ایک وہی تو ہے جو تم سے بیزار نہیں ہوتا جو یہ جانتا ہے کہ تم اپنی غرض کیلئے اُس کو پکار رہے ہو..
اگر پھر بھی وہ تمہیں سنتا ہے بہت غور سے سنتا ہے
آیک دن تو وہ میری دعائیں بھی سنے گا🤲❤️
ایک دن تو وہ میرے بھی بخت سنوارے گا 🥰
پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ سونیا فاروق کی خودکشی کی کوشش۔
20 گولڈ میڈل اور نو چاندی اور براؤن میڈل لینے والی سونیا فاروق نے خودکشی کی کوشش کیوں کی.
پنجاب یونیورسٹی کے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مجھے جنسی تعلقات بنانے پر مجبور کیا جا رہا تھا ۔ سونیا فاروق ۔
ہاسٹل میں سوتے ہوئے ہماری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں
اور اسے استعمال کر کے ہمیں بلیک میل کیا جاتا ہے ثمرا بشیر
میں نے اس نا انصافی اور اس ظلم کے خلاف تین بار درخواست جمع کروائی مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا ثمرا بشیر
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ہم لڑکیوں کو رات کے ڈیڑھ بجے ہوسٹل سے نکال دیا۔
ثمرا بشیر
آج یکم اگست ہے ۔۔ یہ بچہ ایک اگست 2024 کو پاکستان ریلوے پولیس کو لودھراں ٹرین اسٹیشن پر لاوارث حالت میں ملا تھا۔
آج دو سال ہوگئے اسکو لاوارث ہوئے۔
بچہ بہت ننھا سا تھا بات نہیں کرسکتا تھا۔ ورثاء کو ڈھونڈنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں۔ ہم نے بھی دو بار پوسٹ لگائی تھی لیکن گھر والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کو ایک سرکاری شیلٹر میں دے دیا گیا تھا۔
راتوں کو بچہ اٹھ کر زور زور سے روتا تھا۔ ماں کی آغوش میں جس بچے کو ہونا چاہئے تھا وہ شیلٹر میں ہے۔ راتوں کو اٹھ کر کمرے سے باہر نکل کر دیکھتا کہ شاید امی سوئی ہوئی ہوگی انکے پاس سر رکھ کر سوجائےگا۔ لیکن آج تین سال مکمل ہوگئے کسی نے اس کے لئے رابطہ نہیں کیا۔
بائیں طرف پرانی تصویر ہے اور دائیں طرف حالیہ
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو پاکستان کی گلی گلی میں عام کریں۔ جس کونے میں بھی والدین موجود ہوں ان تک ہماری پوسٹ پہنچ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
1 Aug 2026
#waliullahmaroof
🚨ایک فلسطینی ماں کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے گمشدہ بچے کو IDF فوجیوں کی طرف سے پوسٹ کی گئی سیلفی کے ذریعے ڈھونڈا یہ ایک بہت ہی دل دہلا دینے والی بات ہے جس میں بچے کو باندھ کے IDF فوجی لڑکیاں سیلفی بنا رہی ہیں۔
اسے دوبارہ پوسٹ کریں، دنیا کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
Abubakr Quddusi
بھائی کی محبت اور ایک کمال کی خدمت جو انہوں نے میرے ذمہ لگا دی۔ ۔ ۔ قرآن سے متعلق ۔
۔۔۔۔۔۔۔
چند دن پہلے ایک بزرگ بے اولاد جوڑے کی خواہش پر ان کو وژیول قرآن دیا۔
انتہائی خوبصورت خواہش تھی اس جوڑے کی ۔
بزرگ مجھے بولے تھے ۔
پتر لوگ کہتے ہین محرومی اولاد کی ہے ۔
جب کے مین کہتا ہون اصل محرومی تو قرآن نماز اور عقیدے سے دوری کی ہے ۔
مین 5 پاس ہون ۔ لیکن مجبوریوں کی وجہ سے قرآن نہین پڑھ سکا۔
میرے لئے کوئی طریقہ نکالو قرآن سے دوری ختم ہو جائے نماز تو یاد کر لی تھی وہ پڑھتا رہتا ہون 5 ٹائم ۔
دو سورہ بھی یاد ہین ۔
۔۔۔۔۔۔۔
جب ان کو وژیول قرآن اور پن تجوید والا پہنچایا اس کی وڈیو لگائی تو ابوبکر قدوسی بھائی نے اس پوسٹ بہت پیارا سا ایک کومینٹ کیا۔
