ہمارے دونوں شیردل جوان حسان نیازی اور حیدر مجید ۳ سال قبل ناحق قید کر لیے گئے تھے، الحمدللہ ۱ سال پہلے حیدر مجید تو باہر آگئے، حسان نیازی ابھی بھی ناحق قید میں ہیں، انشاءاللہ بہت جلد حسان نیازی بھی اس ناحق قید سے آزاد ہو کر ہمارے درمیان ہوں گے۔ ساتھ ہی ساتھ حسان نیازی کے ماموں ہمارے قائد عمران خان بھی ہمارے ساتھ ہوں گے انشاءاللہ۔
#FreeHassanNiazi #HassanIllegallyJailed3Years
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
عطاء تارڑ بے غیرت پی ٹی آئی پر پرتشدد سیاست کا الزام لگا رہا ہے حالانکہ یہ ن لیگ کی حقیقت ہے
گلگت الیکشن میں اس ن لیگی عہدیدار نے جلسی کے درمیان دو انسانوں کو قتل کیا آج کل یہ قاتل ن لیگ رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے اس پر کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی گئی جبکہ ماڈل ٹاؤن کا قاتل رانا ثناء اللہ آج بھی ان کا سینئر ہے
سہیل آفریدی سپریم کورٹ کے باہر دھرنے میں 1:29 پر آئے
پریس کانفرنس کی، فوٹوز بنوائی، دھرنا ختم کیا اور پورے 2:20 پہ سپریم کورٹ کے باہر سے واپس چلے گے
1 گھنٹہ بھی دھرنے میں شرکت نہیں کی۔۔۔۔۔
سب کچھ برآمد ہو گیا۔ ایک اور 9 مئی کا جھوٹا ڈرامہ۔ پی ٹی آئی کا جھنڈا بھی برآمد-
اگر پی ٹی آئی کے جھنڈے کے ساتھ ہونا والا جرم پی ٹی آئی پر ڈالنا ہے تو پھر فوجی وردی پہن کا جو دہشت گرد دہشت گردی کرتے ہیں اس حساب سے تو ان سے بھی فوجی وردی برآمد ہو جاتی ہے۔ کیا آپ آپ کرنے ہیں؟
"ایجینسی کی مرضی کے بغیر جیل سے کوئی خبر باہر نہیں آسکتی۔ ہم تب یقین کریں گے یا عمران خان خود بتائیں یا پھر ڈاکٹر آفیشلی رپورٹ دیں جیسے آنکھ کی رپورٹ دی گئی تھی"۔ @DrUzma_KhanPK#ImranKhanHealthMatters
عمران ریاض، شہباز گل قوم کے سچے لیڈر ہیں
یہ کڑوی بات بولتے ہیں
لیکن سچی بات بولتے ہیں۔۔۔
باقی یہاں سارے پیسے کے چکر میں کرسی پہ لیٹے ہوئے ہیں
ان کو خان صاحب کی فکر نہیں ہے
اڈیالہ جیل کے باہر ورکرز کی گفتگو۔۔۔
"پی ٹی آئی کو اس سے بھی بڑا قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ لوگ سڑکوں پر آنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ میں نے خود تحریک کے دوران دیکھا ہے کہ عوام میں کتنا شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ کروڑوں لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں اور ان شاء اللہ وہ بہت جلد انہیں رہا کروا کر دم لیں گے۔"
— علیمہ خان
میری خبر دینے کے بعد کہ عمران خان نے مشال یوسف زئی کو فارغ کرنے کا کہا تھا اس کے بعد میری پیاری بہن ذاتیات پر اتر آئیں اور مجھ پر الزامات لگانے لگیں اور کہا کہ تم پارٹی لیڈرشپ کے کہنے پر ٹویٹس کرتے ہو
"قسم کھاؤ"
میں نے قسم کھائی اور کلمہ پڑھ کر قسم کھائی کہ میں کسی پارٹی قیادت کے ایما پر نہیں ہوں
پھر میں نے کہا کہ آپ بھی قسم کھائیں کہ آپ صحافیوں کے ساتھ مل کر آڈیو لیکس نہیں کرواتیں تو محترمہ پھر ادھر اودھر کی باتیں کرنے لگیں اور صاف جواب دینے سے گریز کرتی رہیں