پہلے یہ فیصلہ کر لو کہ آپ کو اعتراض کس بات پر ہے
-نوجوان لڑکوں میں گھری ہوئی ایک خاتون کی عزت بچانے پر -
اپنی بیوی کی عزت بچانے پر-
وردی پہن کر عزت بچانے پر
یا پھر ہوائی فائر کرنے پر
(رانا سہیلُ——اردو خبرنامہ کینیڈا)
یہ ہے وہ جنسی درندہ جدون خان یہوتھیا جس نے آج سرحد یونیورسٹی میں سارا کھیل رچا
اس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے درجنوں الزامات تھے ڈاکٹر آئینہ نے اس کے خلاف بچیوں کی طرف سے شکایت کی جس پر اس نے ان کے دفتر میں ان پر حملہ کیا
ڈاکٹر آئینہ نے اس پر پولیس میں شکایت بھی جس پر اس نے تحریری معافی مانگی
جب اس کی حرکات پر اسے فارغ کیا گیا تو اس نے چند اسٹوڈنٹس کو ساتھ ملا کر پھر سے ہلڑ بازی کی تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے اور ان کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے
مجھے فخر ہے اس بیٹے ، بھائی ، باپ اور شوہر پر جس نے اپنے گھر کی عزت کیطرف اٹھنے والے ہاتھ کو روکا
یونیفارم پہننے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیہودگی کے سامنے ہاتھ جوڑے خاموش تماشائی بنے رہیں
سرحدوں کے محافظ اپنے گھر کی بھی حفاظت کرنا جانتے ہیں
انصاف کا مطالبہ کریں۔ مزید خاموشی اب برداشت نہیں۔🚨
👈سرحد یونیورسٹی کے اساتذہ کی گروپ چیٹ لیک ہو گئی ہے ڈاکٹر جدون اصل ماسٹر مائنڈ ہے جس نے باقی ٹیچرز ساتھ ملکر سیاست کی اور یونیورسٹی کے طلباء کو استعمال کیا
اگر فوج سے اپنے افسر کو سزا سے سکتی ہے تو حکومت کو چاہیے ان سب اساتذہ کو بھی سزا دے اور ان تمام کرداروں کو بھی جنہوں نے اس واردات میں حصہ لیا 🚨🚨
سب پاکستانی آواز اٹھائیں
بناسپتی گھی، آر بی ڈی پام آئل سے بنتا ہے، کرونا دور میں اس کے نرخ دگنے ہوئے تو گھی سازوں نے گھی اور ککنگ آئل سے نرخ اڑھائی گنا کر دئیے۔ کرونا کے بعد آر بی ڈی کے نرخ تو واپس آ گئے، لیکن گھی اور خوردنی تیل کے نرخ اسی جگہ پر ساکن ہیں، ایک گھی مل والا مل چلنے کے تین ماہ میں اپنی ٹوٹل انوسیٹمنٹ نکال لیتا ہے، اتنا منافع تو ہیروئن سمگلنگ میں بھی نہیں۔
آواز اٹھائیے یا لٹتے رہئے
ہراسانی کے کیسز چھپانے کے لیے طلبہ کے مجمعے کو ہتھیار بنا لیا؟ 🚨 سرحد یونیورسٹی واقعے کی اصل سچائی سامنے آ گئی۔ برطرف ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون خان کے اپنے پرانے ہراسانی کے ریکارڈ اور معافی نامے آن ریکارڈ ہیں۔ جب انہوں نے مشتعل ہجوم کے ذریعے ڈاکٹر آئینہ اور ان کے شوہر پر چڑھائی کروائی، تو کرنل اسفندیار نے محض اپنی اور اہلیہ کی جان بچانے کے لیے خود دفاع کا قدم اٹھایا۔ مفرور ڈرامے باز کے بجائے عورت کی عزت کے لیے کھڑے ہونے والے افسر کی حمایت ہونی چاہیے! 🔥
عسکری حکام کا سرحد یونیورسٹی روات کیمپس واقعے کا فوری نوٹس لے کر انکوائری شروع کرنا قابلِ تحسین ہے۔ مگر ویڈیو میں خاتون کو مشتعل ڈنڈا بردار ہجوم کے گھیرے اور دھکوں سے دوچار دیکھ کر بھی خاموش رہنا ناقابلِ فہم ہے۔ قانون اگر ایک افسر کے خلاف حرکت میں آ سکتا ہے تو اس مشتعل جتھے سے بھی قانون کے مطابق نمٹا جانا چاہیے۔ انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
یہ ہیں ہمارے بہادر کرنل جو اپنے ملک کے بچوں اور خواتین کی عزت کے دفاع کے لئے اپنی نوکری اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور جہاں ظلم دیکھتے ہیں وہاں ڈٹ جاتے ہیں
#WeStandWithColAsfandYar
اس ملک میں فوج کو گالی دے کر دانشور بننا اور فوج کے ہر جائز کام میں کیڑے نکالنا صحافت کا فیشن بن چکا ہے۔ جو جتنا فوج مخالف بیانیہ بیچے اس کا وی لاگ اتنا چلے، عالمی اداروں کی فیلوشپس اتنی ملیں اور اسے پاکستان کی صحافت کا ’’چہرہ‘‘ بنا کر پیش کیا جائے۔
لیکن جب شہداء کی قربانی کا ذکر آئے تو جواب ملتا ہے ’’وہ تو تنخواہ لیتے تھے۔‘‘
اور جب اپنے مفادات پر ضرب پڑے تو خاور مانیکا بننے میں دیر نہیں لگتی۔ اس لیے کرنل اسفند یار کے معاملے میں بھی شور سے زیادہ کردار اور مفاد دیکھیں بعض لوگوں کی تنقید اصول نہیں مستقل روزگار اور ڈالرز کا بیانیہ ہوتی ہے۔
#ColAsfnadyarZindaBad
کرنل کے خلاف محکمانہ کاروائی کریں نوکری سے برخاست کریں کورٹ مارشل کرکے پابند سلاسل کریں لیکن ان مادر چودوں کو پٹہ ضرور ڈالیں جو اس وقوعہ کی آڑ میں شہداء کے خلاف اپنا بغض نکال رہے ہیں اور اس وردی کو گالی دے رہے ہیں جن وردی والوں کی وجہ سے آپ نے 10 مئی کو اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو گھر میں گھس کر مارا
