وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت اعتراض، آخری وقت تک وفاقی حکومت کے وکیل نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرکے عمران خان کا علاج کرانے کی مخالف کی
🚨آج سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد دو شکوک مکمل ختم ہو گئے ہیں
1- یہ تاثر تھا کہ سہیل آفریدی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہ رہے تھے تو اس کا جواب مکمل نفی میں ہے
2- سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کی تاریخ کا اعلان مکمل مشاورت سے کیا ہے اور اس کی 27 کو عوام کو کیسے لے کر نکلنا ہے، سفر کیسے کرنا ہے، فیصلہ سازی کیسے ہونی ہے، تحریک کی منزل کیا ہے ہر بات انھوں نے طہہ کی ہوئی ہے،
حبیب اکرم
ہمارا کیس مشکل نہیں ہے۔ میرا کلائینٹ مشکل ہے۔ سلمان صفدر
آپکو جیل سپرنٹینڈنٹ کی رپورٹ کو رد کرنا چاہیے۔ سلمان صفدر کا استفسار
جو سہولیات انہوں نے بتائیں وہ ہمارا مسلہ ہی نہیں ہے۔ سلمان صفدر
سب سے بڑا مسلہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا ہے۔ سلمان صفدر
ذہنی اذیت جسمانی اذیت سے بڑھ کر ہے۔ سلمان صفدر
آج سب نے ایک بات تسلیم کرلی کہ قید تنہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سلمان صفدر
مجھے چاند اور ستارے نہیں چاہیں۔ مجھے صرف قید تنہائی کا خاتمہ چاہیے۔ سلمان صفدر
کوئٹہ میں زیارت کے شہداء کی میتیں سامنے رکھ کر جاری دھرنے کو آج 7 روز ہو گئے ہیں، ہزاروں افراد دھرنے میں شامل ہیں
اور اب یہ سب لوگ اپنے اصل مجرم کو پہچان چکے ہیں، " معدنیاتی دہشتگردی بند کرو بند کرو " کے نعرے بلند
“افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی نو مئی کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسایا جا رہا ہے، تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابی کو خوش کیا جائے اور مغرب کے سامنے ایک “نجات دہندہ” بننے کی کوشش کی جائے-
سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا، اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ “دہشت گرد آ گئے ہیں” قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دئیے گئے۔
ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں- پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔
اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔
خیبر پختونخوا میں جو کچھ کرنے کی کوشش ہے وہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے ہے۔ ملٹری آپریشن سے دہشتگردی مزید بڑہے گی اور جب پولیس اسی بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں لگے گی تو گورننس اور امن و امان کا بیڑا غرق ہو جائے گا- ایسی ہی پالیسی اے این پی کی حکومت کے دور میں بھی اپنائی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز وزیراعلی کے ساتھ بیٹھ کر وہاں کے مسائل کا جلد سے جلد حل نکالیں۔ خصوصی طور پر جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں امن قائم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
ہمارے اتحادی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ایک امن وفد لے کر افغانستان جائیں اور وہاں بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
2/3
وادی تیراہ کے غیور اور باعزت عوام کو دربدر کیا گیا، گھروں سے بے دخل کیا گیا، مگر آج وفاقی وزراء یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو کوئی حکم جاری ہی نہیں کیا تھا!
یہ صرف بیان نہیں، بلکہ وادی تیراہ کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔
مسلسل کرفیو، گھروں پر شیلنگ، خوف اور مجبوری نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا، اور اب حقائق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔
اسی سنگین حالات کے پیشِ نظر
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ، سردار سہیل آفریدی
نے تمام آفریدی قبائل کا ایک گرینڈ جرگہ اتوار کے روز طلب کر لیا ہے، تاکہ قوم کی مشترکہ آواز، مشترکہ فیصلہ اور مشترکہ لائحہ عمل سامنے آ سکے۔
یہ وادی تیراہ کے مظلوم عوام کے حق میں کھڑا ہونے کا اعلان ہے۔
یہ خاموشی توڑنے، سچ بولنے اور اپنی سرزمین کے دفاع کا وقت ہے۔
آفریدی قوم متحد ہوگی تو کوئی طاقت ہمیں نظرانداز نہیں کر سکے گی
وادی تیراہ کے غیور اور باعزت عوام کو دربدر کیا گیا، گھروں سے بے دخل کیا گیا، مگر آج وفاقی وزراء یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو کوئی حکم جاری ہی نہیں کیا تھا!
یہ صرف بیان نہیں، بلکہ وادی تیراہ کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔
مسلسل کرفیو، گھروں پر شیلنگ، خوف اور مجبوری نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا، اور اب حقائق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔
اسی سنگین حالات کے پیشِ نظر
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ، سردار سہیل آفریدی
نے تمام آفریدی قبائل کا ایک گرینڈ جرگہ اتوار کے روز طلب کر لیا ہے، تاکہ قوم کی مشترکہ آواز، مشترکہ فیصلہ اور مشترکہ لائحہ عمل سامنے آ سکے۔
اسی سلسلے میں جرگے کے انتظامات اور تیاری کے حوالے سے
کل بروز بدھ، 28 جنوری، دوپہر 2 بجے ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کے حجرے پر ایک اہم گرینڈ میٹنگ منعقد ہوگی۔
تمام پی ٹی آئی کے ذمہ داران، عہدیداران اور کارکنان سے پُرزور اپیل ہے کہ وہ اپنی بروقت اور یقینی شرکت سے اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
یہ صرف ایک میٹنگ نہیں،
یہ وادی تیراہ کے مظلوم عوام کے حق میں کھڑا ہونے کا اعلان ہے۔
یہ خاموشی توڑنے، سچ بولنے اور اپنی سرزمین کے دفاع کا وقت ہے۔
آفریدی قوم متحد ہوگی تو کوئی طاقت ہمیں نظرانداز نہیں کر سکے گی۔
#admin
تیراہ سے زبردستی انخلاء کے دوران میری عوام برف باری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پورے صوبے کے وسائل کو بروئے کار لا کر اُن کی مدد کی جا رہی ہے۔ تقریباً ۳ جگہوں پر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کُچھ لوگوں کو نزدیک گھروں میں اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بنائے گئے جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کے ساتھ سگنلز نا ہونے اور راستہ کلیئر نا ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ تمام تر ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی خود کر رہا ہوں۔ تمام ڈیپارٹمنٹس کو لوگوں کو ریسکیو کرنے، ریلیف دینے اور آخری بندے کے گھر آنے تک آرام سے نا بھیٹنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ اللّٰہ کرے کہ کوئی بڑا سانحہ نا ہو۔ آمین
وادی تیراہ اس وقت ایک انتہائی سنگین، کربناک اور تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ حالات اس قدر کشیدہ ہو چکے ہیں کہ شدید برفباری نے ہر راستہ مفلوج کر دیا ہے، گاڑیاں پھسل چکی ہیں اور سینکڑوں خاندان بے بسی کے عالم میں کھلے آسمان تلے، سردی اور خوف کے سائے میں راستوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے، جہاں ہر گزرتا لمحہ قیمتی جانوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
اس نازک اور جان لیوا صورتحال میں ضلعی انتظامیہ اور پی ٹی آئی کے ورکرز غیر معمولی جرأت، جذبہ اور فرض شناسی کے ساتھ موقع پر موجود ہیں۔ وہ شدید برفباری، اندھیری راتوں اور خطرناک راستوں کے باوجود ایک ایک گاڑی تک پہنچ رہے ہیں، متاثرہ خاندانوں کو کھانا فراہم کر رہے ہیں اور انہیں بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے دن رات کو ایک کیے ہوئے ہیں۔
ایم پی اے عبدالغنی آفریدی مسلسل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ اور چیف سیکرٹری کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں تاکہ ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر ریسکیو آپریشن کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی تناظر میں ایم پی اے عبدالغنی آفریدی نے آج باضابطہ بیان بھی جاری کیا تھا کہ شدید برفباری ختم ہونے تک عوام اپنے گھروں میں ہی رہیں اور نقل مکانی سے گریز کریں جب تک یہ طوفان ٹل نہیں جاتا تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاص کرم سے وادی تیراہ کے ہر فرد کی حفاظت فرمائے، پھنسے ہوئے تمام خاندانوں کو بحفاظت ریسکیو کرے اور اس آزمائش کو جلد از جلد آسانی میں بدل دے۔ آمین 🤲
Admin
