ڈی جی صاحب اپنے بیمار ذہن سے یہ خناس نکال دیں کہ آپ ریاست ہیں۔
اپ ریاست کے ایک ستون کی ایک وزارت کا ذیلی محکمہ ہیں۔
آپ ہمارے تنخواہ دار۔ملازم ہیں۔ اپنی اوقات سے بڑھ کر بات کرنا چھوڑ دیں
To the people of Balochistan: The time has come to claim your freedom. As we bring an end to Pakistan, rise up, strike, and take what is rightfully yours.
بلاول زرداری نےبلوچوں کودہشت گردقراردیکر
پوری بلوچ قوم کی توہین کی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹوزرداری نےگڑھی خدابخش میں ذوالفقارعلی بھٹوکی برسی کےموقع پر اپنی تقریرمیں بلوچ حقوق کی جدوجہد کودہشت گردی سے تعبیرکرکےاوربلوچوں کودہشت گردقراردیکرپوری بلوچ قوم کی توہین کی ہےجوانتہائی قابل مذمت اورشرمناک ہے۔بلاول بھٹوکویہ کلمات اداکرتے ہوئےشرم آنی چاہیے۔بلاول بھٹونے بلوچوں کے خلاف یہ شرمناک بات کرکے دراصل اسٹیبلشمنٹ کوخوش کرنےکی کوشش کی ہےتاکہ اسےآئندہ اقتدارمل سکے۔ب��اول کےناناذوالفقارعلی بھٹونے بھی جرنیلوں کوخوش کرنےکےلئے بہت کچھ کیا،جرنیلوں کی آغوش میں سیاسی پرورش پائی،وہ پاکستان کےپہلے ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کوڈیڈی کہاکرتےتھے،جنرل ایوب خان کی کابینہ میں شامل رہے،اسکےبعد جنرل یحییٰ خان کےساتھ رہے،جنرل یحییٰ کی آشیربادسے پیپلزپارٹی تشکیل دی،بھٹونے1970ءکےالیکشن میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کےتحت انتخابات میں بھاری اکثریت سےکامیابی حاصل کرنےوالی عوامی لیگ کواقتدارمنتقل نہیں کیابلکہ ''اِدھرہم اُدھر تم'' کانعرہ لگایااور بنگالیوں کواقتداردینےکےبجائےان کےخلاف فوجی آپریشن کی کھل کرحمایت کی جس کےدوران لاکھوں بنگالیوں کاقتل عام کیاگیااورلاکھوں بنگالی بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی اور ان مظالم کے نتیجےمیں پاکستان دولخت ہوگیا۔سانحہ مشرقی پاکستان کےذمہ دار جہاں جنرل یحییٰ خان اوراس وقت کے دیگرکرپٹ فوجی جرنیل تھے وہیں بلاول بھٹوکے نانا ذوالفقارعلی بھٹوبھی اس کے پوری طرح ذمہ دارہیں۔
بلاول بھٹو شاید یہ بھول گئےکہ کرپٹ جرنیلوں کےبوٹ پالش کرنےکےباوجود بھٹوکوکس نے پھانسی دی،بلاول کے ماموں شاہنوازبھٹواورمیرمرتضیٰ بھٹوکوکس نےقتل کیا،بلاول کی والدہ محترمہ بینظیربھٹو کوکس نےشہید کیا۔بلاول کیامحض اقتدارحاصل کرنےکےلئےاپنےنانا،اپنی ماں اوراپنے ماموں کاخون بھول گئے؟بلاول اقتدار حاصل کرکےاورکتنے محلات بنالیں گے؟ اگرمزیدمحلات بنالیں گےتوکیاوہ ان محلات اوردولت وجائیداد کوقبرمیں لیکرجائیں گے؟بلاول کی حکومت ِبلوچستان پہلےہی مظلوم بلوچوں پرظلم وستم ڈھارہی ہےاوروہ بلوچوں سے شرمندگی کااظہارکرنےکےبجائےانہیں دہشت گردکہہ رہےہیں جوقابل مذمت ہے۔ میں یہ ثابت کرسکتاہوں کہ اصل دہشت گرد پیپلزپارٹی ہے جس کی دہشت گردی پاکستان کی تاریخ کے ریکارڈپر موجودہے۔
بلوچ قوم کی بیٹی ماہ رنگ بلوچ نے دیگرخواتین کےساتھ اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کےلئے میدان عمل میں آکراحتجاج کیاتوانہیں گرفتارکرلیاگیا،اس ظلم پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل نے پرامن لانگ مارچ نکالاہے توان کو حکومتی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہے۔
یہ امرانتہائی افسوسناک ہےکہ مظلوم بلوچوں کےزخموں پرمرہم رکھنےکےبجائےاوران سےہمدردی کااظہارکرنے کےبجائے گزشتہ روز پنجاب کےشہر گوجرانوالہ میں سرداراخترمینگل اورماہ رنگ بلوچ کےخلاف احتجاجی مظاہر ہ کیاگیااورانہیں دہشت گردکہاگیا۔
میں پوچھتاہوں کہ کیاسرداراخترمینگل نےکسی پر کوئی گولی چلائی ؟ کہیں کوئی دہشت گردی کی ؟ کسی پر کوئی خودکش حملہ کیابلکہ بلوچ خواتین کی گرفتاری کے خلاف آئینی وقانونی جدوجہد کرنے پراخترمینگل پرخ��دکش حملہ کیاگیا،ان کےلوگوں پر فائرنگ کی گئی۔سرداراختر مینگل نے توپاکستان کےجغرافیے میں رہتے ہوئے حقوق کی بات کی ہے۔
کیاماہ رنگ بلوچ نے کسی پر کوئی بندوق تانی تھی؟ انہو ں نے کونسی دہشت گردی کی ہے ؟ ماہ رنگ بلوچ نے تولاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے پرامن انداز میں احتجاج کیاتھا۔
کیااہل پنجاب کی نظرمیں لوگوں کوگرفتارکرکے مہینوں ،برسوں لاپتہ کردیناایک انسانی مسئلہ نہیں ہے؟
