چھتیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کو مجسٹرہٹ کے پاس پیش نہیں کیا گیا ۔۔وہ شدید زخمی ہیں ۔۔۔۔ان۔ کو منظر عام پر لایا جائے
فضل الرحمٰن چلا ہوا کارتوس ہے نا پہلے بھروسہ تھا نا آئندہ کرنا ہے اور اس نے بھی پی پی کے ساتھ مل کے الیکشن کا انونس کر دیا ہے ۔ ۷۰ سال کا سفر ہے شے رگ سے دہشت گرد تک 🌝اتنا جلدی نہیں ٹوٹے گا لیکن ٹوٹے گا ضرور انشاء اللہ ۔الیکشن کے لئے لوگ کلعدم نہیں ہیں مذاکرات کے لئے کلعدم —
ٹیکنالوجیا
5 جولائی کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر پورے آزاد کشمیر میں عوامی مارچ کیے جائیں گے، جبکہ جاری دھرنے اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق بدستور جاری رہیں گے۔ یہ فیصلہ عوامی اتحاد، یکجہتی اور اپنے مؤقف کے پُرامن اظہار کی علامت ہے۔ آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز میں عوام بھرپور انداز میں شرکت کرکے یہ پیغام دیں گے کہ اجتماعی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی روز برطانیہ میں مقیم کشمیری بھی بڑے عوامی مارچ کے ذریعے اپنی یکجہتی کا اظہار کریں گے، جس سے یہ ثابت ہوگا کہ وطن کے اندر اور بیرونِ ملک کشمیری ایک ہی مقصد اور ایک ہی جذبے کے ساتھ کھڑے ہیں
#RightsMovementAJK
گزشتہ رات بی بی سی اردو نے اپنی رپورٹ میں بھی بتایا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر مظفرآباد نے گرفتاری کی تصدیق کی، جبکہ ایس ایس پی مظفرآباد نے کہا کہ شوکت نواز میر مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے اور انہیں ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے اور چند رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا گیا۔
ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں انصاف کے نظام اور قانون کے نفاذ پر عوام کے شدید تحفظات موجود ہیں، اور ماضی کے تجربات نے لوگوں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود ہمارا مؤقف یہی ہے کہ قانون کا احترام کرتے ہوئے قانونی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ:
شوکت نواز میر کو قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر مجاز عدالت میں پیش کیا جائے۔
ان کی گرفتاری، مقامِ حراست اور صحت کے بارے میں اہلِ خانہ اور عوام کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے۔
انہیں آئین اور قانون کے مطابق تمام بنیادی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔
اگر مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل نہ کیا گیا، عدالت میں بروقت پیش نہ کیا گیا یا ان کے مقام اور حالت کے بارے میں معلومات فراہم نہ کی گئیں، تو جبری گمشدگی کے خدشات پیدا ہوں گے، جن پر پرامن اور قانونی انداز میں آواز اٹھانا ہر باشعور شہری کا حق ہے۔
ہم تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پُرامن رہیں، صرف مصدقہ معلومات پر اعتماد کریں ۔
ہمارا واضح مطالبہ ہے:
شوکت نواز میر کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے، ان کی صحت اور خیریت سے متعلق عوام کو آگاہ کیا جائے، اور تمام قانونی تقاضے مکمل شفافیت کے ساتھ پورے کیے جائیں ۔
#AJKRightsmovement
اگر پاکستانی جرنیل اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان پر بمباری انہیں کامیابی دلا سکتی ہے، تو بہتر ہے کہ پہلے اپنے استادوں، یعنی امریکی جرنیلوں سے اس تجربے کے نتائج کے بارے میں پوچھ لیں۔ پاکستانی جرنیلوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ افغان سرزمین پر بم گرانا تو آسان ہے، لیکن اس کے ردِعمل کا سامنا کرنا اور اس کا حساب چکانا بہت بھاری قیمت کا تقاضا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس طاقت نے بھی افغانستان کے خلاف طاقت اور بارود کی زبان استعمال کی، آخرکار اسے شکست، زوال اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
افغانوں سے دشمنی چند دنوں یا چند مہینوں کی جنگ نہیں، بلکہ ایسا حساب ہے جسے چکانے میں کبھی کبھی کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اگر پاکستانی جرنیل یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ بھی بھارت کے ساتھ ہونے والی چند روزہ جذباتی بمباری اور جوابی حملوں تک محدود رہے گی، یا وہ بمباری کے ذریعے افغانوں کو جھکا لیں گے، تو وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
افغان جنگ آہستہ ضرور لڑتے ہیں، مگر صبر، استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ لڑتے ہیں۔ نہ وہ موت سے خوف کھاتے ہیں اور نہ طویل جنگ سے تھکتے ہیں۔ پاکستانی جرنیل آج بموں کا جو کھیل شروع کر رہے ہیں، افغان گزشتہ چالیس برس سے اس کھیل سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کا حساب ابھی نیٹو اور امریکہ کے ساتھ بھی پورا نہیں ہوا، حالانکہ وہی ان پاکستانی جرنیلوں کے سب سے بڑے سرپرست اور تربیت دینے والے تھے؛ اس لیے ان جرنیلوں کے ساتھ ان کا حساب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا...
