We are Afghans and a promise was made to us that the Pashtun geography on this side of the Durand Line would be named 'Afghania'. Afghans are very sensitive about their freedom and Sovereignty.
Mashar Mehmood Khan Achakzai
محسن نقوی کا بیان ایک لمبی چوڑی بحث ہے، اس بیان کو تو خود حکومتی وزراء نے بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ نقوی صاحب نے بس یوں ہی کچھ کہہ دیا ہے۔ انتظامی یونٹس اس طرح نہ تو بنتے ہیں اور نہ ہی بنائے جا سکتے ہیں۔
آج اس معاملے پر رضا ربانی صاحب کا ایک بہترین بیان آیا ہے کہ ان باتوں کو نہ چھیڑیں، پاکستان ایسی باتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ صوبے بڑی مشکل اور اتفاقِ رائے (کنسینسس) سے بنے ہیں۔
پاکستان کے اصل مسائل:
پاکستان کا مسئلہ نئے یونٹس بنانا نہیں ہے،
بلکہ ہمارے اصل مسائل یہ ہیں:
1-ایماندارانہ طرزِ حکمرانی کی شدید کمی۔
2-معاشرے میں عدل و انصاف کا فقدان۔
3-عدلیہ کی عدم آزادی اور پریس (میڈیا) پر پابندیاں۔
4-نچلی سطح سے لے کر اوپر تک پھیلی ہوئی کرپشن اور بربادی۔
مسائل کا حل:
پاکستان کے ان تمام مسائل کا حل درج ذیل اقدامات میں پوشیدہ ہے:
1-آئین کی مکمل بحالی۔
2-پارلیمنٹ کو طاقت کا اصل سرچشمہ بنانا۔
3-ملک میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
5 اگست کو پاکستان کے تمام اضلاع میں، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے تحریک انصاف، پشتونخوامیپ، جمیعت علماء اسلام اور دیگر تمام پارٹیاں مل کر مظاہرے کریں
میری PTI کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ تیاری پکڑے اور اس تحریک کو چلانے کے لیے اپنی تمام صلاحیت کو استعمال کریں
Quetta: Thousands sit-in for a week demanding justice for 30 martyred police. Families on roads with coffins. Yet media, federal & provincial govts, even "human rights champions" are silent.
وزیرستان میں وسائل دریافت ہوئے پھر وزیرستان کے لوگوں کو بے گھر کیا گیا، اب زرغون کے علاقے میں لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے
ان کا خیال ہے کہ یہ ہمیں گھروں سے نکال کر ہمارے وسائل لوٹیں گے، میں وعدہ کرتا ہوں اگر یہ حملہ آور ہو اور میں کھڑا نا رہا تو پھر میں نا پشتون ہونگا نا مسلمان
سانحہ زیارت
وہ آپ کو فون کرتے رہے کہ ہمارے پاس کارتوس نہیں آپ نے پرواہ نہیں کی، آپ کے طیارے، ڈرون، مشینری کس لئے ہیں؟
ان شہیدوں کی لاشیں اٹھانے کیلئے کوئی نہیں جارہا تھا اور جس بے عزتی سے لاشیں ایک دوسرے پر رکھ کر پک اپ گاڈی میں پہنچائی گئی ۔۔۔
Political issues cannot be resolved by simply keeping them out of the media or away from public discussion. When people choose a political and peaceful path such as sit-ins or other forms of nonviolent protest their demands should be addressed through dialogue and negotiation.
