“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2
“میں نے انتخابات سے قبل جب ہر جانب خوف کا ماحول تھا، پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ آج میں پھر ایک پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ ملک میں جو ناانصافی، ظلم و فسطائیت ، لاقانونیت اور معاشی تباہی کا ماحول ہے پاکستان میں بہت تیزی سے حالات اسی جانب گامزن ہیں جو نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ہوئے ہیں۔
میں اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور پارٹی ممبران کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب حقیقی اپوزیشن کرنے کا وقت ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گا کیونکہ عوام کی یہی آواز ہے۔ ہم نے مینڈیٹ چوری سمیت ہر ظلم پر قانونی راستے اختیار کر کے دیکھے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اس لیے اب ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ آپ جتنا تعاون کریں گے یہ اتنا ہی آپ کو کچلیں گے۔ جو بھی ڈٹ کر اس نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا وہ خود اپنی سیاسی قبر کھودے گا۔
پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنی توجہ پشاور کے جلسے پر مرکوز رکھیں جو 27 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ پورے ملک سے عوام اس جلسے میں شرکت کر کے ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
2/2
"راولپنڈی کے 13 ایم این ایز کی سیٹوں پر ستر اسی ہزار کی لیڈ سے جیتنے والوں کے ہم نے جعلی مہریں لگا کر ہرایا ہے، مجھے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی، ہم تینوں کو چوک میں پھانسی دینی چاہیے۔" کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ
آٹھ فروری کی بدترین دھاندلی کے شواہد کم نہ تھے لیکن یہ اعتراف جرم ان سب کے خلاف چارج شیٹ ثابت ہوا جنہوں نے یحیٰی خان پارٹ ٹو کے قبضے کو قائم رکھنے کے لئے، اہم اداروں کے سربراہان ہوتے ہوئے اپنے حلف اور قوم سے غداری کی۔
#SeatsBelongToPTI
لیاقت چٹھہ کا مؤقف 💯 درست تھا!
جو کچھ انہوں نے کہا تھا وہی کامن ویلتھ کی رپورٹ نے ثابت کر دیا۔ میری 22ہزار، میرے والد کی 60 ہزار سے زائد لیڈ تھی۔ اٹک سمیت پورے ملک کا ایک ہی فیصلہ تھا عمران خان وزیراعظم پاکستان!
My father, Imran Khan, is in prison because he stood up for democracy. He is held in solitary confinement, denied access to his doctors, and restricted from meeting his lawyers and family. At the same time, members of his family and thousands of his supporters have been abducted or dragged before military courts. This is not justice - it is political revenge. Pakistan’s democracy is at stake, and I call on all who believe in human rights and democracy to stand with us so that the people’s voice is heard and the rule of law is restored.
“اڈیالہ میں میرا نام نہاد ٹرائل کوئی جج نہیں ایک ISI کا کرنل چلوا رہا ہے، جو آرمی چیف عاصم منیر سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ سول نہیں ملٹری ٹرائل ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے اور مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر تین سو سے زائد بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے جن کا میں سامنا کر رہا ہوں اور کوئی ڈیل کیے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آؤں گا۔ ہماری جماعت پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میں اور میری اہلیہ آج ہی رہا ہو جائیں۔ میرے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ ہمیں عام قیدی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں آٹھ ماہ میں صرف ایک بار میری بچوں سے بات کروائی گئی۔ ججوں کی میرے مقدمات میں کوئی حیثیت نہیں نہ میرے مقدمات کا ٹرائل جج آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں بلکہ ایک کرنل جو کہتا ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کرنل عاصم منیر کے احکامات پر چلتا ہے۔
میں اپنی تمام پارٹی کو کہتا ہوں کہ آپ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ آپ سب کے لیے لازم ہے کہ میری ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں تاکہ میرے پیغام پر اتحاد قائم رہے۔
خیبرپختونخوا میں ایک گرینڈ جلسے کا اعلان کیا جائے جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں اور اس سیاہ رات کے خلاف کھڑے ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
“Asim Munir has an insatiable hunger for power, which is why he has imposed the worst form of dictatorship. Instead of demanding that I apologize, Asim Munir should apologize to me. The events of May 9th (2023) were orchestrated by the same person who stole the CCTV footage. At present, May 9th has become Asim Munir’s insurance policy.
