اگر واقعی عمران خان کو تمام سہولیات میسر ہیں، تو پھر وہ کیسی سہولیات ہیں جن کے دوران ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہو گئی؟
دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے جہاں ایک سزا یافتہ قیدی، نواز شریف کی طرح، جیل سے براہِ راست بیرونِ ملک روانہ کیا گیا ہو۔
دوسری جانب عمران خان نے کوئی غیرمعمولی سہولت نہیں مانگی، بلکہ صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے ذاتی معالج سے طبی معائنہ اور علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔
اڈیالہ جیل میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم، زرداری، پرویز الٰہی، اور شیخ رشید بھی رہے، لیکن کسی بھی سیاستدان کو اتنے برے حال میں نہیں رکھا گیا جتنے برے حال میں عمران خان کو رکھا گیا ہے!, لیکن پھر بھی عمران خان کوئی ڈیل نہیں مان رہا اور ڈٹا ہوا ہے اپنی قوم کےلئے!حامد میر۔
عمران خان کی جیل میں بیماری کی وجہ سے ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی،
اور چیف جسٹس بے شرموں کی طرح قیدیوں کے حقوق پر کانفرنس کر رہے ہیں،
سہیل آفریدی نے چیف جسٹس سمیت سب کو آئینہ دیکھا دیا ہے،
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کو بھی شرم آنی چاہیے، مطیع اللہ جان
شوکت نواز جیسے بہادر کم ہی ہونگے
علم کی روشنی، ادب کا سحر، ہنر کی مہارت، دانش کی گہرائی، رکھنے والا شوکت نواز میر بنیادی حقوق کے لیے اپنی لڑائی خوب لڑ گیا
مشہور انقلابی چی گویرا جب مخالف فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا تو اس کی مخبری ایک مقامی چرواہے نے کی تھی جب چرواہے سے پوچھا گیا کہ تم نے اس شخص کی مخبری کیوں کی، جبکہ وہ تو تمہارے حق اور بہتر مستقبل کے لیے جان پر کھیل رہا تھا؟ تو چرواہے نے سادہ مگر دل چیر دینے والا جواب دیا: "اس لیے جناب، کیونکہ باغیوں کی گولیوں کی آواز سے میری بکریاں ڈر جاتی ہیں!بس یہی تاریخ آج دھیرکوٹ سنگڑہ بٹھارہ میں دہرائی گئی، فرق صرف یہ ہے شوکت صاحب نہتے تھے اور مخبر کے پاس بکریاں نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات تھے۔
ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر، اور صعیب جاوید جو عوام کے حقوق، انصاف اور بہتر مستقبل کی جنگ لڑ رہے تھے، انہیں آج گرفتار کر لیا گیا۔ وہ جو اپنوں کی آواز بننے نکلے تھے، اپنوں ہی کی خاموشی اور غداری کا نشانہ بن گئے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں ایسے "چرواہے" موجود رہے ہیں جو اپنی چھوٹی سی مصلحت کی خاطر بڑے مقصد کا سودا کر دیتے ہیں۔ مگر یہ بھی تاریخ کا سبق ہے کہ عوام حوصلہ رکھیں سچائی اور قربانی کی آواز کبھی دب نہیں سکتی۔ایک آواز دبائی جا سکتی ہے، عزم نہیں۔ ایک شخص پکڑا جا سکتا ہے، تحریک نہیں شوکت نواز میر اکیلے نہیں، پوری قوم انکے ساتھ ہے۔فتح حق کی ہوگی، ان شاء اللہ۔ ✊
نون لیگ اور عوام کا مکالمہ؛
عوام کا مینڈیٹ چرایا؟ ہاں، چرایا۔
معیشت تباہ کی؟ ہاں، کی۔
کسان اور تاجر کا بیڑا غرق کیا؟ ہاں، کیا۔
صنعت ختم کی؟ ہاں، کی۔
عدالتوں کی آزادی ختم کی؟ ہاں، کی۔
شرم آئی؟ نہیں
ہمیں یہ رپورٹ ملی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بنیادی قانونی حقوق نہیں دیے جا رہے، اور ایک طویل مدت سے عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے،
عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز، وکلاء اور فیملی افراد تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے، اقوامِ متحدہ کا بیان
دو کپ چائے، دو بسکٹس... اور بل 720 روپے!
کراچی کے ایک نجی اسپتال کی کینٹین کا بل سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، جہاں دو کپ چائے اور دو بسکٹس کے لیے 720 روپے وصول کیے گئے۔ بل کی تصویر سامنے آنے کے بعد شہریوں نے مہنگائی اور اسپتالوں میں اشیائے خورونوش کی بلند قیمتوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اسپتال آنے والے افراد پہلے ہی علاج، ادویات اور ٹیسٹوں کے بھاری اخراجات برداشت کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں کینٹین کے نرخ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، جس سے مریضوں کے ساتھ آنے والے تیمارداروں کو بھی اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ معیاری سہولیات اور مہنگے آپریشنل اخراجات کی وجہ سے قیمتیں زیادہ ہو سکتی ہیں، جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ اسپتالوں میں بنیادی اشیائے خورونوش مناسب نرخوں پر دستیاب ہونی چاہئیں تاکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ کی رائے میں دو کپ چائے اور دو بسکٹس کے 720 روپے مناسب ہیں یا نہیں
🚨راولاکوٹ
کشمیریوں کی لازوال مزاحمت۔دریک دھرنا اپڈیٹ ۔
سردار امان کشمیری نے تمام سیاسی جماعتوں پہ
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ دیا۔
عوام کی مکمل تائید
حکمرانو یاد رکھو آج ہم کالعدم ہیں
کل کو اپنی ووٹ کے لیے تمہیں ہمارے قدموں میں
ڈھیر ہونا ہے
اور ہمارے پاس جوتے ہوں گے
اور سامنے تمہارے سر ہوں گے۔