"انٹرنیٹ بند کر کے، پاکستان کے جو باشعور طبقہ ہے، جو غیرت مند پولیٹیکل لیڈرز ہیں جو یہاں آنا چاہ رہے تھے؛ جناب محترم محمود خان اچکزئی صاحب، خاقان عباسی صاحب جو سابق پی ایم پاکستان ہیں، ناصر عباس صاحب، مصطفیٰ نواز کھوکھر صاحب اور ان کے ساتھ اور بھی احباب تھے۔
کل کوہالہ کے قریب عالی سیداں کے مقام پہ اسی ظالم، جابر فورسز، جو پچھلے پچیس دنوں سے ہمیں دہشتگردی کا نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے وہاں پہ ان کو روک لیا۔ میں... میں سمجھتا ہوں کہ وہ راولاکوٹ آ گئے۔ وہاں پہ انہوں نے تھوڑی دیر کے لیے اسی سڑک کو بند کر کے دھرنا دیا، اپنی گفتگو رکھی اور پھر جا کے اس آواز کو انہوں نے دبانا چاہا۔
تو میں اس مجمعے کی وساطت سے، کشمیریوں کی طرف سے، کشمیری عوام کی طرف سے، یہاں کی ماؤں بہنوں کی طرف سے، بزرگوں کی طرف سے، بھائیوں کی طرف سے، ان تمام احباب کا شکریہ ادا کروں گا۔ ان کی جرات کو سلام پیش کروں گا کہ کم از کم انہوں نے اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے لیے کوشش تو کی۔ آنے کی کوشش کی، ہم سے ملنے کی کوشش کی، آپ سے مخاطب ہونے کی کوشش کی لیکن روک دیا گیا۔
بعد میں انہوں نے جا کے پریس کانفرنس کی، بڑی تفصیل کے ساتھ ہمارے مطالبات، ہمارے دھرنا اس کی حمایت میں انہوں نے گفتگو کی۔ میں اس سٹیج کی وساطت سے ان تمام احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا نہ تو پاکستانی عوام سے کوئی گلہ شکوہ ہے، نہ لڑائی ہے، نہ پاکستان کے حکمران طبقات سے، نہ کسی ادارے سے ہے، نہ کسی حکومت سے ہے، نہ کسی ریاست کے ساتھ ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔"
قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے ایس ایچ او بارہ کہو کے خلاف سینیٹ میں استحقاق کی تحریک جمع کرادی
سینیٹر راجہ ناصر عباس نے ایس ایچ او بارہ کہو کی جانب سے مبینہ بدتمیزی اور راستہ روکنے پر استحقاق کی تحریک جمع کرائی
بارہ کہو چیک پوسٹ پر گھر جانے سے روکا گیا اور غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا،راجہ ناصر عباس
خود کو سینیٹر اور قائد حزب اختلاف متعارف کرانے کے باوجود پولیس نے راستہ نہ کھولا،تحریک استحقاق
پولیس کا رویہ سینیٹر کی ذمہ داریوں میں رکاوٹ اور ایوان کے استحقاق کی خلاف ورزی ہے،تحریک استحقاق
استحقاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے،تحریک کا متن
معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کرنے کی درخواست، ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی استدعا
سینیٹر راجہ ناصر عباس نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی
If you support the establishment blindly, there may be two possible reasons: either you are driven by a desire for revenge, or you are interested in gaining power.
Amar Ali Jan
#TTAP
ہم سے جو بن پڑا، اور ہم جو بھی امداد یا تعاون کر سکے، وہ ہم آپ کے ساتھ بھی کریں گے اور ہر اس شخص کے ساتھ بھی جو اس کارِ خیر میں آگے بڑھے گا۔ ویسے ہماری خواہش تھی کہ ہم خود جا کر کمیٹی والوں سے سنیں کہ اصل ماجرا کیا ہے، جسے انگریزی میں کہتے ہیں 'From the horse's mouth'۔
میں نے حافظ بھائی سے پہلا سوال یہی کیا تھا کہ آخر نوبت یہاں تک پہنچی ہی کیوں؟ کشمیریوں جیسے لوگ... دیگر لوگوں کے بارے میں تو یہ تاثر ہو سکتا ہے کہ وہ بندوق کے دھنی، دہشت گرد یا مار دھاڑ کرنے والے ہیں، لیکن کشمیری تو بڑے شریف النفس لوگ تھے۔ وہ اس نہج تک کیسے پہنچے کہ آپ کو ان کے خلاف، یا انہیں آپ کے خلاف اتنا سخت مؤقف اپنانا پڑا؟
اللہ کرے... خدا اس ملک پر رحم کرے۔ لیکن رحم کے لیے بھی ایک خاص ماحول درکار ہوتا ہے، جس کے لیے ہم سب کو توبہ کرنی چاہیے۔ شہباز صاحب سے لے کر جرنیلوں تک، اور جرنیلوں سے لے کر حافظ بھائی اور مجھ تک، ہم سب کو توبہ کرنی چاہیے۔ ہمیں سچی توبہ کر کے اور اللہ کا نام لے کر (بسم اللہ کر کے) اس ملک کو ان بلاؤں سے نجات دلانی ہوگی، ورنہ خدانخواستہ ہماری بدعملیاں ہمیں لے ڈوبیں گی۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
Calling Pashtuns Terrorists is Extremely Painful for us.
