@SajidFb اس سب کے باوجود کوئی انڈین مسلمان اس جہنم میں آ کر نہیں رہنا چاہتا،آج اعلان کردیں اوردیکھیں ،تمام قوانین انگریزی،عدالتی نظام ،پولیس اور سرکاری انتظامیہ سبھی نوآبادیاتی غلامی کی منہ بولتی تصویر ہے
میرے اکیلے بائیکاٹ کرنے سے کیا ہوگا؟
یہ آپ کے بائیکاٹ کا کمال ہے کہ میکڈونلڈ مسلمان اور پیپسی فلسطینی ہوگئی۔
آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں ۔
ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا میرے ملک کے گوالےدیانت دار ہیں
وزیر نے کہا نہیں بادشاہ سلامت یہ ڈنڈے کا کمال ہے نہیں تو آزما لیجیے
بادشاہ نے آزمانے کا فیصلہ کیا اور ایک حوض بنایا اور اعلان کیا کہ رات کے اندھیرے میں اپنا چہرہ ظاہر کیے بغیرسب ایک گلاس دودھ اس حوض میں ڈالیں گے ۔
تمام گوالے رات کو حوض کے پاس پہنچے لیکن دوسرے دن حوض پانی سے بھرا ہوا تھا
معلوم ہے کیوں ؟
کیونکہ سب نے سوچا کہ میرے ایک گلاس پانی ڈالنے سے کیا ہوگا ۔
آج مہینے کا راشن لینے سپر اسٹور پہنچے تو بھائی لوگ اپنی پروڈکٹ پر ڈسکاؤنٹ دے رہے تھے بلکہ نوبت تو یہ آچکی ہے کہ اپنی پروڈکٹ اسکول وکالج میں مفت تقسیم کررہے ہیں
سپر اسٹور جانے سے قبل ہی ہم اور ہماری فیملی تو یہ طے کر چکی تھی کہ کوئی ایسا صابن ،دودھ ،آئل کوئی بھی ایسی پروڈکٹ نہیں لیں گے جس میں ہمیں اپنے مسلمان بھائی کے خون کی بو آتی ہو ۔۔۔۔۔۔ہمیں اپنے بچوں اور بچیوں کی سسکیاں اور چیخیں سنائی دیتی ہوں ۔
ہم نے پاکستانی پروڈکٹ ہی خریدنی ہے بچے بھی ساتھ تھے الحمد للہ اس میں ہم کامیاب رہے
ایک عرض عوام سے اپنی پروڈکٹ کو فروغ دیجیے اپنے لوگوں کے کاروبار کو مستحکم کیجیے ۔اس کا فائدہ آپ ہی کو لوٹ کر ملے گا۔
دوسری۔ بات فیکٹری مالکان سے اپنی پروڈکٹ دیانت داری سے تیار کیجیے اس کی کوالٹی اس قدر شاندار ہو کہ لوگ باہر ملک کی پروڈکٹ کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھیں بھی نہیں۔
ابتداء کیجیے کامیابی آپ کے قدم چومےگی ۔
یہ آپ کے بائیکاٹ کا کمال ہے کہ میکڈونلڈ مسلمان ہو گیا اور پیپسی فلسطینی ہوگئی ۔