کوٹ مٹھن میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ
" عید کڈاں" ( عید کب ہو گی )
کچھ لوگ اس مجذوب کی بات اَن سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر مذاق اُڑاتے گُزر جاتے ۔
ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرے تو اُس مجذوب نے اپنا وہی سوال دہرایا،
“عید کڈاں “( عید کب ھو گی )
آپ صاحبِ حال بزرگ تھے ،اُس کا سوال سُن کر مسکرائے اور کہا ،
یار ملے جڈاں ( جب محبوب ملے وھی دن عید کا دن ھو گا )
یہ الفاظ سُنتے ھی مجذوب کی آنک��وں سے موتیوں کی طرح آنسو جاری ھو گئے اور وہ مزید ترستی آنکھوں سے گویا ھوا “سرکار
یار ملے کڈاں” (محبوب کب ملے گا ؟)
��واجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
"میں مرے جڈاں " ( جب" میں " مرے گی)
بس یہ فرمانا تھا کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ھوئے عرض کیا کہ “حضور
میں مرےِ کڈاں " ( میں کب مرے گی )
سرکار رحمتہ اللہ علیہ مسکرائے اُسے پیار سے تھپکی دیتے ہوئے یہ کہتے چل دیے
"یار تکے جڈاں " ( جب محبوب دیکھے گا) ۔
منقول
اگر آپ کو کتابیں پڑھنا نہیں پسند، لکھنا نہیں پسند
اگر آپ بارش میں بھیگتے نہیں ہیں. اگر آپ پرانی غزلیں نہیں سنتے. اگر آپ چودھویں رات کے مکمل چاند کے دیوانے نہیں. اگر آپ کو سردیوں کی لمبی راتوں اور گرمیوں کی طویل دوپہروں میں ناول پڑھنا وقت کا ضیاع لگتا ہے___
اگر آپ شام ڈھلے بے اختیار دعا نہیں مانگتے. اگر آپ کوئی مصرعہ زیرِ لب نہیں گنگناتے. اگر آپ کھل کر نہیں ہنستے. اگر آپ کو زرد پھولوں سے الفت نہیں. اگر آپ کے دل کو تتلیاں نہیں بھاتیں. اگر آپ شعر و شاعری نہیں پڑھتے. اگر آپ کو کوئل کا کوکنا پسند نہیں. اگر آپ کو گیلی ریت پہ ننگے پا��ں چلنا پسند نہیں. اگر صحرا آپ کو اپنی طرف نہیں کھینچتا تو ہم مل تو سکتے ہیں لیکن اچھے دوست نہیں بن سکتے. اگر آپ اردو ادب نہیں پڑھتے اگر آپ بانسری اور ریل کی سیٹی نہیں سنتے,,,
اگر آپ کو ریلوے اسٹیشن پہ بوریت ہوتی ہے.اگر آپ کو عجائب گھر دیکھنے کا شوق نہیں ہے۔۔۔
اگر آپ کو کھانے سے عشق نہیں ہے اگر آپ کو خط لکھنا پسند نہیں، اگر آپ کو پتلی تماشہ دیکھنا وقت کا ضیاع لگتا ہے۔۔۔ اگر آپ کو سخت سردی میں ٹھنڈی ہوا پسند نہیں،اگر آپ کو خزاں کا موسم پسند نہیں, اگر آپ کو سیزن دیکھنے میں دلچسپی نہیں۔۔۔۔
اگر آپ بلا وجہ اداس نہیں ہوتے. اگر آپ کو خوشی میں رونا نہیں آتا تو میں اور آپ کبھی دوست نہیں بن سکتے. اگر آپ کولڈ کافی چاکلیٹ فلیور پی نہیں سکتے اگر آپ کو آئسکریم دھند بھری رات میں کھانا الجھن میں ڈال سکتا ہے اگر آپ کو چائے پینا زہر لگتا ہے تو میں اور آپ ایک گھنٹہ بھی بات نہیں کر سکتے😊
مجھے کتابیں پڑھنا پسند ہے اور لکھنا بھی ،بارش میں بھیگنا بھی پسند ہے،اور سردیوں کی لمبی راتوں اور گرمیوں کی لمبی دوپہر میں ناول پڑھنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے،پرانی غزلیں چودھویں کی رات میں چھت پر بیٹھ کر سننا ہائے کیا قیامت ہے۔