ریڈ سرکل میں بیٹھا یہ شخص کالعدم تنظیم انصارالسلام تیراہ کا کمانڈر اِن چیف عزت اللہ ہے،جس کی حال ہی میں لاہور کے کور کمانڈر سے ملاقات ہوئی۔ یعنی طالبان کمانڈر لاہور سے قبائلی علاقوں تک آزاد گھوم سکتے ہیں، مگر امن اور حق کی آواز اٹھانے والوں پر ہر وقت شکنجہ کسا جاتا ہے۔
میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے میرے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے میرے لوگوں کو مجھ سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت اپنے لوگوں کے تمام مسائل حل کرنے میں انشاءاللہ کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ یہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے اور میں انشاءاللہ ثابت بھی کرونگا۔
ہم پر زبردستی مسلط کی گئی دہشتگردی، بند کمروں کے فیصلوں میں بدمعاشی سے جاری کردہ ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کا مجبورا انخلاء، ان تمام مظالم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کاموں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی مداخلت کی جا رہی ہے۔ تمام پروسز کو آہستہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی رجسٹریشن نادرا کر رہا ہے جوکہ وفاقی ادارہ ہے وہاں سے رجسٹریشن میں جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار چیکنگ اور آنکھ کا سکینر لگا کر لوگوں کو ویریفائی کرنے میں وقت ضائع کر کے لوگوں کو پریشان کر رہےہیں۔ گھنٹوں کا کام دنوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ تنگ ہو۔
مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے” اپنے اچھے لوگوں”کو متاثرہ لوگوں میں گھسا کر اُن کو اکسا رہے ہیں۔ تیراہ کے لوکل ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور میرے بڑے بھائی جب وہاں پہنچے تو اپنے ٹاؤٹس سے اُن کی بے عزتی کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ واپسی میں اُن کے لیے سڑک بند کر کے راستہ تبدیل کروانے پر اُن کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا۔ “اچھے لوگوں”راستے میں گاڑیاں کھڑی کر کے جان بوجھ کر سڑک پر رش بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام غصہ کرے اور منتخب نمائندوں کو بُرا بھلا کہے۔
دہشتگردی کی جنگ بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نیت ٹھیک ہونی چاہیئے اور اعتماد کو بحال رکھنا چاہیئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر مستقل اور پائیدار امن نا ممکن ہے۔ بند کمروں کے فیصلے زبردستی مسلط کرنے کے پیچھے ہمیشہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگے میں خیبر پختونخوا کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کیں ان پر عمل کروا کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے-
بند کمروں میں فیصلے کرنے والے ذرا نیچے دی گئی تصویر دیکھیں۔عمران احمد خان نیازی صاحب کو ختم کرنا سب کا ادھورا خواب رہ جائے گا۔ یہ عشق اب کئی نسلوں تک پہنچ چُکا ہے۔ جو کبھی بھی انشاءاللہ مٹ نہیں پائے گا!!
ایک جنرل نے افغان مہاجرین کو مسلمان بھائ کہہ کر پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد کیا۔ ان غیرتمند لوگوں نے محنت کرکے مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ عام پاکستانیوں نے ان کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا لیکن سوائے عمران خان کے ہر حکومت نے ان کو شک کی نظر سے دیکھا، ان کا استحصال کیا، باوجود اس کے کہ پاکستان کو معاشی اور سٹرٹجک فائدے بھی حاصل ہوئے۔ اب جبکہ ان کا ملک کیلئے کوئ فائدہ نہ رہا تو ان غریب اور غیور لوگوں کو زبردستی واپس بھیجنا شروع کیا۔ یہ نہ اسلامی بھائ چارے کی عکاس ہے، نہ پڑوسی ہونے کی، اور نہ بین الاقومی اصولوں کےمطابق۔ اس رویے اور طرز عمل کے دیرپا اٽرات ہونگے جو برے ہی ہونگے۔ لیکن کیا کیا جائے پالیسی جو بناتے ہیں انکو اپنی کرسی اور مفاد کا خیال ہوتا ہے۔ ملک وقوم اور دین کا انہوں نے کیا کرنا ہے۔