آسٹریلین وزیر اعظم نے چکوا�� میں آسٹریلین خاندان کی CCD کے جعلی مقابلے میں مارے جانے کے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا! اور یہاں لاہور ہائیکورٹ والوں کو خیال نہیں آیا۔۔۔۔ عدلیہ کی جو حالت ہے اب دفنانا ہی ��ہ گیا ہے!!
مخالف پہلوان کے ہاتھ پاؤں باندہ دو، اٹھنے کی اجازت نہ دو اور کہو بڑی Impressive کشتی لڑی ہے اٹھنے ہی نہیں دیا اگلے کو:) پاکستان میں الیکشن کی کوئ اہمیت نہیں رہ گئ اب ایک طویل سفر کر کے الیکش تک پہنچنا پڑے گا۔۔
جیسے مرنے والے کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی مال و دولت کون لے گیا، ویسے ہی مردہ قوموں کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کے وسائل اور سرمایہ کون لوٹ رہا ہے۔ مظہر برلاس
#pakistan@mazhar_barlas
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
@FarwaWaheed4 تحریک انصاف کے دور میں پاکستان کا میڈیا انتہائ آزاد تھا کیا آج کوئ اینکر وزیر اعظم کو کہ سکتا ہے کہ میں آپ کا گریبان پکڑوں گا؟ حکومت کے خلاف پیڈمپینز چلائی گئیں کسی کو کچھ نہیں کہا گیا آپ کے ایسے پروپیگنڈے نوکری کیلئے صحیح ہیں لیکن ان کا حقیقت سے کوئ تعلق نہیں
نور مقدم کیس کے چاروں فورمز کے فیصلے کے دو پہلوؤں بہت اہم ہیں
1.وقوعہ کے دن (20 جولائی 2021) سے لیکر سپریم کورٹ نظرثانی کے فیصلے(آج 4 جون 2026) تک چار سال 11 ماہ میں یہ تمام چاروں جوڈیشل فورمز کے فیصلے آگئے جو کہ میرے خیال میں موجودہ نظام انصاف میں کم ترین عرصے میں چاروں فورمز پر فیصلہ ہوا ہے اتنے عرصے میں چاروں فورمز سے کیس کم ہی ختم ہوتا ہے
2. سیشن جج عطا ربانی کی قابلیت کو نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ انھوں نے سیشن کورٹ میں ظاہر جعفر کی سزائے موت کا جو فیصلہ سنایا وہ ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ پھر سپریم کورٹ نظرثانی میں بھی برقرار رہا ہے یہ کسی بھی جج کی قابلیت جانچنے کا بہترین پیمانہ ہے کہ اس کا فیصلہ سپریم کورٹ تک بھی برقرار رہے گا یا نہیں ۔۔ جج عطاء ربانی کا فیصلہ برقرار رہنے سے ثابت ہوتا ہے کہ جج عطا ربانی ایک بہت ہی قابل جج ہیں اور وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ایسے ججز کی ہماری جوڈیشری کو ضرورت ہے
ایسے الیکشن کرانے سے بہتر ہے کہ ایمرجنسی لگا کر حکومت نماء سیٹ اپ بنا لیں، ہر روز ملک کی بے عزتی کرانے کا فائدہ نہیں اور مقامی آبادی میں بھی نفرت بڑھتی ہے!!
مریم کے گلے میں کچھ انفیکشن ہوا پورا میڈیا نیک خواہشات کا اظہار کرنا شروع ہو گیا۔
لیکن یہی میڈیا عمران خان کی آنکھ والے معاملے پر منہ میں ۔۔۔پتھر رکھ لیتا ہے،آواز تک نہیں نہیں نکلتی انکی۔
منافق۔