، علی امین، حماد اظہر، مراد سعید نہیں ہیں تمہیں مطلوب وہ شعور ہے جس نے انہیں تمہاری طاقت کے آگے حرِف سوال بلند کرنے کی جرات عطا کی۔ تمہیں مطلوب ان کی فکری آزادی ہے۔ تمہیں مطلوب وہ ادراک ہے جس سے تم نے انہیں بے بہرا رکھنا تھا۔۔ یہ ادراک کہ وہ ریاست کا استعارہ ہیں، کوئ ایک فرد�� چند عہدیدار نہیں!