ملال ہے مگر اتنا ملال تھوڑی ہے
یہ آنکھ رونے کی شدت سے لال تھوڑی ہے
بس اپنے واسطے ہی فکر مند ہیں سب لوگ
یہاں کسی کو کسی کا خیال تھوڑی ہے
پروں کو کاٹ دیا ہے اڑان سے پہلے
یہ خوف ہجر ہے شوقِ وصال تھوڑی ہے
مزا تو تب ہے کہ ہار کے بھی ہنستے رہو
ہمیشہ جیت ہی جانا کمال تھوڑی ہے
گھر کے قریب سے ہی دو بکرے خریدے تھے جن سے خریدے وہ ماں جی روز شام کو آتی ہیں دیکھنے کے لیے۔ ۔ پوچھتی ہیں کیا کھلا رہے ہو۔ ۔ ؟؟
فلاں چیز نہ کھلانا۔ ۔
فلاں وقت پانی پیتے ہیں۔ ۔
کچھ دیر بیٹھ کے چلی جاتی ہیں۔
در اصل یہی قربانی ہے۔ ۔
کچھ لوگ پہاڑ جتنی نیکی کرتے ہیں - اور کنکر جتنا اَجر نہي کما پاتے اور کچھ لوگ کنکر جتنی نیکی کرتے ہیں - اور پہاڑ جتنا اَجر کما لیتے ہیں - نیتوں کا فرق اَجر بدل دیتا ھے •
بچھڑ کے خود کو بھلا کس طرح سنبھالیں گے
وہ مل گیا تو کوئ راستہ نکالیں گے
دل عزیز ذرا چند روز صبر تو کر
وہ باوفا ہے تو اس کو بھی آزما لیں گے
جو خود ہی بیٹھ گئے زندگی کے صحرا میں
ہمارے پاوں کا کانٹا وہ کیا نکالیں گے
حسن کاظمی۔
اس کی درویش نگاہی کا کرم ہے مجھ پر
مصرع تو مصرع مری بات بھی تر ہوتی ہے
میں ہوں وہ لمحہء موجود کہ جس کی عاجز
دل کے درویش کو برسوں سے خبر ہوتی ہے
عاجز کمال