ان ویڈیوز کو دیکھیں اور پھر یہ پڑھیں👇
عالمی منصوبہ یہ تھا(مگر آگے حافظ آ گیا)۔۔۔کہ
عمران کے ہاتھوں پاکستان کو ڈیفالٹ کروا کر"بیل آوٹ"کے بدلے نیوکلئیر پروگرام"سرنڈر"ہو۔۔۔
پھر طالبان/بلوچ علیحدگی پسندوں سے پاکستان کے 3 حصے کروا کر"پختونستان"(بشمول گلگت بلتستان اور بلوچستان کے پشتون علاقے) فضل الرحمن کے حوالے ہو۔
(پنجابی فوج کہہ کہہ کر لسانیت سے فوج میں پھوٹ پڑے اور خانہ جنگی ہو)
بلوچستان۔۔الگ ملک بن کر"پختونستان"اور لینڈ لاکڈ افغانستان کو سمندر تک رسائی دے۔۔
سندھ کے پاس"سمندر"ہو گا
جبکہ پنجاب کے پانی کا کنٹرول "پختونستان"(افغانستان) کے پاس ہو گا۔۔لہذا
پنجاب کی زراعت کی"گچی"ہر وقت پکڑی ہوئی ہو گی۔
پنجاب اور سندھ میں مادر پدر آزاد ماحول پیدا کیا جائے گا۔
جہاں نئی طرح کا عمرانی فرقہ متعارف ہو گا جس کا"روحانی پیشوا"۔۔۔عمران نیازی ہو گا۔
یہ"ماسٹرز"کا منصوبہ تھا۔مگر
اللہ کا منصوبہ چلا اور پھر"حافظ" آوٹ آف سلیبس فرشتہ بن کر(ن لیگ کے ہاتھوں) آ گیا۔
اور ان کے سارے منصوبے خاک میں مل گئے۔
اس لیے فضل الرحمن ٹولہ اور عمران نیازی بمعہ زومبیز
"حافظ" کے اتنے خلاف ہیں۔
اسد آر چوہدری)
https://t.co/a1Hy6Ac0Ed…
@RoymukhtarRoy جنگِ نہاوند (642ء): اس فیصلہ کن جنگ کے بعد ساسانیوں کی طاقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور آخری ساسانی بادشاہ یزدگرد سوم 651ء میں مارا گیا، جس کے بعد پورا ایران اسلامی قلمرو میں شامل ہو گیا
@RoymukhtarRoy جرنیل حضرت سعد بن ابی وقاصؓ: انہوں نے 636ء میں جنگِ قادسیہ کی قیادت کی، جس میں ساسانی سلطنت کی مرکزی فوج کو شکست ہوئی اور ایران کا دارالحکومت مدائن (Ctesiphon) مسلمانوں کے کنٹرول میں آ گیا.
@RoymukhtarRoy خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ: ایران کی مکمل فتح حضرت عمرؓ کے دور میں ہوئی۔ آپ نے مدینہ منورہ سے بیٹھ کر اس عظیم مہم کی نگرانی کی اور مربوط فوجی حکمتِ عملی تیار کی. [1]
@RoymukhtarRoy خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ: آپ کے دورِ خلافت میں ایران (جو اس وقت ساسانی سلطنت کہلاتا تھا) کی سرحدوں پر پیش قدمی شروع ہوئی اور حضرت خالد بن ولیدؓ نے عراق کے زیریں علاقوں میں ابتدائی فتوحات حاصل کیں. [1, 2]
@FerdaCagla_@ConflictTR Müslümanlar birleşiyor—Pakistan, Türkiye ve Suudi Arabistan buna örnek teşkil ediyor—ancak diğer Müslümanların da Yahudilerle olan bağlarını koparıp bu ittifaka katılmaları gerekiyor.
@PressTV Iran should now abandon its use of proxies and conduct itself like a responsible nation; it has consistently incited Shia-Sunni strife among its neighbors and in other Muslim countries.