صبح صادق کے وقت اور شام ڈھلے دعائیں کرنا، گیلی گھاس پر چلنا، اور صحرا کے تپتے دن اور ٹھنڈی راتیں ایک الگ ہی سحر رکھتی ہیں، ریلوے اسٹیشن کا ہلکا شور، ایک خاموشی سی محسوس ہوتا ہے، عجائب گھر کا قدیم سناٹا روح میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے، شعر و شاعری پڑھنا اور زیر لب مصرعے گنگنانا ہمارے حصے میں آیا ہے اور اردو ادب کو گھول کر پینا بھی ہمارے مقدر میں آیا ہے شاید! کھانے سے عشق تو انسان کے خمیر میں ہے اس سے کون منہ پھیر سکتا ہے بھلا ؟سخت سردی میں ٹھنڈی ہواؤں میں کولڈ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے ٹہلنا ،خزاں میں پتوں کی سرسراہٹ اور چرچراہٹ کو محسوس کرنا، اور راتوں میں کمرے میں ہیڈفون لگا کر سیزن دیکھنا،اور پھر بیچ شب میں آئسکریم کی طلب!
مجھے پسند ہے!!
کسی پہاڑ کی چوٹی پر
لکڑی سے بنا چھوٹا سا گھر
چاۓ کا کپ ہاتھ میں تھامے
کھڑکی سے برستی بارش دیکھنا
بوڑھے دراز قامت سر سبز درخت
قدیم حویلیاں .........!!
اُفق پر روشنی بکھیرتا سورج
ڈھلتی ویران شام
ویران جزیرے....!!
خزاں کے موسم میں کسی انجان
پگڈنڈی پر بکھرے زرد پتے
اور جان لیوا خاموشی۔۔۔!!!
زندگی !تو نے کیا کیا رنگ دکھا دیے
روشنی!تو نے آنکھوں میں دیے جلا دیے
منقول
اللہ تعالی کی مخلوقات۔
ہمارے بعض پاکستانی بھائی گریجویشن مکمل ہوتے ہی چند ماہ بعد اس رب سے نا امید ہوکر بیٹھ جاتے ہیں جس نے 93 بلین نوری سال پر محیط ایک بڑی "کاٸنات" بناٸی ہے،
جسکو صرف دیکھنے کے لیے ایک ارب سال کا وقت بھی ناکافی ہے، اتنے بڑے خدا سے نا امید ہونا عقل مندی ��ہیں ہے، اگر آپ کے اندر صلاحيت ہے،، تو وہ آپکو کبھی ضائع نہیں کرے گا
البتہ وہ آپ کا امتحان لے سکتا ہے اس پر بھروسہ رکھو اور پوری ایمان داری اور لگن کے ساتھ اپنی محنت جاری رکھو، آپ کو وہی ملے گا جو اپکے مقدر میں لکھا ہوگا کیوں کہ ہمارا یقین اور ایمان ہے کہ اللہ تعالی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔
اللہ تعالی ایسا رزاق ذات ہے، جو جانوروں کو سمندر کے اندر رات کے اندھیرے میں رزق دیتا ہے،،،،،،،
اور آپ ایسے رب سے مایوس ہوجاتے ہیں نیچے ایک بلو وہیل کا دل ہے،اس کا وزن 1,300 پونڈ/ 590 کلوگرام سے زیادہ ہے،، یعنی ایک چھوٹی کار کا سائز جتنا ہوتا ہے،، اس طرح اس کا دل 8 سے لیکر 10 بار فی منٹ دھڑکتا ہے،،، اور "دل" کی ہر دھڑکن 2 میل یعنی 3.2 کلومیٹر دور سے سنی جاسکتی ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہےکہ بعض بلو وہیل کی شریانیں اتنی بڑی ہوتی ہیں، کہ اس کے اندر ایک بالغ انسان آسانی سے تیر سکتا ہے۔
پیدائش کے وقت "بلو وہیل" کا ایک "بچہ" تقریبا 25 فٹ لمبا ہوتا ہے،، اور بلو وہیل کا یہی "بچہ" ایک دن میں تقریبا 150 گیلن (568 لیٹر) دودھ پیتا ہے،،،، جس سے اس کے وزن میں یومیہ 200 پونڈ یعنی 90 کلوگرام تک کا اضافہ ہوتا ہے ایک سال بعد بلو وہیل کا یہی بچہ کرل پر کھانا کھانا شروع کرتا ہے، جو کہ چھوٹے کیکڑے اور مچهلی وغیرہ شامل ہوتے ہیں،
