پھر اُس کی شادی کِسی اور سے ہوگئی، کِتنا سادہ سا جُملا ہے نہ!؟ ، کِسی عربی عدیب نے اُسے یُوں لِکھا ہے کہ ؛ پھر میری مُحبت کے قہقہے کِسی اور کے گھر میں گُونجنے لگے۔۔ 🥀🤎
#اردو_زبان
میں پہلے دن سے کہ رہا ہوں عمران خان کے ساتھ میرے رب کی ذات ہے ۔۔
جس دن سے عمران خان مقبول ہوا کیا تہمتیں اس پر نہی لگای گی مگر اللہ نے اسے مزید عزت دی ۔۔
جس انمول پنکی ڈرگ کوئین کو زرداری صاحب کیلے پھندا بنا کر لاۓ تھے اب زرداری صاحب سے ڈیل ہونے کے بعد اس کو عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کیلے جھوٹے بیانات دلواے جار رہے ہیں ۔
اور وہی ڈرگ کوئین اج بھری عدالت میں چیخ چیخ کر کہ رہی ہے کہ مجھے کہا گیا کہ تم بیان دو کہ تم منشیات اپنی بنی گالہ میں بھجتی ہو ۔۔
کیا کسی نے سوچا تھا ۔۔ وہ تو منشیات فروش ہے چاہتی تو وہ پی ٹی ای کے ہر بندے پر انزام لگاسکتی تھی ۔۔ اس کو تو جیل سے نکلنا تھا ۔۔
اج اک بار پھر عمران خان کے مخالفین زلیل ہو گے ۔ وہ بھی اک منیشات فروش عورت کے ہاتھوں
میرا رب سب دیکھ رہا ہے ظالم کو بھی مظلوم کو ۔ بھی اس کی پکڑ سخت ہے وہ انصاف کرنے والی ذات ہیں ۔۔ انشااللہ میرے رب کا انصاف بہترین ہو گا
گزشتہ سال امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کے میلادِ مسعود کے موقع پر یہ کلپ اس عنوان کے ساتھ نشر کیا تھا:
_"رہبرِ معظم نے شاعر کی اصلاح کر دی"_
اب اس سال اسی کلپ کو اس عنوان کے ساتھ دوبارہ نشر کرتے ہیں:
_" *شہید* سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) نے شاعر کی اصلاح فرما دی"_ 🌹
کیا ایران یہ جنگ ہار سکتا ہے؟
اس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔ اب یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ ایران یہ جنگ ہار سکے۔ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں۔
پہلی جنگ میں جب فیلڈ مارشل کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقات ہوئی اور اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی کہ پاکستانی ایران کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں اور جنگ کے بجائے ایک فکس میچ کے ذریعے جنگ بندی کا فیصلہ ہوا تو فیلڈ مارشل نے اس ملاقات میں ٹرمپ کو صرف دو باتیں کہی تھیں۔ پہلی یہ کہ آپ یہ بھول جائیں کہ جنگ شروع کر کے آپ اس سے نکل سکیں گے کیونکہ ایرانی فوراً متحد ہوجائنگے اور اسکو اپنی بقا کی جنگ سمجھ کر لڑینگے اور جواب میں آپ کو نشانہ بنائنگے جس کے بعد آپ واپس امریکہ نہیں جاسکیں گے۔ دوسرا آپ نے جنگیں روکنے کے نام پر ووٹ لیا تھا آپ کو اسی تک رہنا چاہئے ورنہ آپکی مقبولیت ختم ہوجائیگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کے عوض آپ کو نوبل انعام ملے۔
تب تو جنگ رک گئی لیکن اس بار شائد نیتن یاہو کا داؤ چل گیا اور ٹرمپ دوبارہ جنگ کرنے آگیا۔ لیکن آپ دیکھ لیں اسرائیل اور ایران کے مشترکہ حملے نے ایرانی قوم میں رجیم بچانے کے بجائے یک دم ایک مشترکہ بقا کا احساس پیدا کر دیا۔ یہ احساس ناقابل شکست ہوتا ہے اور اسکو کسی مرکزی کمانڈ کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ ہر شخص اپنے طور پر لڑتا ہے۔
اب امریکہ اور اسرائیل جتنی مرضی بمباری کر لیں۔ عمارتیں ٹوٹیں گی، لوگ مرینگے لیکن آخر کار ایران اپنی خومختاری بچا لے گا۔ ایرانیوں کو شائد اسکا احساس ہوچکا ہے یا اندازہ تھا لہذا انہوں نے اسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کو پورے خطے میں پھیلا دیا ہے تاکہ امریکہ کے لیے اس خطے میں ٹکنا مشکل تر ہوجائے۔ جن ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں کو امریکہ کی وجہ سے بم اور میزائل سہنے پڑ رہے ہیں اب وہ امریکی انخلا چاہتے ہیں۔
سمندر میں موجود امریکی بیڑہ ہٹ ہوا ہے لیکن ڈوبنے سے بچ گیا ہے۔ جنگ ختم ہوگی تو یہ سچائی سامنے آجائیگی۔ لہذا سمندر میں بھی ٹکنا مشکل ہوگا۔ لے دے کر امریکہ کے پاس ایک بہترین ٹھکانہ بچا تھا اور وہ تھا افغانستان۔ جس پر ایرانی بمباریوں کا کوئی اثر نہ ہوتا اور جہاں موجود طالبان رجیم جنگ کے دوران ہی اسرائیل دوستی کو خوش آمدید کہہ رہی تھی۔ لیکن کل پاکستان نے وہاں موجود بگرام ائر بیس پر موجود سارا امریکی اسلحہ، جنگی سازو سامان اور انفراسٹرکچر تباہ کر دیا۔ ساتھ ساتھ اسرائیل کی حامی طالبان رجیم کو مار مار کر اتنا غیر فعال کردیا ہے کہ وہ اب اس پوزیشن میں ہی نہیں رہے کہ کسی دوسرے ملک سے کوئی معاہدہ کر کے انکو اڈے دے سکیں۔
سب سے آخر میں یہ غط فہمی ہے کہ ایران کے پاس 3 ہزار میزائل ہیں۔ ایرانی کرنسی جس بری طرح گری ہے اس کی بڑی وجہ چین اور روس سے بہت بڑے پیمانے پر میزائلوں کی خریداری ہے۔ ایران کے پاس چھوٹے بڑے 30 ہزار میزائل اور ڈرون ہیں اور وہ انکو 1 سال تک چلا سکتا ہے۔ لہذا میرے حساب سے ایران کو اس جنگ میں شکست ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ یاد رکھنا کہ اس جنگ کے بعد پاکستان اور ایران کا تعاؤن دنیا کو حیران کردے گا۔ ایک بہت بڑا منصوبہ پاکستان، چین اور ایران کی راہ دیکھ رہا ہے۔
#Pakistan
#IranWar
آیت اللّٰہ علی خامنائی علامہ اقبال کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف تھے وہ اقبال کی فارسی شاعری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہے گئے کچھ اشعار اکثر اپنی تقاریر میں استعمال کرتے تھے
یہاں تنہا دل حیدر وہاں لاکھوں جفا پیکر
یہاں بس خاتم نیزہ وہاں تیغ و سینہ خنجر
یہاں سوکھا ہے مشکیزہ وہاں سیراب ہے لشکر
یہاں شوق شہادت ہے وہاں شوقین مال و ذر
مقابل مرحب و كے صاحب کردار آتا ہے
علم بردار آتا ہے