العارض
سرحد یونیورسٹی واقعہ
مکمل تفصیلات بمعہ ثبوت حاضر ہیں 👇
اصل قصوروار کون؟؟ سب سامنے آگیا
کسی بھی واقع پر رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں سیاق و سباق پر نظر ڈالنی چاہئیے اور جاننا چاہئیے کہ اصل حقائق ہیں کیا۔ آج جو افسوسناک واقع سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا یہ اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اسکا تعلق گزشتہ کئی روز سے چلنے والے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات سے ہے۔ لہٰذا !! سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقع کو سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل صورتحال سے واقف ہونا لازمی ہے
چند روز قبل بنوں کے رہائیشی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان جسے کرپٹ سروسز/ رشوت خوری اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں* عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اسکی جگہ Miss Aina کو تعینات کیا گیا جو کہ جدون اور اسکے حواریوں کو ہضم نا ہوا۔
کچھ روز قبل جدون مس عینا کے دفتر گیا ان سے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دی۔ جسکے بعد Miss Aina نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دیکر جدون کیخلاف درخواست دی جسکی کاپی اٹیچ ہے 👇لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملہ رفع دفع کیا اور بات خالی پولیس اپلیکشن تک محدود رہی۔ ذیل میں بیان کردہ نکات فراہم کردہ ابتدائی رپورٹ/ذرائع کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں۔ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ انکوائری اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا*
معاملے کا آغاز:ابتدائی اطلاعات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے خلاف شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ نے ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرائی۔
یونیورسٹی کی کارروائی:شکایت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ HOD کو معطل کیا اور معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔
احتجاج کا آغاز:معطل شدہ HOD کی بحالی کے مطالبے پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے معطل HOD سمیت احتجاج شروع کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آئینہ صورتحال کو سنبھالنے اور مظاہرین سے بات چیت کے لیے وہاں پہنچیں۔
مبینہ بدسلوکی:ابتدائی رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور انہیں دھمکی دی۔ ان الزامات کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔
فوجی افسر کی آمد:ڈاکٹر آئینہ نے مبینہ واقعے کے بعد اپنے شوہر، جو پاک فوج کے افسر ہیں، کو اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق افسر تنہا یونیورسٹی پہنچے اور ان کے ساتھ کوئی فوجی دستہ یا جوان موجود نہیں تھا
ابتدائی تصادم: رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آئینہ نے افسر کو اس نوجوان کی نشاندہی کی جس پر بدسلوکی کا الزام تھا۔ افسر اس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے سرزنش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
ہجوم اور ہاتھا پائی: ابتدائی اطلاعات کے مطابق طلبہ کے ایک گروہ نے افسر کو گھیر لیا۔ دھکم پیل کے دوران ڈاکٹر آئینہ کے گرنے اور افسر پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
فائرنگ کا واقعہ: رپورٹ کے مطابق کشیدہ صورتحال میں افسر نے اپنا اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم یہ معاملہ بھی باقاعدہ انکوائری اور قانونی جانچ کے تحت ہے کہ اس موقع پر طاقت کے استعمال کی نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی۔
حملے کے الزامات:ذرائع کے مطابق ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر متعدد افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں 37 افراد پر افسر پر مبینہ حملے، جن میں کہنی، مکے اور لوہے کی راڈ کے استعمال کے الزامات شامل ہیں، کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
