I am going to give Mentorship to 30 willing students free of Cost with 10 grand session and Assignment. If you want to join Here Is The Step
1. Follow This Tweeter Handle
2. Retweet this tweet with Mention of 5 Friends
3. Write Comment Done
تحریک انصاف کے مخالف الیکشن لڑنے والے سردار لشکری رئیسانی کی بلوچستان اور کوئٹہ میں کئے گئے تاریخی دھاندکے پر پریس کانفرنس: پوری دنیا میں ریاست الیکشن کراکے ملک کو حقیقی نمائندوں کے حوالے کرتے پاکستان واحد ملک ہے جہاں پارلیمنٹ کو کاروبار کا مرکز بنایا گیا آج صوبے کی تمام سڑکیں بند ہیں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر بیٹھے ہیں لوگوں کا عدالتوں پر بھی اعتماد نہیں ورنہ آج سڑکوں پر نہ بیٹھے ہوتے۔
یہ ہیں وہ صدام خان ترین نوجوان جنہوں نے اگلے 50 سال تک سب ملک دشمنوں کو ٹکر دینی ہے...
شیر پاکستان کا ہیرو ،قوم کا ہیرو... ایسے ہی نوجوانوں کی ملک و قوم کو ضرورت ہے۔
شیر پاکستان سے بیٹ چھینتے ہوئے بھول گئے کہ وہ آل راؤنڈر ہیں۔
اب ان کی جیت چوری کرنے سے پہلے انہیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ ایک تیز گیند باز بھی ہیں۔
نیازی جو کہتا ہے سچ ہوتا ہے۔
یہ ہے نر کا بچہ DPO گجرات... جس نے اوپر سے ملے غلط احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور آج اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا
پہلے بھی عوام کے حقوق کے لیے کھڑے رہے
ایسے افسر ہمارے اصل ہیرو ہیں
جب فرعون کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے موسی کے لشکر کے لیے پانی میں رستہ بنایا تو اللہ نے اُسے ایک آخری موقع دیا تھا حق کو تسلیم کرنے کا۔ یہ ماننے کا کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو قادرِ مطلق ہے۔ کہ فرعون کوئ نہیں ہوتا خلقِ خدا کے فیصلے کرنے والا۔ مگر فرعون اپنی طاقت کے غرور میں مست چلتا گیا۔ اس کے تکبر نے اُسے سامنے کی حقیقت نہیں دیکھنے دی۔ یہ حقیقت کہ اللہ تعالی لا الہ الا للہ پر ایمان رکھنے والوں کی پشت پر ہے۔ یہ کہ اُس کی خدائ جھوٹ پر کھڑی ہے۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک چلا گیا تھا کہ وہ خود کو ملنے والے آخری موقع کو بھی نہیں پہچان سکا۔
موسی کے لشکر کے سامنے بھی تو ایسا لمحہ آیا تھا کہ جدھر وہ نعوذ باللہ اللہ کی کبریائ سے مایوس ہو کر اُس کی حکمت پر سوال اٹھاتے۔ پیچھے خدائ کا دعویدار، آگے لپکتی لہریں۔ نا آگے جا سکتے نہ پیچھے مڑ سکتے۔ تھے تو وہ بھی انسان۔ ایک لمحے کو شاید انہوں نے بھی سوچا ہو کہ اُن کے سفر کا انجام بس یہی تھا۔ مگر کیا چیز تھی جو انہیں فرعون کے لشکر سے مختلف بنا رہی تھی؟ ایمان۔ ایمان کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنا سرجھٹک کر اللہ پر بھروسہ رکھ کر آگے بڑھتے۔ کہ وہ اپنی reality کو confront کرتے، کیونکہ وہ حق پر تھے۔
فرعون کی فرعونیت اور اہلِ ایمان کا انجام صرف اس ایک لمحے کے فیصلے پر مربوط تھا۔ وہ ایک لمحہ جس میں فرعون نے اپنے تکبر میں رُکنے سے انکار کیا۔ وہ ایک لمحہ جس میں اہل ایمان نے کسی وسوسے کو دل میں جگہ نہ دے کر جھکنے سے انکار کیا۔ اُس ایک لمحے نے دونوں لشکروں کا انجام لکھا۔ اللہ چاہتا تو وہ فرعون کو اس لمحے سے پہلے بھی غرق کرسکتا تھا۔ اللہ چاہتا تو ایمان والو کو کسی اور راستے بھی نکال سکتا تھا اُس کی خدائ میں کون سی بات ناممکن تھی؟
مگر اللہ نے اُس ایک لمحے میں دونوں لشکروں کو موقع دیا۔ ایک کے تکبر نے اُسے غرق کردیا۔ دوسرے کے توکل نے اُسے امر کردیا۔
میرے پاکستانیو!