صدرپاکستان ��وروزیراعظم جواب دیں کہ پولیس، رینجرز،ایف سی یاکسی بھی سیکوریٹی ادارے کوکس قانون کےتحت یہ اختیارحاصل ہےکہ وہ کسی بھی شہری کوبغیروارنٹ گرفتارکرکے اسے عدالت میں پیش کرنے کے بجائے لاپتہ کردیں؟ بڑی تعدادمیں بلوچ لاپتہ ہیں، ایم کیوایم کے متعددکارکنان آج بھی لاپتہ ہیں، حتیٰ کہ بہت سے ایم کیوایم کے کارکنان جنہیں 1992ء کے آپریشن کے دوران گرفتارکرکے لاپتہ کیاگیاتھاوہ بھی آج تک لاپتہ ہیں، کیایہ ظلم نہیں ہے؟
میں پنجاب کے لوگوں سے پھر کہتاہوں کہ خدارا وہ ایسا طرز عمل نہ اپنائیں جو انہوں نے 1971میں اپنایاتھا، خدارابلوچوں کودہشت گردکہنے کے بجائےان کے زخموں پر مرہم رکھیں،ان سےہمدردی اوریکجہتی کااظہارکریں۔
میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل کے پرامن احتجاج کی حمایت کرتاہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ اخترمینگل کے جائزمطالبات کوتسلیم کرے اورماہ رنگ بلوچ سمیت تمام بلوچ بیٹیوں اوردیگرگرفتارشدگان کورہاکرےاورلاپتہ بلوچوں کوبازیاب کرے۔
الطاف حسین
فکری نشست نمبر235 سے خطاب
@sakhtarmengal
@drmaharang
https://t.co/Un4abrkVAS
بس رڳو هڪڙي ڳالهه ذهن ۾ رکجو ته قبضو صرف درياه تي ڪون ٿيو آهي..
قبضو ته توهان جي پوري سرزمین تي ٿيل آهي، قبضو ته توهان جي سمند ۽ ساحل تي به ٿيل آهي، قبضو ته توهان جي معدنيات تي به ٿيل آهي، توهان جي ريگستان ۽ ڪوهستان تي به ٿيل آهي،
#CanalNamanzoor#NoMoreCanalsOnindus
بس رڳو هڪڙي ڳالهه ذهن ۾ رکجو ته قبضو صرف درياه تي ڪون ٿيو آهي..
قبضو ته توهان جي پوري سرزمین تي ٿيل آهي، قبضو ته توهان جي سمند ۽ ساحل تي به ٿيل آهي، قبضو ته توهان جي معدنيات تي به ٿيل آهي، توهان جي ريگستان ۽ ڪوهستان تي به ٿيل آهي،
#CanalNamanzoor#NoMoreCanalsOnindus
طیارے نے یوٹرن لیا، پھر ریڈار سے غائب‘: بشار الاسد دمشق چھوڑ کر کہاں گئے؟
شام کے دارالحکومت دمشق پر باغیوں کی جانب سے قبضہ کرنے کے چند گھنٹوں بعد اس کے اتحادی ملک روس نے اعلان کیا ہے کہ صدر بشار الاسد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام چھوڑ چکے ہیں۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں لیکن یہ سرکاری طور پر پہلی تصدیق تھی کہ وہ ملک چھوڑ چکے ہیں۔
انگریزوں کا دور تہا، یہاں بغاوت کرنے کی سزا موت تھی، ویسی تو باغیوں کو پھانسی بھی دی جاتی تھی، جس کا رجحاں اب کم ہے، کیوں اس سے لوگوں کے جذبات ابھرتے ہیں اور وہ سچ کی طرف بہت تیزی سے ڈائیورڈ ہوتے ہیں، اگر ہم اپنے وطں کا دفاع کریں تو دھشتگرد آپ قتل بھی کرو ہو تو کرامات کرو ھو۔
1995 میں کراچی میں امریکی سفارتکاروں پر حملہ ہوا تھا۔ کل رات چینی انجینئیرز کو نشانہ بنایا گیا۔ 29 سال میں بھی پاکستانی ریاست متشدد گروہوں اور دہشت گردی پر قابو نہیں پاسکی۔ دنیا پاکستان کو ناکام یا کمزور ریاست کہے تو پاکستانی غصہ میں آجاتے ہیں۔
We have reached home safe and sound. Dr. Mahrang Baloch is with me, and she is safe. A number of male police officers, along with men in plain clothes, intending to disappear us, blocked our car minutes after we left Karachi airport. They had
left us on a deserted dark road after lots of resistance from us. Men police officers and some men in civilian dress pulled at our clothes and dupatta, searched us, used derogatory language, and went through our baggage. They confiscated Mahrang Baloch’s mobile phone, passport, and other belongings. They snatched the keys to our car, tortured the driver, and abused us, before leaving us stranded in the middle of the night on a deserted highway. Later, multiple cars and unknown individuals continued to traumatize and harass us. This was a deliberate attempt to harass, intimidate, and silence us, but we refuse to be silenced and are not afraid of this sheer barbarism. We must all speak out against this madness and injustice. If this has happened to us today, it could happen to you tomorrow. Let’s join hands and raise our voices together.