حضرت صدیق اکبرؓ اونٹنی کے اگلے پاؤں پر ہاتھ مارتےوہ بیٹھ جاتی تو خود اس کی لگام اٹھاتے،ہم عرض کرتےکہ آپؓ ہمیں کیوں نہیں حکم دیتے کہ ہم آپ کو پکڑادیں؟فرماتے میرے محبوب ﷺ نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں
مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 62
اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو " آرمی چیف، وزیر اعظم اور چیف جسٹس ذمہ دار " ہونگے۔ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں۔ہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تسلی چاہتے ہیں، عمران خان سے ملاقات کروائی جائے،اس معاملے پر فیملی ،ڈاکٹر اور پارٹی سیاست نہیں کرے گی اسکی گارنٹی دیتے ہیں ۔ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو رات 10 بجے پاکستان کا ہر چوک ڈی چوک بنادیا جائے گا۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
اسلام آباد پولیس کا کارنامہ چیک کریں : پانچ اگست کو پی ٹی آئی احتجاج پر اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے کچھ ورکرز گرفتار کئے ایف آئی آر کی کہ ان کے پاس ڈنڈے سوٹے گلیلیں تھیں ان میں ایک دونوں ہاتھوں سے معذور شخص بھہ گرفتار کر لیا چھ اگست کو عدالت پیش کیا عدالت نے ایک دن کا ریمانڈ بھی دے دیا پی ٹی آئی وکلا کے بقول انہوں نے عدالت کو بتایا ایک شخص کے دونوں ہاتھ نہیں ہے لیکن پھر بھی ریمانڈ دے دیا گیا 7 اگست دوبارہ پیش کیا گیا تو دوبارہ عدالت کو بتایا گیا تو عدالت نے ملزم کو آگے بلا کرکے کہا ہاتھ کھڑے کرو ، اس نے ہاتھ کھڑے کئے تو دونوں کٹے ہوئے تھے تب جا کر عدالت نے اس کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا ۔۔۔۔ وگرنا پانچ سے سات اگست تک پولیس کو خیال نہیں آیا کہ اس کے تو ہاتھ ہی نہیں ہیں یہ کیسے پتھر پھینکے گا
پانچ اگست کا احتجاج
اسلام آباد پولیس نے دونوں بازوؤں سے معذور شہری کو پتھر اور ڈنڈے مارنے کے الزام میں نامزد کردیا عدالت نے بھی پہلے ریمانڈ دیدیا آج عدالت نے ضمانت منظور کی۔
شہری کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہے۔ سب کو نہ گھبرانے کا پیغام بھی دیدیا۔
ایک طرف وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں ڈرون حملے ، کرفیو اور ناکہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں مگر دوسری طرف اسی وزیرستان کے قدرتی معدنیات کو درجنوں گاڑیوں میں ہزاروں ٹنوں کے حساب سے لے جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔۔۔۔ سوال تو بنتا ہے
"میرا بیٹا 18 مئی کو گرفتار ہوا گرفتاری کے دو تین ماہ بعد تک تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کہاں ہے۔سلمان اکرم راجہ اور دیگر ہمارے وکلاء نے سپریم کورٹ میں اپیلیں کیں اس کے بعد ہمیں ملاقات کی اجازت ملی ۔ہمیں کچھ پتہ نہیں ٹرائل کس طرح چلا کیا ہوا، وکیل بھی سیکرٹ آرمی ایکٹ کا کہہ کر کچھ نہیں بتاتے تھے۔ ڈیڑھ سال بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کرکے سزائیں سنائی گئیں"۔
ملٹری کورٹ سے 6 سال بے جرم سزا پانے والے فہیم حیدر کے والد بزرگوار کی گفتگو
🚨I’ve been saying in my interviews about Imran Khan’s recently developed blood pressure issue. It’s extremely concerning and complete clarity needs to be provided asap at the very least.
یہ وڈیو آپکو بتاتی ہے کہ اس ملک میں قابض طبقے کی نظر میں عوام کی جگہ کہاں ہے ۔۔۔۔
حد ہے ویسے ۔۔
ایک کرسی سامنے بھی رکھی جا سکتی تھی لیکن شاید صاحب بہادر کی شان کے خلاف تھا یہ ۔۔
عمران خان اس ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ عوام نے اس کو ووٹ دیا ہے۔ اس کی صحت کے ساتھ جو کھیل تم کھیل رہے، اس کی ذات کے ساتھ جو ظلم تم کر رہے ہو عوام اسکا حساب لے گی۔
عمران خان کی صحت کو فوری ترجیح دی جائے!
Mir Raza family is a middle-class family from Karachi fighting for justice, and I truly hope this legal battle continues until they get it
Their struggle reminds me of Nazim Jokhio’s case, where an entire village was pressured to boycott his wife because she refused to accept diyat. She was left isolated, with little support and no real protection from the system.
This is the tragedy of Sindh.. whether you are from Karachi or any other part of the province, ordinary families are too often left to fight for justice on their own.
I still remember when Murtaza Wahab (@murtazawahab1) personally went to the airport to receive PPP MNA Jam Abdul Karim, a main culprit in the Nazim Jokhio murder case, and drove him straight to the Sindh High Court to secure protective pre-arrest bail. That image says a lot about how power works in Sindh.
If you are in Karachi, please join the protests and show solidarity with Mir Raza’s grieving parents.
’’میر رضا علی کو گولی پیچھے سے لگی، پسلیاں اور ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، سر کے بائیں حصے میں فریکچر تھا، دائیں پیشانی پر زخم کا نشان تھا، میر رضا کو آنے والی چوٹیں موت سے پہلے کی ہیں‘‘ دوسری پوسٹمارٹم رپورٹ
خودکشی قرار دے کر کس کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے ؟؟؟
میر رضا نے خودکشی نہیں کی، بلکہ تشدد کے بعد بیہمانہ قتل کیا گیا ہے۔ وہ ایک مظلوم شہید تھا، جو زندگی سے بھرپور تھا۔ معزز عدالت اور اسپیشل میڈیکل بورڈ کا شکریہ، جنہوں نے اپنے قانونی اور پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہوئے میر رضا پر لگائے گئے تمام بہتان جھوٹے ثابت کر دیے۔
آپ نےایک نوجوان کو ڈپریس،مقروض،ناامید دکھانےکی کوشش کی۔۔والدین کو ہراساں کیا۔ اےآئی جی پولیس نےاپنےدفتربلاکر کہا مان لیں یہ خودکشی ہے۔ مگر آج ثابت ہوگیا میر رضا نےخودکشی نہیں بلکہ اسےقتل کیاگیا۔انہیں پتہ تھا قاتل کون ہے،وکیل جبران ناصر
پارٹی سے گزارش ہے کہ اتحادیوں سے بات کرکے ستمبر کی بجائےاسی مہینے قومی جرگہ بلائے؛ ہمارے پاس وقت کم ہے ہر گزرتا دن مزید جنازوں کی راہ ہموار کرے گا۔
مراد سعید