قانونی کارروائی:رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اب ساری صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک باشعور انسان واضح طور پر سمجھ سکتا ہے کہ اصل قصور وار کون ہے۔؟؟ لہٰذا کسی واقع کے متعلق فوری رائے قائم کرنے سے قبل حقائق اور دونوں جانب کے رُخ کو پرکھنا اور دیکھنا انتہائی لازم ہے۔
یہ ایک سادہ واقعہ نہیں، یہ عزت کی جنگ ہے۔
ایک پختون کرنل، جو اپنی بیوی کی عزت بچانے کے لیے کھڑا ہوا۔ وہی بیوی جسے سرحد یونیورسٹی کے ایک ٹیچر نے پہلے ہراساں کیا تھا، اور اس پر ہراسمنٹ ثابت بھی ہوچکا تھا۔
مگر پھر کیا ہوا؟ وہی طلباء جو پختون ہیں، اسی کنجر ٹیچر کے حق میں احتجاج پر اتر آئے۔ ثبوت کے باوجود۔ حقیقت کے باوجود۔
یہ معاملہ کتنا سادہ لگتا ہے کچھ لوگوں کو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عزت بچانے کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ میں سب سے پہلے اس شخص سے حساب لینا ہوگا جس نے خاتون کو ہراساں کیا۔ پھر ان لوگوں سے جو ثبوت دیکھنے کے باوجود اس آدمی کی بحالی کے لیے احتجاج پر نکل آئے۔ اور آخر میں جو بھی فیصلہ ہو، وہ ثبوتوں اور میرٹ پر ہونا چاہیے۔
ایک بات یاد رکھیں:
بہن، بیٹی اور بیوی کی عزت پر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔
جو لوگ عزتوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں مجرم نہ بنائیں۔ ورنہ کل آپ خود کسی جنگلی جانور کے سامنے یوں ہی بے بس کھڑے نظر آئیں گے۔
عزت بچانا جرم نہیں۔ عزت بچانے والوں کو مجرم بنانا جرم ہے۔
اب چاہے کورٹ مارشل ہو یا کچھ اور, لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار نے جو ایکشن لیا وہ کوئی بھی غیرت مند شوہر اپنی بیوی کیلئے لیتا-
نتیجہ کچھ بھی نکلے, میں کسی بھی صورت ایسے سٹوڈنٹس کی طرفداری نہیں کر سکتا جنکی تربیت نہ انکے ماں باپ نے ٹھیک طریقے سے کی اور نہ ہی استادوں نے انہیں کچھ سکھایا-
ڈاکٹر آئینہ اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تنازعہ انتظامی نوعیت کا تھا جس میں یونیورسٹی انتظامیہ نے انکوائری کے بعد ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو قصوروار گردانتے ہوۓ معطل کیا-
سٹوڈنٹس کو یہ حق کس نے دیا کہ اگر وہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے ہمدردی رکھتے ہیں تو وہ اسکا بدلہ لینے کیلئے ڈاکٹر آئینہ کا گھیراؤ کریں, انکے ساتھ بدتمیزی کریں, گندی زبان استعمال کریں بلکہ یہاں تک کہ دست درازی کرتے ہوۓ انکے گریبان پر ہاتھ ڈالیں؟
واقعے کی مکمّل اور غیر جانبدار انکوائری کی ضرورت ہے تاکہ سٹوڈنٹس میں سے اوباش عناصر کی نشاندہی ہو اور انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے-
اس معاملے میں میری مکمّل ہمدردی لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کے ساتھ ہے کیونکہ انہیں انکی اہلیہ نے تب فون کیا جب انہوں نے خود کو اس جنگلی اور مشتعل ہجوم کے سامنے غیر محفوظ تصوّر کیا-
@OfficialDGISPR@PakPMO
مجھے اُس فوجی آفیسر پر فخر ہے جس نے آج سرحد یونیورسٹی کے غنڈوں کے بیچ میں گھس کر اپنی غیرت کی جنگ جیتی۔ نوکری آنے جانے والی چیز ہے عزت اور غیرت کی حفاظت ہی زندگی ہے ۔
ایک فوجی افسر اپنی اہلیہ کی عزت اور حفاظت کے لیے چند غنڈوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے—یہی ہے غیرت، حوصلہ اور فرض کی اصل مثال
اپ کس کے ساتھ ہیں اپشن تصویر میں موجود ہیں
اسفند یار خان، جوان اسی تیرے توں راضی آں!!
ایک غیرت مند پشتون ایسا ہی ہونا چاہئے، رب نے تجھے قوم کی بیٹیوں کی عزت کا نگہبان بنایا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ تم اپنی بیوی کی عزت کیلئے ڈٹ کر کھڑے نہ ہوتے؟؟
جو تم نے کیا ہر غیرتمند پاکستانی اس موقع پر کم از کم یہی کرتا.
اہم سوال یہ بھی کہ ان ذہنوں میں بارود کس نے بھرا۔ ففتھ جنریشن کی پوری فوج بنا کر ایک سیاسی جماعت کو تھما دی گئی اب وہ فوج پاکستان کی فوج پر بھونک ہی نہیں رہی کاٹ بھی رہی ہے۔
یا پھر ملک کو ایسے ہی جلتے اور سلگتے رہنے دیں یا پھر اس فتنہ عمران کو سنجیدگی سے ختم کریں معاملہ مزید درمیان میں نہیں لٹک سکتا