آرمی چیف کا طیارہ ہائی جیک کرایا،انہیں آپ نے جیل سے نکال کر سرور پیلیس جدہ پہنچایا، پھر پکڑے گئے پھر جیل سے نکالا شاہی طیارے پر دوحہ اور لندن پہنچایا اور پھر ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا جو بویا وہی کاٹنا پڑتا ہے اب گلہ کیسا ؟؟ مولانا نے تو صرف اصلاح کی ہے
جو لوگ گرفتار ہوۓ ہیں اب اطلاعات آ رہی ہیں ان میں اسحاق ڈار کے نواسہ اور بتیجھا شامل ہیں
جو FIR درج ہوئی ہے اس میں بہت گندی اور غلیظ تفصیلات ہیں
جن دو خواتین نے FIR درج کروائی ہے وہ ملک سے روانہ ہو چکی ہیں
شہباز گل
پنجاب حکومت نے ایک کالا قانون پاس کرانے کی کوشش کی
جب واویلا ہوا تو کہا گیا ایسا قانون انگلینڈ میں بھی ہے۔۔۔
انگلینڈ میں تو جناب وزیراعظم کی بیوی ٹرین میں بغیر ٹکٹ پکڑی جائے تو
وزیراعظم کو گھر جانا پڑتا ہے
لیکن یہاں۔۔۔۔
ڈھٹائی سے کہتے ہیں ہاں خریدا ہے بھائی جہاز ۔۔۔
رضا ڈار کیس:
کیس کی کافی تفصیلات تو میں نے اپنے "وی لاگ" میں پبلش کر دی ہیں لیکن ایک اہم شخصیت "باس - Boss" نہ تو پکڑا گیا اور نہ پکڑا جائے گا۔ اب شاید وہ لڑکیاں واپس جا کر Boss کو گوگل پر پہچان لیں اور ایک ویڈیو بھی جاری ہو جائے.
باس کو بچایا جا رہا ہے 4 لوگ پکڑے گئے ہیں پانچواں باس کون ہے جس کا نہ ہی نام سامنے آیا نہ ہی تصویر نہ اب تک پکڑا گیا ہے پانچواں بندہ رضا ڈار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور کرپٹو کی گیم بھی اسی کی ہے باس اتنی بڑی طاقتور شخصیت ہے اگر اس کا نام سامنے آ جاتا ہے تو استعفوں کی لائن لگے گی
سید ذیشان
تو فرمائیے محترمہ اب ان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔۔؟
خدانخواستہ اگر یہی درندے آپ کے خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ ایسا ہولناک جرم کرتے تو آپ کی نگاہ میں ان کا کیا انجام ہونا چاہیے بتائیے۔۔۔
رضا ڈار کے ساتھ قانون ضابطہ دیکھا جائے گا یا سی سی ڈی استعمال کی جائے گی ۔۔؟
وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا نواسہ رضا ڈار ہالینڈ اور وینیزویلا کی خواتین کو اغواء اور زیادتی کے بعد ان لڑکیوں کی وڈیوز بنا کر بلیک میل کرتے ہوئے لاکھوں ڈالرز کا مطالبہ کرتا رہا۔
اس سے پہلے اسحاق ڈار کا بیٹا علی ڈار 100 ملین ڈالرز کرپٹو جوئے میں ہار چکا ھے
کون بول رہا تھا مظفرآباد آج کُھلے گا
انتظامیہ پریس کانفرنس کرنے والے تاجروں کو ڈھونڈ رہی ہے😹
دکانیں کھولنے کے لیے مسجدوں میں اعلان جاری ہیں
مگر ایک نعرہ ایک ہی آواز
بند مطلب بند
جو کچھ ہورہا ہے آج یہ کشمیری بچی خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے یہ بڑی ہوکر تعلیم حاصل کرکے اسی شعور کو لیکر آگے بڑھے گی پھر فسطائی حکمران اسکا نام ماہ رنگ راولہ کوٹی رکھ دیں گے جیسا کہ ماہ رنگ بلوچ کو لانگو کہتے ہیں یہ، کیونکہ شناخت سے یہ رجیم خوفزدہ ہے
کل رات کو ایکشن کمیٹی کے بندوں کو اٹھایا گیا آج ان سے دوکانیں کھولنے کے لیے پریس کانفرنس کر کے انہیں ریلیز کیا گیا پریس کانفرنس سے لوٹنے کے بعد تاجر بھائی مظفرآباد سے غائب ہو گے ابھی تک کوئی دوکان نہیں کھولی گی ۔