مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اس کے
فصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پر
کماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
سپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
قلندران وفا کی اساس تو دیکھو
تمہارے ساتھ ہے کون آس پاس تو دیکھو
سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے
کہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہ
اسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مرا قلم نہیں اس دزد نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
سرشت عشق نے افتادگی نہیں پائی
تو قد سرو نہ بینی و سایہ پیمائی
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
#ستمبر27_انقلاب_کی_دستک
رکھی تھی تصویر تمہاری آنکھوں میں
ہم نے ساری رات گزاری آنکھوں میں
رات ہوئی تو سارے بدن میں پھیل گئی
دن بھر جتنی آگ اتاری آنکھوں میں
ساری ساری رات تماشہ چلتا ہے
آئے جب ترا خواب ہماری آنکھوں میں
جیتے جی دھندلا جائے نا ممکن ہے
جینے کی امید ہماری آنکھوں میں
جاذلؔ ہر منظر سے حیرت چن چن کر
ڈال رہا ہوں باری باری آنکھوں میں
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
مشکلوں سے جو ڈر گئے ہوتے
زندہ کب رہتے مر گئے ہوتے
وہ نہ کرتے جو رہبری اپنی
ہم نہ جانے کدھر گئے ہوتے
گھر ہمارا اگر نہیں ہوتا
حادثے کس کے گھر گئے ہوتے
شہر کی زندگی سے بہتر تھا
گاؤں میں اپنے مر گئے ہوتے
کاش ہم بھی کسی کی راہوں میں
خاک بن کر بکھر گئے ہوتے
زندگی میں کبھی نعیمؔ آنسو
دو گھڑی تو ٹھہر گئے ہوتے
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
تمہاری جرأت کے شایانِ شان لفظ کہاں سے لاؤں؟ تمہارے حوصلے کو سلام لکھوں، تمہاری استقامت کو تاریخ، یا عمران سے تمہاری وفا کو عشق کی آخری حد؟ تم نے جبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ عہد نبھایا ہے جسے نبھانے کے لیے عمریں بھی چھوٹی پڑ جاتی ہیں۔ ✊🙏🏼
#ستمبر27_لانگ_مارچ_بالقسط
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
منم محوِ خیالے در خیالِ یار می رقصم
چو دیدم ہر طرف ہر سو جمالِ یار می رقصم
بحق پیوستہ ام ہر دم بعالم گرچہ میمانم
بہ دیدارِ خودم بادیدہ بیدار می رقصم
خوشا آزادِ یکتائی مبرہ از من و مائی
بشوخی و برعنائی سرِ بازار می رقصم
ھوالحق بعد حق داردانا الحق قرب حق باشد
بقرب حق انا الحق گویم و بردار می رقصم
ندارم قید جائے از برائے پائے رقصیدن
گہے در قلب رقصم گاہ در انوار می رقصم
بہر دم می سرائید از لسانِ حالِ سوداگرؔ
خوشا ذوقم کہ پیشِ حضرت سردار می رقصم
ترجمہ
میں اپنے محبوب کے خواب میں رقص کرتا ہوں
میں نے دیکھا کہ میں اپنے محبوب کے گرد و پیش رقص کناں ہوں
میں حقیقی طور پر جڑا ہوا ہوں، مگر ہمیشہ تمہارے ساتھ رہتا ہوں
جب میں خود کو دیکھتا ہوں تو جاگ اٹھتا ہوں اور رقص کرتا ہوں
مبارک ہو وہ وحدت کی آزادی جو 'میں' اور 'ذات' کے تصور سے پاک ہے
میں بازار میں بے تکلفی اور شوخی کے ساتھ رقص کرتا ہوں
اگر سچائی، سچائی کے ہی تعاقب میں ہو، تو وہ سچائی کے عین قریب ہے
میں سچائی کے قریب رہوں گا اور تمہارے ساتھ رقص کروں گا
رقص کرنے پر مجھ پر کوئی پابندی نہیں ہے
کبھی میں اپنے دل میں رقص کرتا ہوں، تو کبھی روشنیوں کے درمیان
آخرکار، تم سوداگر کی زبان سے نغمہ سرا ہوتے ہو
میں حضرتِ سردار کے حضور رقص کر کے خوش ہوں۔
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر
کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!
مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!