اور ویٹس ایپ پر میسج کیا ۔
علیانہ یار فلاں اڈے سے جھنگ کے 3 چار دن میں 250 قرآن رسیو کر لینا۔
پھر اگلے دن بلٹی کی رسید میرے ویٹس ایپ مین موجود تھی جب صبح جاگا۔
مسکرا کر بولا اس خاندان نے بعض نہین ایا ہر جگہ قرآن سے محبت مین عملی طور پر نظر آتے ہین کھڑے ۔ ۔ ۔
عشق عقیدے سے ہو یا قرآن سے یہ خاندان چٹان بن کر کھڑا ہے اپنی جگہ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وصول ہوئے تو دل کو سکون ملا ۔ قرآن ڈبے سے نکال کر چوما اور ابوبکر بھائی کے لئے دعا کی رب کعبہ ان کو عقیدہ خالص نبی پاک والا عطا فرمائین اور ہم سب کو بھی ۔
بہت سارے لوگ گھروں کے لئے اور مساجد کے لئے خواہش کرتے تھے قرآن۔
جہاں مسجد کی تعمیر کی میں نے یا گھر بنایا۔
تو دو چار دو چار کر کے خرید کر پاس رکھتا تھا ۔ ۔اب یہ آسانی ہو گئی ہے ۔
ایک مدرسہ ہے ان کی ضرورت تھی بچوں کو قرآن چائیے تھے ۔ اور کافی مساجد ہین دریائی علاقے میں جہاں قرآن چائیں۔
#SaqibAllyana
"دل دہلا دینے والا منظر"
غزہ میں ایک ماں نے ان خوفناک لمحات کی ویڈیو بنائی، جس میں ان کی کم سن بیٹی اسرائیلی میزائلوں اور قریبی فضائی حملوں کی آواز سن کر خوف سے کانپ رہی ہے.
مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!
اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔
کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میرے والد کا ایک بہت ہی عزیز دوست جسکا نام *** تھا ۔اسکا ہمارے گھر آنا جانا بھی لگارہتا تھا۔
والد کے دوست نے ایک دن مجھے کہا چلو تمہیں جھولا جھلاتا ہوں۔میں خوشی خوشی ساتھ روانہ ہوگئی۔
وہ مجھے ٹرک میں بٹھاکر دور کہیں اپنے ایک رشتےدار کے ہاں لے گیا اور مجھے کہا یہ تمہارے ماں باپ ہیں۔
جیسے جیسے میرے والدین شاید ڈھونڈتے ڈھونڈتے قریب پہنچتے وہ شخص کسی دوسرے رشتے دار کے پاس منتقل کردیتا۔ میں تقریبا 8 سال انکی قید میں رہی چار سے پانچ جگہے تبدیل کئے انہوں نے۔
پھر آخری بار جس گھر میں تھی اس گھر میں ایک بزرگ موجود تھا۔ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بزرگ نے مجھے کہا بیٹا یہاں سے نکل کر تم بھاگ جاو۔ جہاں بھی جاوگی اللہ تمہارا بھلا کرےگا لیکن یہاں سے کسی صورت خود کو نکال دو۔
میں نکل کر ایسے بھاگی کہ پیچھے دیکھا ہی نہیں جاتی رہی جاتی رہی۔
کسی علاقے میں پہنچ کر ایک فیملی کے ہاتھ لگی۔ انہوں نے مجھ رکھ لیا۔ میں 13 سال کی ہوچکی تھی۔ 13 سال کی عمر میں میری شادی کرلی گئی۔
سال 2001 میں میری شادی ہوئی تھی۔8 سال قید اور چھبیس سال شادی کے ہوئے۔34 سال قبل کا واقعہ ہے یہ۔
میری دھندلی یادوں کے مطابق میرا نام گھر میں عندل حفیظ تھا والد کا نام انور تھا اور والدہ کا نام سکینہ تھا۔ اور ہمارے ایک ماموں کا نام نواز ڈوگر تھا۔
ہمارا گھر گاوں میں تھا۔کھیتوں کے درمیان گھر بنا ہوا تھا۔گھر کے باہر کنواں تھا۔قریب میں امرود کا درخت تھا۔اور ایک دربار بھی تھا۔
میں ابھی پانچ بچوں کی ماں ہوں لیکن میرے ماں باپ کی یاد آج تک مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی۔
خدا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
تمام دوست انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
31 july 2026
#waliullahmaroof