"My Dress is my Identity, Do not Hate it"
Opposition Leader of Pakistan Honorable Mehmood Khan Achakzai
آپ میٹریل ایجاد کر سکتے ہیں، آپ لیڈر ایجاد نہیں کر سکتے۔ میں چیلنج تو نہیں کر سکتا، یہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ کوئی قریشی، کوئی پاکستانی مجھے بتائے وہ کس ضلعے کا رہنے والا تھا؟ اس کا شناختی کارڈ کیا تھا؟ اور ہم کروڑوں کا ملک 21 ویں صدی میں اتنے گئے گزرے کیوں ہیں؟ کہ جی یہ آپ کا وزیراعظم، ہم نے کہا جی بسم اللہ! پھر دوسرا ابھی جو وزیراعظم بنا ہے، میں کسی کو وہ نہیں کر رہا میں جانتا ہوں۔ وہ لوگ جو ڈسٹرکٹ کونسل کی سیٹ نہیں جیت سکتے، آپ ان کو، چونکہ وہ آپ کی بات مانتا ہے یا اس ایجنڈے کو، جسے آپ اپنی وزڈم میں بہترین ایجنڈا کہتے ہیں، وہ اس کو پرسو (pursue) کرتا ہے، آپ اس کو وزیراعظم بنا دیتے ہیں۔"
نو مئی کے بارے میں یہ مقدمات نہیں ہیں بلکہ تماشا ہے۔
تھانہ شادمان حملہ کیس، شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس، جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کا کیس، سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمات، کلب چوک اور جی او آر ون گیٹ پر حملہ کیس، ریس کورس تھانہ کیس، اور کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے کا کیس۔
ایک آدمی اگر جن بھی ہو، تو وہ ان سب جرائم میں بیک وقت شریک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے تو ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بریو! بریو! سبحان تیری قدرت، سبحان تیری کھیل! پانچ آدمیوں کو آپ نے فی کس 286 سال جیل کی سزا دی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی دیکھ لیں، کسی بھی جمہوریت یا بنانا ڈیموکریسی میں آپ کو اس قسم کی عدالتی کارروائیاں نہیں ملیں گی۔
پاکستان کا آئین ہائی ٹریزن (سنگین غداری) اس بات کو کہتا ہے کہ جو آئین کو توڑے گا، جو آئین کو روندے گا، اور جو آئین کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھے گا، وہ ہائی ٹریزن کا مجرم ہے۔ اور ساتھ ہی وہ سارے لوگ جو اس عمل میں شریک ہوں گے، وہ بھی ہائی ٹریزن کے مجرم ہیں۔
بات یہ ہے کہ ہم تو مجبور ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے۔ کل کسی وزیر نے کہا تھا کہ ہم اسلام آباد میں جیل بنائیں گے۔ بابا! پاکستان میں اب مزید جیلوں کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ نے اس پارلیمنٹ کو ایک ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے معیار سے بھی نیچے گرا دیا ہے، ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی نیچے کر دیا ہے آپ نے۔ آپ رحم نہیں کرتے، بار بار ہم آپ سے کہتے ہیں۔
میں نے اس دن بات کی تھی تو میرے بھائی شہباز نے اس کا جواب دیا تھا، لیکن جس انداز میں وہ بولے، مجھے مزہ نہیں آیا۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
جناب سپیکر! جس انداز میں آپ نے بحیثیت اسپیکر اس ہاؤس کو چلایا، آپ نے نہ آئین اور نہ قانون کا خیال رکھا اور چابک دستوں کے ذریعے اپنے 14 کولیگز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا قومی اسمبلی میں خطاب جو کہ سینسر کردیا گیا
عمران خان سمیت سیاسی قیدیوں اور بزرگ شہریوں کو انتقام کا نشانہ بنا کر جیلوں میں سڑانا بند کیا جائے اور ملک میں جاری ظالمانہ سنسرشپ اور عوامی اجتماعات پر پابندی فوراً ختم کی جائے۔
خٹک بیلٹ، بنوں اور سوات جیسے انتہائی امیر معدنیاتی خطوں کے عوام کو پینے کے صاف پانی تک سے محروم رکھنا ریاست کی بدترین نااہلی اور کھلی ناانصافی ہے۔
ہوش کے ناخن لیں! اس ملک میں اب کسی کی "بادشاہی" نہیں چلے گی، حکمران اللہ سے ڈریں اور عوام کو تماشائی سمجھنے کی بھول نہ کریں۔
: ماضی کی سنگین غلطیوں سے سبق سیکھیں جس کی وجہ سے ملک پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے، اگر اب بھی حقیقی عدل و انصاف قائم نہ کیا گیا تو انجام بھیانک ہوگا۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
#KhansIsolationIsACrime
نون لیگ نے محمود اچکزئی کو بتا دیا ہے, ہماری سیاست ختم شدہ ہے, ہم مزید اِس طرح آگے نہیں چل سکتے!
اور نواز شریف نے تحفظ آئین پاکستان سے بات بھی شروع کی ہے, کہ نیا چارٹر آف ڈیموکریسی بناتے ہیں, اور عوام کے ووٹ سے نئی حکومت بناتے ہیں!!
ڈاکٹر عمار علی چار