@israr5415 تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تُم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو
ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا
تُم پرندے ہو وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو
میں تُم سے باتوں میں اِس درجہ مگن ہوتا ہوں
تُم مجھے باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو ،
کبھی ہم تمہارے کبھی تُم ہمارے ،،
محبت کے کچھ ایسے بےبس ہیں نعرے،
تمہارے بنا جو ادھورے رہ گئے ،،،
رکھے ایک کونے میں خواب ہیں سارے،
اِک روز یوں بیٹھے بیٹھے عشق زہر سے بولا،
تونے دیکھے نہیں ہوں گے جتنے میں نے ہیں مارے،
Kaif
#قومی_زبان