🚨 بھارت میں ایک غریب مسلمان بزرگ خاتون کی جانب سے اپنا گھر تعمیر کیے جانے پر انتہاپسند ہندووں نے حملہ کر دیا۔ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اس کا زیرِ تعمیر گھر بھی مسمار کر دیا گیا۔ حملے کی وجہ مذہب اور ذات پات پر مبنی نفرت اور حسد بتایا جا رہا ہے۔
غربِ اردن کے شہروں اور قصبوں (قباطیہ، نابلس، قلندیہ کیمپ اور بیت عمر) میں شہریوں کے گھروں پر بڑے پیمانے پر اسرائیلیوں کے دھاوے اور چھاپے، جن کے دوران گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔
یہ نوجوان بول اور سن نہیں سکتا
سال 2018 میں کہیں سے بھٹک کر شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں کسی نیک دل گھرانے کے پاس پہنچا۔
اس گھرانے نے بہت کوششیں کیں لیکن اسکا خاندان نہیں ملا۔ اشتہارات چلواے لیکن سراغ نہیں ملا۔
جن کے پاس ہے انہوں نے اپنے گھر کے بچے کی طرح رکھا ہے۔لیکن اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔
لڑکا اپنوں کو بہت یاد کرتا ہے۔زبان نہیں ہے آنسوؤں سے اپنا درد بتاتا ہے۔
برائے مہربانی تمام دوست زیادہ سے زیادہ اس پوسٹ کو شئیر کریں تاکہ ایک بےبس معصوم انسان لاوارثی کی زبدگیبسے نکل کر اپنوں کو مل جائے۔
تصویر ان دنوں کی ہے جب گم ہوکر آیا تھا۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
30 july 2016
#waliullahmaroof
جب بھی وقت ملے غزہ کے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آواز اٹھاتے رہا کریں
اللّٰہ تعالیٰ انکے لیے آسانیاں فرمائیں اور انکو ایسا مسلمان لیڈر عطاء فرمائیں جو ایمان کی طاقت سے بھرا ہو جو انکو آزادی دلائے
آمین
"اسرائیل بچوں کا قاتل ہے"
آج رات ڈھائی بجے اسرائیل نے غزہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دس افراد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔
اس کے بعد رات 3:10 بجے اسرائیل نے البریج کیمپ میں ایک اپارٹمنٹ پر بمباری کی، جس میں زید نوفل نامی ایک بچہ شہید اور کئی دیگر افراد زخمی ہو گئے۔
پھر رات 3:45 بجے اسرائیل نے خان یونس کے علاقے مواسی میں ایک خیمے پر بمباری کی، جس میں 8 سالہ رتیل عبداللہ سمیت دو افراد شہید ہو گئے۔
یہاں موجود ویڈیو خان یونس میں خیمے پر کیے گئے حملے کی ہے۔
یہ نوجوان بول اور سن نہیں سکتا
اسکا نام علی رضا ہے اور والد کا نام اللہ دتہ ہے۔ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ملتان کا رہائشی ہے۔
علی رضا 23 مارچ 2017 کو گھر سے نکل کر خانیوال کے ایک روحانی اجتماع میں شرکت کرنے گیا تھا۔اجتماع کے بعد واپس گھر نہیں پہنچ سکا۔
علی رضا کی والدہ دن رات اپنے بچے کے لئے روتی ہے۔صبح شام بیٹے کا چہرہ خیالوں میں ہوتا ہے۔
والدین کا اکلوتا سہارا تھا۔ذہنی طور پر بالکل تندرست تھا۔
ماں کسی دوسرے بچے کو مخاطب کرنے کے لئے بلاتی ہے تو اچانک علی رضا نام منہ پر آجاتا ہے پھر یاد آتا ہے کہ علی رضا تو نہیں ہے۔ سارا دن روتی ہے اور طبعیت خراب ہوجاتی ہے۔
علی رضا ضرور کسی ایسی جگہ گیا ہوگا جہاں وہ کسی کو اپنا ایڈریس بتانے سے قاصر ہوا ہوگا اور کسی نے اپنے پاس رکھ لیا ہوگا۔
آپ انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں ان شاءاللہ علی رضا کا غمگین گھرانہ خوشیوں سے بھرپور گھرانہ بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
29 july 2026
#waliullahmaroof