سقوطِ ڈھاکہ (1971) کے وقت غاصب قابض جرنیل کا نام یحییٰ اور چیف جسٹس کا نام منیر منیر تھا
جبکہ آج منیر جنرل ہے اور یحییٰ چیف جسٹس۔
کیا منحوس اتفاق ہے 😤🤐
پاکستان تحریک انصاف کے لوگ وہ سنہری اصول بھول چکے ہیں ۔۔کہ نا اپ نے اس طرح کے لوگوں کو جواب دینا ہے نا ہی ان کی پوسٹ کو کوٹ کرنا ہے بلکہ ان کے بیانیے کو ختم کرنا ہے اس اصول کے ذریعے
#NoCommentZeroReach
پوسٹ کو ری پوسٹ کریں اور اس ہیش ٹیگ پر پوسٹ بھی کریں اور عمل بھی
”جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے- پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں“
عمران خان (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مک��ل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“
سقوطِ ڈھاکہ (1971) کے وقت غاصب قابض جرنیل کا نام یحییٰ اور چیف جسٹس کا نام منیر منیر تھا
جبکہ آج منیر جنرل ہے اور یحییٰ چیف جسٹس۔
کیا منحوس اتفاق ہے 😤🤐
عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید کر کے، ان کا بلیک آؤٹ کر کے، اور ان کے ساتھیوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا کر یہ ریاست کس خام خیالی میں جی رہی ہے؟
#جبر_کے_خلاف_نکلو
نام ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان، لیکن بدقسمتی سے یہاں اندھا اور بہرا نظام ہے جہاں ریاستی جبر نے اپنے ہی نہتے عوام کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے
#جبر_کے_خلاف_نکلو
فاشزم کی ان بدترین تاریکیوں میں، جہاں آئین کو بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے اور چادر و چار دیواری کا تقدس تار تار کر دیا گیا ہے، یہ بزدل حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں ڈرا لیں گے؟
#جبر_کے_خلاف_نکلو
تاریخ میں پہلی بار پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ممالک کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے — شکریہ عاصم منیر و محسن نقوی !!
یہ ہوتا ہے جب پر امن سیاسی پارٹی پر دہشت گرد کا لیبل لگاتے ہیں اور اصل دہشت گردوں کی بجائے ساری خفیہ ایجنسیز پی ٹی آئی کو روکنے میں لگ جاتی ہیں۔
عاصم منیر اور شہباز شریف کو چاہیے کہ زیادہ وقت بیرون ملک دوروں کی بجائے پاکستان میں گزاریں-
اور اپنی ایجنسیاں پی ٹی آئی کے سیاسی کارکنوں کی بجائے دہشت گردوں کو روکنے پر لگائیں۔
آزادی سے مراد ہے کہ اپنے وجود، شناخت اور فیصلوں پر کسی بیرونی جبر اور اندرونی مجبوری کو تسلیم نہ کرنا۔ ہمارے ہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ آزادی سے مراد ہے جو جی میں آئے کرنا۔ یہ تو خواہش ہے اور خواہشات غلام کیوں نہیں ہو سکتی؟ مشہور فلاسفر روسو کے مطابق انسان ہے ہی وہ جو "آزاد" ہے۔
#آزادی
انبیاء کرام قوموں کو اشرافیہ سے آزاد کرانے آتے تھے اور انسانوں(قوم) کو انسانوں (اقتدار پر قابض اشرافیہ) کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں ڈالتے تھے۔ اللہ کی غلامی سے مراد ایک ایسی باشعور ٹیم تیار کرتے جو اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں لے کر پو��ی قوم کو
1/2