جو اوسطاً صرف ایک یا دو سینٹی میٹر تک "لمبے" ہوتے ہیں ساٸنسی ماہرین کہتے ہیں کہ اسطرح وہ ایک دن میں 4 سے لیکر 6 ٹن تک کرل کھاتے ہیں، یعنی "بلو وہیل" کا ایک چھوٹا بچہ ہم سے کہیں زیادہ خوراک کھاتا ہے جو بالغ ہونے کے بعد لمبائی میں 110 فٹ (33 میٹر) تک پہنچتے ہیں،،،، اور ان کا وزن 180 ٹن تک بڑھ جاتا ہے،، ایک منٹ کے لٸے سوچ لیں کہ اس وقت سمندر میں کتنے بلو وہیل گھوم رہے ہوں گے ان کو رزق کون دے رہا ہے؟ اللہ تعالی پر مکمل بھروسہ رکھیں، اللہ تعالی کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں،
*معین اختر بھائی غضب کے پرفامر تھے۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے *معین اختر* کی بے شمار پرفامنسسز دیکھی ھونگی جن میں وہ آپکو ھنساتے ہیں۔ ایدھی صاحب کے انداز میں معین اختر صاحب کو دیکھئیے ! میرا دعویٰ ھے کہ آپ نے اگر پہلے ان کی یہ پرفارمنس پہلے نہیں دیکھی تو دیکھ کے ششدر رہ جائیں گے۔
“بلاشبہ معین اختر اک گوہر نایاب تھے، اللّٰہ ان پر اپنا بے حساب رحم فرمائے ۔۔۔*
ایک دانا آدمی سے پوچھا گیا:
زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟
دانا نے کہا اس کا جواب لینے کےلیے آپ کو آج رات کا کھانا میرے پاس کھانا ہوگا۔
سب دوست رات کو جمع ہوگئے۔
اس نے سوپ کا ایک بڑا برتن سب کے سامنے لا کررکھ دیا۔
مگر سوپ پینے کے لیے سب کو ایک ایک میٹر
سالوں سے اس خوبصورت آواز والے کو ڈھونڈتا رہا اکثر دوست کہتے یہ Mishary Rashid Alafasy کی آواز ہے میں کہتا نہیں آج اتفاق سے یوٹیوب پر خود آئے ❤ انکا نام ہے Sheikh Hisham Al-Harraz، قاری عبدالباسط کے بعد میرا سب سے پسندیدہ آواز انکی ہے، حضرت یعقوب (ع) کی آواز کتنی خوبصورت ہوگی۔ 💝
An Iranian filmmaker has made this short one-minute film for public awareness. The poor father stole the roti from the shop, but as soon as he came out, the shopkeeper stopped him. Confused daughter asks father what happened??? The father gets worried and opens his lips to apologize, the shopkeeper says, daughter, your father forgot the rest of the money, also counts some money and catches it. While going out, the father is seen helpless in remorse and helplessness, then the other person sitting in the shop shouts and says, "You are forgetting the bag of rice too........!! * If you help people by keeping the veil, then on the Day of Judgment, Allah will shower His grace and reward on you.
Host to James Anderson : why Babar Azam was not selected for The Hundred ?
James Anderson : I don’t know , I’ll pay double for him and I would’ve spend the whole budget on him.