عمران خان کا لب و لہجہ دن بدن سخت ہو رہا ہے رانا ثنا اللہ بھی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں دونوں میں سے کون پہلے گرفتار ہو گا؟ رانا ثنا اللہ یا عمران خان؟ یا دونوں صرف آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں؟ #CapitalTalk
بلوچستان میں مسنگ پرسنز کی تشدد زدہ لاشیں ملنے اور شاہراؤں پر ڈاکوؤں کی کاروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
مسلسل نااہل، کرپٹ اور مصنوعی لیڈر شپ مسلط کرنے، عوامی تحریکوں اور جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کی کوششوں کی وجہ سے صوبہ جنگی قیدیوں کے کیمپ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے.
اُف یہ سادگی ، ایک وہ بھی زمانہ تھا جب خان صاحب وزیراعظم تھے اور کہتے تھے کہ پاکستانی فوج تحریک انصاف کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے اور سب فیصلے میری منظوری سے ہوتے ہیں اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ خان صاحب حکومت میں نہیں اور فرماتے ہیں کہ میں تو بے اختیار تھا جناب فیصلے کوئی اور کرتا تھا
علی وزیر پر سندھ میں جتنے بھی مقدمات تھے سب میں ضمانت ہوگئی ضمانتی مچلکے جمع کیئے اور رہائی کے لئے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے 20 دِن ہوگئے مگر علی کو رِہا نہیں کیا گیا۔
عدالتی ضمانتوں کے باوجود علی وزیر اس وقت سندھ حکومت کے ماتحت کراچی جیل میں مکمل حبسِ بے جا میں بند ہے۔1/2
@ShahidaKhan16@ImaanZHazir واہ رے چائنا کے افلاطون صاب وہ تو محترمہ کی امی کا مسئلہ ہے، محترمہ کا آپ ریکارڈ چیک کریں ہمیشہ مظلوم کےساتھ کھڑی ہوتی ہے، اور ہاں اسکی امی کو بھی سیلوٹ کہ اپنی اولاد کی ایسی پرورش کی ہے جو کسی بھی غلط فیصلے میں اپنی ہی امی کے خلاف موقف اختیار کرتی ہے...
ذمہٰ دار بھی وہ خود ہی ہیں۔ اِس مُسلط کردہ جنگ کی قیمت پختونوں نے اپنے خون سے ادا کی ہے اور دوسری طرف فوج نے اپنے ہی لوگوں کے خون کے بدلے ڈالر وصول کیے۔
لیکن اب،پختونوں نے ایک مرتبہ پھر،دو ٹوک اور واضع الفاظ میں ریاست کی ناکام پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
#SwatRejectsTerrorism
سوات میں امن کا مطالبہ کرنے والا massive احتجاج ریاست کے لیے ایک واضح پیغام ہے جس نے طالبان کی سہولت کاری جاری رکھی
ہوئی ہے۔ ہمارے پشتون بھائیوں اور بہنوں کی آواز کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ پختونوں پر مُسلط کردہ جنگ کے
سوات
مظاہرین نے تحریک انصاف سوات کے ایم پی ایز عزیر اللہ، فضل حکیم اور میئر سٹی شاہد علی کو سٹیج سے اتارا۔
(ویڈیو میں مائیک پکڑ کر مئیر بات کرنا چاہ رہے تھے مگر نیچے پنڈال سے لوگ آوازیں دیں رہے کہ نیچے اتاروں)
ایک بے فیض جرنیل پشاور سے بہاولپور جبری ہجرت تو کر گیا ہے لیکن جانے سے پہلے گُڈ طالبان والا ڈرامہ نئے سرے سے شروع کر گیا ہے اور سوات کے پُرامن شہری اس کا نتیجہ گولیوں اور مار دھاڑ کی صورت میں بھگت رہے ہیں