اللہ تبارک و تعالی جب ہم سے پچھلی قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اِن سے سبق سیکھو۔ آج ہم ایسے ہی ایک لمحے میں کھڑے ہیں۔ وقت کا فرعون اپنی طاقت کے نشے میں نقارۂ خدا کو جھٹلا چکا ہے۔ آپ کے فیصلے پر بارگیننگ اور ڈیلیں کی جارہی ہیں۔ اقتدار کا فیصلہ مفادِ عامہ/ ملکی مفاد نہیں اپنی ذات اور اپنے آقاؤں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر چند افراد اپنی طاقت کو دوام دینے کی تگ و دو میں ہیں۔
مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ جو ایمان ہمیں اس کنارے تک لے کر آیا ہے وہی ہمیں یہ دریا پار بھی کرائیگا اور اسی پانی میں ان کا تکبر بھی غرق ہوگا۔ ہمیں نظر اپنی منزل پر رکھنی ہے اور دل میں وسوسوں کو جگہ نہیں دینی۔ یہ اپنا آخری موقع گنوا چکے ہیں اور ہمیں اللہ کے بھروسے پانی میں قدم رکھنا ہے۔
اپنے امیدواروں کی پشت پر کھڑے رہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو سال کی فسطائیت اور ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کیا ہے۔ صرف اللہ اور آپ کے بھروسے۔ یہ آگے کے مرحلے بھی آپ کی سپورٹ سے طے کریں گے۔
اگر آپ کے امیدوار جیت گئے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا کام یہاں ختم ہوگیا ہے۔ آواز اٹھاتے رہیں جس طرح ستائیس سال آپ کے لیڈر نے آپ کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
یاد رکھیں یہ الیکشن نہیں ہماری آزادی کی جنگ ہے۔ ہمارے لیے ایک ایک حلقہ اہم ہے۔ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام حلقوں پر فارم-۴۵ کے مطابق حتمی نتائج مرتب ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پرامن طور پر متعلقہ آر او آفس کے باہر بیٹھیں اور تب تک بیٹھے رہیں جب تک درست نتیجہ جاری نہیں ہوتا۔
میں جانتا ہوں ہم میں سے بہت سے مایوس ہورہے ہوں گے۔ بہت سوں کے ذہن میں یہ ڈالا جارہا ہوگا کہ تمہارا اختیار بس یہیں تک تھا۔ مگر یاد رکھیں بحیثیتِ قوم ہماری زندگی موت کا فیصلہ اس لمحے نے کرنا ہے۔ اگر ہم ڈٹے رہتے ہیں۔ ہم اِن کی خدائی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار نہیں کرتے تو اُس ذات کے لیے نہ کل پانی میں رستے بنانا مشکل تھا نہ آج مشکل ہے۔
جو لوگ پی ایم ایل این کا نتیجہ مرتب کر رہے تھے، انہوں نے مجھے خود بتایا کہ نون لیگ ہر جگہ سے ہار گئی ہے، خدا کے لیے عوام کے ساتھ ایسا مذاق نہ کریں: منصور علی خان
اٹک : فتح جنگ میں منعقدہ سالانہ میلادِ مصطفےٰ (ﷺ) و حق باھُو کانفرنس میں شرکت اور خصوصی خطاب
خطاب کا موضوع"اولیاء اور صالحین کی صحبت اور تزکیہ نفس"
گفتگو کے اہم نکات:
- اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے،
كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
ترجمہ: " سچوں کے ساتھ ہو"(التوبہ،119)
حضرت سلیمانؑ کے ہُد ہُد کی نظر ملکہ بلقیس کے لشکر پہ پڑی اور اُس نے لشکر کا احوال حضرت سلیمانؑ سے بیان کیا۔ اس کے بعد لشکر کے قبولِ ایمان کا واقعہ ہے(سورہ النمل)۔ اس میں ہمارے لئے ایک یہ پیغام بھی موجود ہے کہ اللہ والوں کی صحبت میں رہنے والے پرندے کی نظر کے سبب وہ لشکر نورِ ایمان سے منور ہوا۔ اولیائے کرام فرماتے ہیں کہ بُروں کے بادشاہوں سے اللہ والوں کے پرندے بھی بہتر ہیں کیونکہ قومِ سبا کے ایمان کا سبب ہدہد پرندہ بنا ۔
- جیسے عطر ہر کسی کو خوشبو دیتا ہے اسی طرح اللہ والوں کی صحبت سے ہر کسی کو فیض ملتا ہے۔ حضرت سلطان باھُو فرماتے ہیں
اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ھُو
نفی اثبات دا پانیط مِلیس ہر رگے ہر جائی ھُو
اندر بوٹی مُشک مچایا جاں پھلاں تے آئی ھُو
جیوے مرشد کامِل باھُوؒ جیں ایہ بوٹی لائی ھُو
یعنی مرشدِ کامل کی صحبت سے جو اللہ کا ذکر ملا اس نے اندر کی پوری کائینات کو تبدیل کر دیا اور اللہ کے رنگ سے رنگ دیا اور اُس کی خوشبو سے معطر کر دیا۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ روم کا ملاں اس وقت تک لوگوں کا روحانی رہنما نہیں بنا جب تک شمس تبریز کی غلامی میں نہیں آیا۔ حضرت سلطان باھُو فرماتے ہیں