🔗مکمل تحرير
https://t.co/bCoOmvcpbP
تاریخ میں لکھا جائے گا کے اس دنیا میں ایک ریاست ایسی بھی تھی جس میں تم ہزاروں کو مارتے تھے تا لاکھوں اور نکل جاتے تھے ۔ریاست کشمیر کی غیور عوام کو سرخ سلام 🫡
تاریخ میں ایسا دھرنا کبھی نہیں دیکھا ھوگا
#RightsMovementAJK
🍁حافظ احسن ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی تحصیل دھیرکوٹ
یہ وہ مرد و مجاہد ہے جس نے شوکت نواز میر صاحب کی حفاظت کی اور اہنے گھر میں رکھا.
صبح سرچ آپریشن کے دوران حافظ احسن کے پاؤں میں گولی لگنے کے باوجود وہ فورسز کی گرفت میں نہ آ سکا۔ اس کے بعد فورسز نے حافظ احسن کے گھر پر دھاوا بول دیا اور گھر کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ بعد ازاں حافظ احسن کے آٹھ سالہ بھائی کو یرغمال بنا لیا گیا اور اسے دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہوئے حافظ احسن کو گرفتاری دینے پر مجبور کیا گیا۔
#AjkRightmovement
A few days ago, Nasir Masood Advocate, a young lawyer from Kotli, Azad Jammu and Kashmir, and a candidate for the Legislative Assembly, was taken into custody during a raid in Rawalpindi at around 2:00 a.m. He was subsequently transferred to an undisclosed location.
According to reports, Mr. Nasir Masood had travelled to Rawalpindi for his daughter’s medical treatment when he was arrested. Since his detention, his family has been unable to establish any contact with him, and no official information has been provided regarding his whereabouts or well-being. This has caused grave concern among his family, friends, and supporters.
Chaudhry Nasir Masood Advocate is the younger brother of Asif Masood Chaudhry, the former Deputy Mayor of Luton. There are growing calls for the authorities to disclose his whereabouts, ensure his safety and well-being, and uphold his legal and fundamental rights in accordance with the law.
@HamidMirPAK@AzazSyed@Matiullahjan919@HabibAkram@AdeelHabib_@BBCNews@mehdirhasan@UNHumanRights
#RightsMovementAJK
#AzadKashmir
منحوس کہ ایسے رہا ہے جیسے اس کے باپ کی جاگیر ہو
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا آئینی ڈھانچہ خود ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہاں کی “آزادی” کا نام تو ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پچھلے کئی دہائیوں سے یہاں کا نظام ایسا چلایا گیا ہے جیسے یہ کسی ایک خاندان یا پارٹی کی جاگیر ہو۔
• مقامی عوام کی مرضی اور آواز کو بار بار دبایا گیا۔
• انتخابات اور سیاسی عمل کو بار بار مداخلت کا نشانہ بنایا گیا۔
• جب بھی کوئی مقامی قیادت عوام کے حقیقی مسائل اٹھاتی ہے تو “غیر ملکی ایجنسیوں” کا لیبل لگا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔
اگر واقعی آئینی ڈھانچہ مضبوط ہوتا تو پھر یہ “کمیٹی”، “غیر ملکی روابط” اور “انٹیلی جنس ایکشن” والے ڈرامے کیوں کھیلے جا رہے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ کشمیر عوام کا ہے، نہ کسی کی جاگیر۔
جب تک یہاں حقیقی خودمختاری، شفاف انتخابات اور مقامی عوام کی مرضی کا احترام نہیں ہوگا، تب تک یہ “آئینی ڈھانچہ” صرف کاغذوں تک محدود رہے گا۔
کشمیر کے لوگوں کو ان کے حق خودارادیت اور بہتر مستقبل کا حق ہے —