کوئی دستور نافذ کر
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
قریب موت کھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
قضا سے آنکھ لڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے
بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
نہیں امید کہ ہم آج کی سحر دیکھیں
یہ رات ہم پہ کڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
ابھی نہ جاؤ کہ تاروں کا دل دھڑکتا ہے
تمام رات پڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
پھر اس کے بعد کبھی ہم نہ تم کو روکیں گے
لبوں پہ سانس اڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
دم فراق میں جی بھر کے تم کو دیکھ تو لوں
یہ فیصلے کی گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
لمحہ لمحہ کہہ رہی ہیں کچھ فضائیں آگ کی
ذرہ ذرہ آ رہی ہیں کیا صدائیں آگ کی
خشک پیڑوں کے لبوں پر کیا دعائیں ہیں سنو
چھا رہی ہیں ہر طرف دیکھو گھٹائیں آگ کی
کوچہ و بازار بھی دیوار و در بھی آگ ہیں
اک اشارہ سا ہے فصلیں لہلہائیں آگ کی
آگ کی لہریں ہیں یا لوگوں کی سانسیں ہیں یہاں
دیکھنا یہ بستیاں اب بن نہ جائیں آگ کی
جسم تو کب کا جلا اب روح تک جاتی ہے آنچ
چل رہی ہیں تیز کیسی یہ ہوائیں آگ کی
اڑ رہا ہے اک بگولا آگ برساتا ہوا
کھیتیاں سب نذر لوگو ہو نہ جائیں آگ کی
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
قصیدہ فتح کا دشمن کی تلواروں پہ لکھا ہے
جو ہم نے نعرۂ تکبیر یلغاروں پہ لکھا ہے
شناسائی بھی تیرے شہر میں جب اجنبی ٹھہری
تو اپنا نام ہم نے گھر کی دیواروں پہ لکھا ہے
شب غم آسماں کو تاکتا رہتا ہوں پہروں یوں
کہ جیسے گردش قسمت کا حل تاروں پہ لکھا ہے
عمل سے دوستو دنیا ہے جنت بھی جہنم بھی
نصاب زندگی انساں کے کرداروں پہ لکھا ہے
اسے پوجے ہے مضطرؔ اگتا سورج جان کر دنیا
کہ جس نے نام اپنا وقت کے دھاروں پہ لکھا ہے
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں
درد مند اب سماج ہے ہی نہیں
اس کو شک کی ہے ایک بیماری
اور شک کا علاج ہے ہی نہیں
کیا دکھائیں اسے ہم آئینہ
اس کی آنکھوں میں لاج ہے ہی نہیں
مسئلے حل ہوں کیسے جب ہم میں
قوت احتجاج ہے ہی نہیں
آج انصاف کوئی کیا پائے
شاہ عادل کا راج ہے ہی نہیں
ہے تعلق بھی مصلحت آمیز
دلبری کا رواج ہے ہی نہیں
خم کرے سر در امارت پر
نصرؔ کا یہ مزاج ہے ہی نہیں
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
لے کے ہاتھوں میں محبت کے گہر آئے ہیں
اک نظر دیکھ ترے خاک بسر آئے ہیں
اک عجب دھڑکا دل و جاں کو لگا رہتا ہے
جب بھی پردیس سے ہم لوٹ کے گھر آئے ہیں
جس طرف بھی میں گیا میں نے جدھر بھی دیکھا
زخم کی طرح مجھے لوگ نظر آئے ہیں
نوک نیزہ کی طرف ایک نظر دیکھ ذرا
کس بلندی پہ وہ عشاق کے سر آئے ہیں
موم ہو جائے وہ پتھر کی طرح سخت بدن
اپنے نالوں میں کہاں اتنے اثر آئے ہیں
سر پھری آندھی گرانے اسے آ پہنچی ہے
آس کے پیڑ پہ جس دم سے ثمر آئے ہیں
جب سے اترا ہے سفینہ مرا ساحل پہ نبیلؔ
موج در موج کنارے پہ بھنور آئے ہیں
#ستمبر_27_فیصلہ_کن_مارچ
نیند کے روشن باب کی اب بھی گنجائش ہے
آنکھوں میں اک خواب کی اب بھی گنجائش ہے
گاؤں نما گھر شہر میں لاکھ بنایا لیکن
آنگن در محراب کی اب بھی گنجائش ہے
مجھ کو دکھ دینے والوں مایوس نہ ہونا
آنکھوں میں سیلاب کی اب بھی گنجائش ہے
رات کے دامن میں روشن ہیں کتنے جگنو
لیکن اک مہتاب کی اب بھی گنجائش ہے
ساحل پر آ کر بھی ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے اک گرداب کی اب بھی گنجائش ہے
نیا زمانہ ہم کو بھی تسلیم ہے لیکن
ان پچھلے آداب کی اب بھی گنجائش ہے
چیخ رہی ہے زیست کے دریا کی خاموشی
اک موج بیتاب کی اب بھی گنجائش ہے
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
#ہماری_منزل_آزادی
گمراہی سے یوں کمال آگہی تک آ گئے
ہم بہت بھٹکے مگر تیری گلی تک آ گئے
ان چراغوں کو بتا دو نیند سے جاگیں ذرا
بڑھتے بڑھتے اب اندھیرے روشنی تک آ گئے
زور سے ہنسنے لگے پھر عمر کے سب ماہ و سال
ہم نے یہ پوچھا تھا کیا ہم زندگی تک آ گئے
جو کہا میں نے وہاں تک کوئی بھی پہنچا نہیں
ان سنی کرتے ہوئے سب ان کہی تک آ گئے
زندگی کے ہر قدم پر اک نیا بکھراؤ ہے
ہم بڑی ترتیب سے بے رہ روی تک آ گئے
اک نئے مفہوم سے تحریر کرنا ہے انہیں
بہتے بہتے اب مرے آنسو خوشی تک آ گئے
ہر عمل کا لازمی ہوتا ہے اک رد عمل
اب فریب اس کے مری سادہ دلی تک آ گئے
ختم ہوتی ہی نہیں خالدؔ اجالوں کی تلاش
دھوپ سے ہوتے ہوئے ہم چاندنی تک آ گئے
#ہماری_منزل_آزادی
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