It is not a hybrid system that is in place in our country, but the dictatorship of Asim Munir. That is precisely why (President) Trump invited him instead of Shehbaz Sharif.
In their extreme fascism and oppression, they continue to target non-political members of my family. My two nephews, Shahrez and Shershah Khan, have been abducted despite having no involvement in politics. My nephew Shahrez Khan, who is an excellent athlete, was forcibly taken away. I am being held in complete solitary confinement. Over a period of three months, I have been allowed only three meetings. Even meetings with my lawyers and family are blocked for months at a time. All of this is being done to pressure me.
For the past eight months, my wife, Bushra Bibi, has also been held in solitary confinement. Such treatment of women is unprecedented in the history of Pakistan, not even under Yahya Khan.
Faisal Vawda, who acts as a mouthpiece of the establishment, issued statements that Bushra Bibi would seek separation from me. She was pressured to do so, but she stood firmly by my side. Previously, when Asim Munir was removed from the post of DG ISI, he attempted to contact Bushra Bibi through Zulfi Bukhari, but she refused. That is why she is being subjected to such cruel treatment today. She is kept in solitary confinement under deplorable conditions, where she has suffered electric shocks and physical wounds. She is provided polluted water to use. Every form of cruelty is being inflicted upon her.
Asim Munir is behind all this. He has neither morality nor an understanding of Islam. My message to him is this: no matter which member of my family you imprison to increase pressure on me, I will neither bow down nor accept this tyranny. I will continue my struggle for Haqeeqi Azadi (genuine freedom), no matter what.
Asim Munir is doing to Pakistan what Mohsin Naqvi has done to cricket.
The judiciary has been destroyed, the media silenced, and the police forced into actions that have criminalized the institution itself. Even during Yahya Khan’s era, such circumstances did not exist. The police are being used against the members of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), which has led to a rise in crime across the country. Unemployment is at its peak. The economy cannot be fixed by the SIFC, but through public confidence and the rule of law.
Criminals have been imposed upon us, despite the fact that ISI had itself shared with me evidence of their corruption and money laundering. All cases against anyone who left PTI were immediately forgiven.
Whenever dictatorship takes hold, it does so by colluding with judges. At present, due to shameless judges, the rule of law in Pakistan has completely collapsed. After the 26th Constitutional Amendment, the judiciary has become entirely subservient. These judges without a conscience do not take action against human rights violations. If our judges acted upon their conscience, provided justice to the people of Pakistan, and feared accountability before Allah on the Day of Judgment, then such tyranny would never have been possible. These conscienceless judges are equally complicit in this injustice and oppression."
Important Conversation of Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
(August 26, 2025)
1/2
آپ حالت دیکھیں محافظوں کی ایسے گیٹ توڑ رہے ہیں جیسے نریندر مودی کا گھر ہے
رہنما پاکستان تحریک انصاف عرفان بٹ این اے 62 گجرات کی رہائش گاہ مالک بٹ ہاوس سراے عالمگیر پر پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کا دھاوا۔۔ دروازے توڑ کر داخل ہو گئے۔۔
Today, I met Sulaiman and Kasim, the sons of @ImranKhanPTI, in my Washington office.
I am concerned to hear that Khan remains isolated from his family, friends, attorneys, and doctors. His sons also shared that his physical health may be deteriorating.
The people of #Pakistan deserve to have their leaders be treated fairly under the law.
@Haidersaeedpti1 سلام! پاکستان میں وقت کا یزید اکثر جنرل عاصم منیر کو کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ عمران خان کی گرفتاری، پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن اور سیاسی ظلم کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں—جیسے یزید نے امام حسین پر کیا۔ یہ تاثر عوامی رائے اور حقوق انسانی رپورٹس سے مستحکم ہے۔
Ethnic-based politics is being used to exhort people, to serve own ends – this is anathema to concept of nationalism. Imran Khan
@TeamiPians#عوام_مانگے_خان_کی_رہائی