سبھے مطلب حاصل ہوندے باھُوؒ جدپیر نظر اک تکّے ھُو
- قرآن کریم میں حضور اکرم ﷺ کے متعلق بیان فرمایا گیا ہے وَيُزَكِّيهِمْ (البقرہ، 129) یعنی آپﷺ مومنین کا تزکیہ فرماتے ہیں۔ مرشدِ کامل اسی سنت کے مطابق نفس کا تزکیہ کرتا ہے۔ یعنی انسان کے اچھے خواص کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور بُرے خواص کا خاتمہ کرتا ہے۔اس دوران آنے والی تبدیلیوں کو انسان قبول کرے تو سے مکمل فیض ملتا ہے۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ حضرت علی(رض) کا لقب ابو تراب تھا جس کا معنی تھا کہ آپ کی اپنے جسم پہ حکمرانی تھی جسے آپ نے اللہ کی رضا کے تابع فرمایا۔ اپنی خواہش کو اللہ کے تابع کرنا نفس کیلئے گراں ہے۔ اسے صوفیاء مرنے سے پہلے مر جانا(موتوا قبل ان تموتوا) سے تشبیہ دیتے ہیں۔
- ملک الموتؑ نے حضرت ادریسؑ سے دوستی کی۔ حضرت ادریسؑ نے ملک الموت سے روح قبض کر کے جسم میں واپس لوٹانے، احوالِ جہنم کا مشاہدہ کروانے اور جنت کی سیر کا فرمایا۔ جب سیر ہو چکی تو حضرت ادریسؑ نے فرمایا اللہ کے وعدہ کے مطابق اب میں جنت میں ہمیشہ رہوں گا جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ حکیم غزنوی سنائی فرماتے ہیں کہ انسان اگر باغِ جنت چاہتا ہے تو مرنے سے پہلے مر جائے کہ اس طرح حضرت ادریسؑ باغِ جنت میں پہنچ گئے۔
- نمازِ وقتی اپنے وقت پہ جبکہ نمازِ دائمی ہر سانس کے ساتھ ادا ہوتی ہے جو خفیہ قلبی ذکر اللہ ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے
وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
ترجمہ:" اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام"
حضرت سلطان باھُو کے سلسلہ مبارک سے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین اسی حکمِ قرآن کے مطابق اسم اللہ ذات کے قلبی ذکر کا پیغام عام کر رہی ہے۔
(2/2)
Annual Melad e Mustafa SAWW and Haq Bahoo Conference Branch Fateh Pur Distt Layyah Monday, January 1, 2024.
Presided and Special Address by His Excellency Sahibzada Sultan Ahmed Ali Sb (Sec Gen Islahee Jamaat)
#IslaheeJamaat#Alarifeen#SultanBahoo#Layyah
میرے والد کو جتنی بار مرضی اغوا کریں نہ میں ہمت ہاروں گی نہ میری دادی جان ۔ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔اگر یہ چاہتے ہیں کہ ہم ڈر جائیں گے اور میری دادی جان الیکشن نہیں لڑیں گی تو یہ کبھی نہیں ہوگا ۔۔
رہنما تحریک انصاف زاہد اقبال چوہدری کے پاؤر آف اٹارنی وکیل عبدالوہاب بلوچ کے ساتھ نقاب پوش پولیس کے لوگوں کا یہ سلوک قابل مزمت ہے، دراصل یہ گریبان عبدالوہاب کا نہیں پھاڑا گیا، یہ ہر اس شخص کا گریبان پھاڑا گیا ہے جو رُول آف لاء پر یقین رکھتا ہے۔
#PakistanUnderFasicsm
”میرے مُلک کا فیصلہ، میرے مُلک کے لوگ کریں گے۔ کوئی بند کمرے میں فیصلہ نہیں کریگا، یہ 24 کروڑ پاکستانیوں کا حق ہے اور وہی فیصلہ کریں گے۔“
عمران ریاض خان
#فروری_8_عہدوفا_کادن#ووٹ_نظریہ_عمران_خان_کا
Lahore is densely populated city in Pakistan where thousands of people are exposed to polluted air every day. City is considered most polluted city in world, & residents face health problems, especially breathing problems. Govt. is taking steps to control the worst situation but more intensive efforts are needed for the welfare of citizens & protection of environment. We all should play our role to mitigate pollution & encourage climate friendly activities.
یومِ اقبال ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ فکرِ اقبال پر مملکتِ خداداد پاکستان کی تعمیر کی جائے۔ مفکرِ مشرق و مدبرِ مغرب حکیم الامت کے افکار آج بھی بالخصوص امتِ مسلمہ اور بالعموم انسانیت کے لیے خود داری اور ترقی کا پیغام ہے۔
برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کر
یہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کُلاہ
#IqbalDay