بھارت ائیرپورٹ پر چوری
سعودی عرب سے واپس آنے والے حاجیوں کاسامان چوری کچھ کے بیگ غائب کچھ کے تالے ٹوٹے ہوئے اور کچھ خالی سامان کساتھ
اس گرنے والےحاجی کا دعویٰ ہے کہ چاندی کی پانچ انگوٹھیاں،چھ پرفیوم،سونے کے دو نوز پن،پانچ حجاب اور بچوں کے کھلونے سمیت مہنگی چیزیں چوری کی گئی ہیں۔
یوتھیا تو کہتے تھے کہ خان کو اللہ نے اتنا کچھ دیا ہوا تھا کہ اگر وہ سیاست میں نہ اتا تو بیٹھ کر زندگی ارام سے گزار سکتا تھا وہ ہمارے لیے ذلیل ہو رہا ہے
جب کہ یوتھیوں کو بتانا تو یہ ہے کہ وہ گھر کے لیے تو پلاٹ نواز شریف سے لے رہا تھا
پس ثابت ہوا کہ یہ شروع سے ہی چور اور نوسر باز ہے
اللہ کا واسطہ ہے اس ملک کو جہنم بنانے سے روکو۔
یہ ملک ہماری امیدوں کا آخری مرکز یہ امیدیں کرچی کرچی ہو رہی ہیں۔
عورت کی عزت لٹ رہی ہے مرد ذلیل ہو رہا ہے اور تو اور مخنث بھی تشدد کا شکار ہے۔
کوئی تو روک لو انسان کو روٹی نہیں عزت تو دو۔
استغفراللہ، عمران خان کے پیچھے اب یہ لوگ مسجد میں بھی لڑائی جھگڑے کر رہے ہیں اور مسجد کے امام پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ہے وہ شعور جو عمران خان نے قومِ یوتھ کو دیا ہے۔
جب تک شوکت خانم کے لئے شریف فیملی اور اسحاق ڈار چندہ دیتے تھے تو عمران خان کھل کر نواز شریف کا دفاع کیا کرتا تھا۔ آج اسی عمران خان کے پیروکار نواز شریف پر بھونک رہے
میری اور میری 9 سالہ بیٹی کو سعید جمالی سے سنگین خطرات لاحق،حکومت تحفظ فراہم کریں،حنا لاشاری
اپنی عزت بچانے کیلئے سعید سے خلع لیا مگر اب وہ میرے پیچھے پڑا ہے
سعید جمالی نے نوکریوں کا جھانسہ کئی خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا،نوکری دینے کے نام پر لوگوں سے پیسے بھی بٹورے،سابق اہلیہ کی پریس کانفرنس
لاڑکانہ کے قریب ایک اور افسوسناک
واقعہ 💔
رشتہ نہ دینے پر ماں و بیٹی کو قتل کرکے دریا برد کر دیا گیا 🥲
اسی پر بس نہیں
، گھر کو بھی آگ لگا دی گئی
شاہدہ جتوئی اور نغمہ جتوئی کا خون انصاف مانگتا ہے
لاشوں کی وڈیو وائرل ہے
ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کٹہرے میں لایا جائے
جائیداد اور رشتوں کے تنازعات پر قتل کی
وارداتیں اور پھر کارو کاری کے الزامات کے پس پردہ
سندھ میں فرسودہ اور ظالمانہ وڈیرہ شاہی نظام ہے
جس کی سرپرستی میں پولیس و عدالتیں بے بس ہیں
ہم اس لرزہ خیز واقعہ کی مذمت کرتے ہیں
تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ، سندھ میں رشتہ مانگنے پر ماں بیٹی کا لرزہ خیز قتل کیا گیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ لاڑکانہ کے قریب باقرانی (الہی بخش سیال تھانہ) کی حدود میں 8 اپریل 2026 کو پیش آیا، جہاں شاہدہ جتوئی اور اس کی جوان بیٹی نغمہ جتوئی کو فائرنگ کر کے نیم مردہ حالت میں دریا برد کر دیا گیا۔
نام نہاد غیرت اور خاندانی عزت کے نام پر ایک اور بہیمانہ قتل، ایک اور سیاہ دن لیکن یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا ، جب تک کہ اس ملک سے لاقانونیت ، وڈیرہ شاہی اور جہالت ختم نہیں ہوتی، ایسے واقعات یونہی ہوتے رہیں گے۔ کارو کاری کی سرپرستی کرنے والے وڈیروں کی سرکوبی کی جائے۔