Independent journalism is dying & after working for 23 years in mainstream national & international media,I felt the need to start my own independent YouTube channel to bring you people’s stories. Shall be grateful if you would like, share & subscribe https://t.co/heUrWSDypg
ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے سیویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صرف مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کوئی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتماع کو کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو برابر نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف ہے۔
بلوچی شاعری نوجوانوں کو اکسا رہی ہے، اس لیے بلوچی زبان پر کام کرنے والی اکیڈمیوں کو حکومت کے سخت کنٹرول میں رکھا جائے۔
کتابیں ضبط کی جائیں، کیونکہ کتابیں نوجوانوں کو سوچنا سکھاتی ہیں اور سوچنے والا نوجوان خطرناک ہوتا ہے۔
لائبریریاں بند کر دی جائیں، کیونکہ اگر بلوچ نوجوان پڑھنے لگے تو وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنا سیکھ جائے گا۔
کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بلوچ طالب علموں کو غائب کر دیا جائے، کیونکہ تعلیم یافتہ نوجوان ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
آوازیں دبائی جائے، زبان بند کی جائے، کیونکہ بلوچ بولنے لگے ہیں۔
روزگار کے دروازے بند کر دیے جائیں، گھروں تک محصور رکھا جائے، سفر پر پابندیاں لگائی جائیں، تاکہ بلوچ ایک نارمل زندگی کے تصور سے بھی محروم ہو جائے۔
انٹرنیٹ بند کر دیا جائے، کیونکہ بلوچ اس کے ذریعے ریاستی جبر کو دیکھ اور سمجھ رہا ہے۔
بلوچ کو سالہا سال جبری طور لاپتہ کرکے پھر اس معاملے کو جھٹلانا ہے، ورنہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والا ملک دنیا کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا۔
بس یہی پالیسی ہونی چاہئے: بند کرنا ہے، پابندی لگانی ہے، غائب کرنا ہے، مارنا ہے، لیکن کبھی بھی ان پالیسیوں پر غور نہیں کرنا ہے جسکی وجہ سے ایک پوری قوم کا اعتماد ریاست سے ختم ہوچکا ہے،کبھی بھی اس قتل و غارت کو نہیں روکنا جس نے بلوچستان کو لہولہان کر رکھا ہے، جہاں رمضان کے بابرکت مہینے میں پنجگور جیسے چھوٹے شہر میں بیس دن کے اندر بائیس نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے انکی لاشیں پھینکنا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلوچ نوجوان ریاست مخالف بلوچی شاعری یا کتابوں کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ وہ ریاستی جبر، بلوچستان میں برسوں سے جاری پابندیاں، قدغنیں، خونریزی، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اور سوال کرنے والوں کو غائب کر کے جیلوں میں ڈالنے کی پالیسیوں کو دیکھ کر ریڈیکلائز ہورہا ہے، اگر کچھ بدلنا ہے تو بلوچستان کے حالات بدلیں۔ لٹریچر اور کتابوں پر پابندیاں پہلے سے بھی موجود ہیں۔
قوم کی خدمت میں اپنی صلاحیتیں لگاؤ
سچ کی تلاش کبھی نہ چھوڑو
اپنی زبان اور شناخت کا احترام کرو
حوصلہ وہ روشنی ہے جو قید کی دیواروں سے بھی باہر نکل جاتی ہے۔ یہی تمہارا سب سے بڑا فرض ہے، یہی تمہاری اصلی مزاحمت ہے۔
کامریڈ ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
30اکتوبر 2025
#MahrangBaloch
Holding the trials of Baloch Yakjehti Committee leaders inside jail premises is a grave breach of the right to a fair and public hearing guaranteed under Article 14 of the ICCPR. This practice undermines judicial independence and accountability.
We urge @UNHumanRights, @amnesty, @hrw, and @ICJ_org to intervene and press Pakistan to end these violations and uphold the principles of justice and due process.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders #ReleaseBYCLeaders
فکر اسے تو مر زندہ مر بقا فناہی ٹی کڑد دلبری او تخ
پیشتم تہاری آن دیخہ روشنائی ٹی فکر دلبری او تخ
ٹک آیت مہرداران شال نے بخیرٹ کے چلتن آن کی النگ
کاٹما ننا بر سل سیک تینا ساہئ ٹی فکر دلبری او تخ