اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
The friendship between PM @ImranKhanPTI and HH Sheikh Tamim was among the warmest in our region's diplomacy — from his 2019 visit to Doha, welcomed by thousands of Pakistanis in Qatar, to the Amir's own visit to Islamabad soon after. That bond between our nations endures. Our condolences on the passing of the Father Amir remain heartfelt.
A trillionaire African born migrant calls for an American born citizen to be deported for exercising his 1st amendment right to free speech.
Welcome to the United States of Israel.
جہاز خریدا ہے بھئی
گندی ویڈیوز سے بلیک میل کیا ہے بھئی
الیکشن مینڈیٹ چھینا ہے بھئی
فوج سے ڈیل کی ہے بھئی
جعلی میڈیکل رپورٹس بنائی ہیں بھئی
اثاثوں کی منی ٹریل نہیں ہے بھئی
مشرف سے بھی ڈیل کی تھی بھئی
یاسمین راشد سے ہارے ہیں بھئی
مہر شرافت سے ہارے ہیں بھئی
سیٹیں سترہ ہی ہیں بھئی
Ningún ser humano -y, desde luego, ningún niño o niña- debería sufrir el horror que se vive en Gaza.
Hoy, nuestro país acoge a 100 personas palestinas, 20 de ellas menores, junto a sus familias, para que puedan recibir el tratamiento que necesitan.
Atenderlas es una obligación moral. Defender su derecho a volver a un hogar en paz, también.
La indiferencia nunca puede ser una opción.
Ashura is a time of remembrance, sacrifice and reflection.
Today, on the 10th day of Muharram, we are reminded of Imam Hussain's unwavering commitment to truth and dignity. His timeless legacy reminds us of the enduring values of faith, service to one another, and the belief that justice is always worth fighting for.
Our City’s strength comes from the many faith traditions that shape it — and our shared struggle against injustice and oppression.
May we carry these values forward as we continue building a more just City for every New Yorker.
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض