اگر ریاست سچ میں عوام سے مخلص ہے اور ملک کو صحیح سمت میں لانے کیلئے انتظامی یونٹ بنانا چاہتی ہے اور چند خاندان جو سرٹیفائڈ کرپٹ چور ڈاکو ہیں انکا قبضہ ختم کروانا چاہتی ہے تو
اسے الطاف حسین کی MQM کو واپس لانا پڑے گا
یعنی OG ایم کیو ایم
جئے الطاف حسین
سدا جئے
آمین
#LiftBanOnAltafHussain
#MakeNewProvinceInPak
چولہا مٹی کا،مٹی تالاب کی،تالاب ٹھاکر کا
بھوک روٹی کی،روٹی باجرے کی
باجرا کھیت کا،کھیت ٹھاکر کا
بیل ٹھاکر کا،ہل ٹھاکر کا
ہل کی مٹھیا پر ہتھیلی اپنی،فصل ٹھاکر کی
کنواں ٹھاکر کا،پانی ٹھاکر کا
کھیت کھلیان ٹھاکر کے،
گلی محلےٹھاکر کے
پھر اپنا کیا؟
گاؤں؟ شہر؟ دیش؟
🟥🟩⬜
@AltafHussain_90@OfficialMQM
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹس اینکرز، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کی پہچان کیسے ہو ؟ دیکھیے اس تازہ وڈیو لاگ میں ۔
وفا پرست اپنے اتحاد سے منفی پروپیگنڈے کی لہر کو ناکام بنائیں
2/2
اور اس کے کچھ ماہ بعد ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیااورحقیقی کے نام سے گروپ بناکرمہاجروں کے اتحاد کو کمزورکرنے کی کوشش کی گئی۔ میں 34 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اورجلاوطنی میں رہتے ہوئے پاکستان کے غریب عوام کے حقوق کی جدوجہد میں دن رات مصروف ہوں۔
بدقسمتی سے پاکستان دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا ملک بن کررہ گیا ہے اورغریب عوام غلاموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔پاکستان میں دہرا نظام رائج ہے، ملک کے 98 فیصد غریب عوام اردوبولتے اورپڑھتے ہیں لیکن پاکستان کاعدالتی نظام اورپورا نظام حکومت انگریزی زبان میں چلایاجارہا ہے۔ دہرے تعلیمی نظام کے باعث ایچی سن اورگرائمر اسکولوں میں صرف دولت مندخاندانوں کے بچے ہی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور ان اسکولوں میں غریبوں کے بچوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے جاگیرداروں اورجرنیلوں کی اولادیں ہی اقتدارکے ایوانوں میں پہنچتی ہیں جبکہ پاکستان کے غریب عوام 79 سال سے محنت مشقت ہی کررہے ہیں۔ انہیں پانی، گیس، بجلی اورصحت وصفائی کی سہولیات میسر نہیں ہیں اوروہ کئی کئی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کی باوجود گیس،بجلی کے بھاری بل اداکرنے پر مجبورہیں۔
الطاف حسین آج بھی وہی بات کررہا ہے جو 48 سال قبل کیاکرتا تھا،عمران خان جب میدان سیاست میں آئے تو انہیں فوج کی سپورٹ حاصل تھی، 2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے انہیں احساس ہوا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اوربیوروکریسی ہی ملک کی اصل بیماری ہے۔ آج عمران خان بھی وہی بات کررہے ہیں جو الطاف حسین 48 سال سے کرتاچلاآرہا ہے، جب عمران خان نے نظام کی تبدیلی کی بات کی توپاکستان کو لوٹنے والوں نے انہیں بھی نہیں چھوڑا اوروہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ جوفرسودہ نظام کے خلاف آوازاٹھائے گا اس کامقدر جلاوطنی،شہادت یا جیل کی قیدہوگی۔
پنجاب کے نوجوانوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ پاکستان انگریزوں کے ایجنٹ چند مخصوص خاندانوں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام کاپاکستان ہے لہٰذا پاکستان کے اصل مالک ومختار اور ملک کو چلانے والے بھی غریب مزدور، ہاری، کسان اورمحنت کش ہی ہونے چاہئیں۔ ہمیں انگریزوں کی غلامی کا طوق اتارپھینکنا ہوگا، ہمیں ایساتعلیمی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں غریبوں کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، ہماراعدالتی نظام بھی ایسا ہوناچاہیے جس میں عوام کوسستااورفوری انصاف میسرہو،جس میں کوئی غریب بھی مہنگے وکیل کی فیس نہ ہونے کے باعث سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ خودلڑکرانصاف حاصل کرسکے۔
میں سمجھتاہوں کہ 2 فیصد کرپٹ جاگیرداروں اورلٹیروں سے نجات میں ہی پاکستان کی سلامتی و بقاء ہے، جب تک ملک کو ان چوروں اورڈاکوؤں سے آزاد نہیں کرایا جائے گا اس وقت تک ہمیں آزادی کاپھل نہیں مل سکتا۔ اگرپاکستان کے مظلوم عوام فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو بدلنے کیلئے میدان عمل میں نہیں آئے تو 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام نسل درنسل محنت مزدوری ہی کرتے رہیں گے،ان کی حالت کبھی نہیں بدلے گی اورملک کانظام حکومت کبھی ان کے ہاتھ میں نہیں آئے گا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئے غریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے۔
ایم کیوایم ملک میں غریبوں کاانقلاب برپاکرناچاہتی تھی اسی لئے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کرکے اسے کوختم کرنے کی کوشش کی گئی،ایم کیوایم کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کئے گئے لیکن ظلم وجبرسے ایم کیوایم کوختم نہیں کیاجاسکا، ایم کیوایم کے چاہنے والے پنجاب سمیت پورے ملک میں موجود ہیں۔ غداری کے سرٹیفکیٹ دیکر اور بہتان تراشی کرکے پنجاب کے عوام کو بہت بے وقوف بنالیا لیکن اب منفی پروپیگنڈوں اورجھوٹے الزامات لگاکر پنجاب کے نوجوانوں کو الطاف حسین سے متنفرنہیں کیاجاسکتا۔
میں ایم کیوایم پنجاب کے وفاپرست کارکنوں کو رات دن محنت کرنے اورتحریک کاپیغام پھیلانے پر زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس مناکر ثابت کردیا کہ پنجاب میں کل بھی ایم کیوایم کے سچے نظریاتی ساتھی موجود تھے اور تمام ترمشکلات کے باوجود آج بھی موجود ہیں اور انہوں نے تحریک کے مشن کو جاری رکھا ہواہے۔ انشااللہ یہ جدوجہد رنگ لائے گی اورایک وقت آئے گاجب پورا پنجاب ایم کیوایم کے پرچموں سے سجا ہوگا۔
الطاف حسین
15، جون2026ء
فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئےغریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے
پاکستان 2 فیصدحکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریبوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کا ہے
صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں اے پی ایم ایس اوکے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کو انگریزوں کے ایجنٹوں نے دوطبقات میں تقسیم کردیاہے، ایک طبقہ وہ ہے جس کے آباؤاجداد نے 1857 ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کا ساتھ دیا اوردوسرا طبقہ وہ ہے جس نے جنگ آزادی کوناکام بنانے اوربرصغیرکے عوام کوغلام بنائے رکھنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا، بدقسمتی سے یہی طبقہ آج پاکستان کا مالک ومختار بنابیٹھاہے اورانگریزوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سے فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے اٹھنے والی ہرآواز کو ریاستی طاقت سے دباتاچلاآرہا ہے۔
پنجاب کے عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ یہی تاثر دیا ہے کہ صرف صوبہ پنجاب کے لوگ ہی پاکستان کے وفادار ہیں جبکہ باقی صوبوں کے سندھی، بلوچ، پختون،مہاجر، سرائیکی، کشمیری، گلگتی اوربلتستانی پاکستان کے وفادار نہیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے جن بڑے بڑے زمیندار خاندانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، انگریزوں نے انہیں انعام کے طورپاکستان قائم کرکے دیدیا۔ 14، اگست1947ء کو جب پاکستان قائم ہوا تو انہی لوگوں پر مبنی فوج بنائی گئی جو حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ پاکستان کا نظام حکومت چلانے کیلئے سیاسی جماعتیں تشکیل دی گئیں اورانہی خاندانوں کوان سیاسی جماعتوں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو، ان جماعتوں نے کبھی ملک کے غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں نہیں بھیجا۔ پاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام اس موروثی سیاست، وڈیرہ شاہی، فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنادیئے گئے مگرکسی سیاسی جماعت نے ملک پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان کی واحد طلبا تنظیم ہے جس نے عوامی جماعت ایم کیوایم کو جنم دیا جوپاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام،موروثی سیاست اور کرپشن کے نظام کی تبدیلی کیلئے عملی جدوجہد کی۔ایم کیوایم نے عوام کو شعوردیاکہ پاکستان دوصرف فیصد جاگیرداروں، وڈیروں اورزمینداروں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے کروڑوں عوا م کا ہے اورپاکستان میں صحیح جمہوریت اسی وقت آسکتی ہے جب ہم غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں بھیجیں گے، ایم کیوایم نے محض نظام کی تبدیلی کانعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ عملی طورپر غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیج کرناممکن کوممکن کردکھایا۔
پاکستان کی ہرسیاسی ومذہبی جماعت کا سربراہ بلدیاتی، صوبائی، قومی اورسینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیتا رہا ہے جبکہ الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جوپاکستان کافرسودہ نظام بدلنے کیلئے میدان سیاست میں آیا، الطاف حسین نے اپنی ذات یا اپنے خاندان کے مفادات کے بجائے عوام کے اجتماعی مفادات کیلئے تحریک کی بنیاد رکھی، الطاف حسین نے نہ تو خود الیکشن لڑا اور نہ اپنے بہن بھائیوں کو لڑایا، غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ کارکنوں کو مئیرز، ڈپٹی مئیرز،ایم پی اے، ایم این اے اورسینیٹر بناکر منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ ایم کیوایم نے ملک میں برسوں سے قائم اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا اسی لئے اس نظام کی محافظ قوتوں نے ایم کیوایم کوبرداشت نہیں کیا، اسے ریاستی طاقت سے کچلنے کے لئے ریاستی آپریشن کیا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی پاداش میں جہاں تحریک کے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکیاگیا وہیں الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین اور بہنوئی اسلم ابراہانی بھی شہیدوں میں شامل ہیں۔ایم کیوایم کے خلاف مظالم پنجاب میں بھی کئے گئے اور پنجاب سے ایم کیوایم کی ایک محنتی کارکن طاہرہ آصف جو قومی اسمبلی کی رکن تھیں، انہیں نوازشریف کے دور میں لاہورمیں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا۔ ایم کیوایم نے پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی میرٹ کی بنیادپر متعدد پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اورکشمیریوں کو منتخب ایوانوں کارکن بنایا۔
فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خلاف میری عملی جدوجہد کے باعث اسٹیبلشمنٹ میری جان لینے کے درپے ہوگئی،مجھ پر متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے اورجب کراچی میں مجھ پرقاتلانہ حملے کیلئے ہینڈ گرنیڈاستعمال کیے گئے تو میں ساتھیوں کے مشورے سے کچھ دنوں کیلئے لندن چلاآیا
1/2
اے پی ایم ایس او کا نظریہ پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ الطاف حسین
#11JuneAltafHai
آج اے پی ایم ایس او کوقائم ہوئے 48 سال ہوگئے ہیں،اس 48 سالہ جدوجہد میں ہمارے ہزاروں ساتھی شہید ہوگئے جن میں میرے بھائی اوربھتیجے بھی شامل ہیں، یہ ہمارے شہیدوں کی قربانیوں کا صلہ ہے کہ آج تحریک کا نظریہ پورے ملک میں پھیل گیا ہے اورالطاف حسین نے برسوں پہلے ملک کے نظام میں موجود جن خرابیوں کی نشاندہی کی تھی، آج پاکستان کابچہ بچہ وہی زبان بول رہا ہے جس پر میں تحریک کے تمام شہیدوں، لاپتہ ساتھیوں اوراسیرساتھیوں کوسلام پیش کرتا ہوں۔
شہیدوں کی روحیں دیکھ رہی ہیں کہ آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس صرف کراچی میں ہی نہیں بلکہ سندھ بھر میں منایا جارہا ہے، وفاپرست ساتھی اے پی ایم ایس او کے پوسٹرزلگارہے ہیں، تحریک کا پیغام پھیل رہا ہے۔ میں تحریک کے ساتھیوں، ماؤں بہنوں بزرگوں سے کہتاہوں کہ اے پی ایم ایس او کے پوسٹرزپر موجود QR کوڈ کوموبائل فون سے اسکین کریں، آپ کے پاس تحریک میں شمولیت کا فارم کھل جائے گا،جس پراپنی تفصیل ڈال کرآپ تحریک میں شامل ہوسکتے ہیں۔ میں سب سے گزارش کرتا ہو ان کہ الطاف حسین کے قافلے میں شامل ہوجائیں۔ میں پاکستان کے تمام سیکٹروں، زونوں، اوورسیز یونٹوں میں موجود تحریکی ساتھیوں کواے پی ایم ایس او کے48 ویں یوم تاسیس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی ثابت قدمی پر سلام پیش کرتا ہوں۔
میں ایم کیوایم برطانیہ کے کارکنوں، ان کی فیملیز اور تحریکی بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جومجھ سے جڑے ہوئے ہیں، جوتحریکی فرائض بھی انجام دیتے ہیں، اپناوقت بھی دیتے ہیں، تحریکی پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں، میں ان کی محبتوں اور عقیدتوں کوسلام پیش کرتا ہوں اوران سے کہتا ہوں کہ وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری تحریک کوکامیابی عطافرمائے،انہیں ظلم وناانصافیوں سے نجات عطا فرمائے تاکہ میری آنے والی نسلیں آزاد فضاء میں زندگی گزارسکیں اوران پر غلامی اور خوف کے سائے نہ منڈلاتے ہوں۔
الطا ف حسین
(انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں APMSO کے یوم تاسیس کی تقریب کے موقع پر گفتگو)
11جون 2026ء
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب سے الطاف حسین کا مطالبہ
#11JuneAltafHai
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج مورخہ 11جون 2026ء بروز جمعرات APMSO (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن) کا 48 واں یوم تاسیس پرامن طورپر پورے پاکستان میں منایاجارہا ہے۔اس سلسلے میں کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ کی ایک عمارت کی دوسری منزل پرواقع سینئر صحافی، یوٹیوبر اوروی لاگرتحسین عباسی کے دفتر میں ایک چھوٹی سی تقریب کا انعقاد کیا جارہاتھا کہ کراچی پولیس کی بڑی نفری نے وہاں چھاپہ مارکرایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر اوربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ اورتحسین عباسی سمیت دس کارکنوں کوگرفتارکرلیاجوآئین وقانون کے سراسر منافی ہے۔
آپ جناب فیلڈمارشل عاصم منیرسے مطالبہ ہے کہ فی الفورمداخلت کرکے بزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ سمیت تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں اورکراچی سمیت سندھ بھر کی پولیس کواحکامات صادرفرمائیں کہ وہ بند کمروں میں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے والے ایم کیوایم کے پرامن کارکنوں اورہمدردوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کریں۔
الطاف حسین
11جون 2026ء
اے پی ایم ایس او ……کیا ہے!
#11JuneAltafHai
اے پی ایم ایس او……اپنے حقوق کے حصول کے لئے غوروفکر کرنے اورجدوجہد کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… بے نام، گمنام اور اپنی شناخت سے بے بہرہ لوگوں کو ایک نام……ایک پہچان اورایک شناخت دینے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… محر ومیوں اور ناانصافیوں کا شکار لوگوں میں احساس محرومی اوراس کے اسباب کا شعور بیدار کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……محرومی کی آگ میں اندر ہی اندرجلنے والوں کو اپنے حقوق کے لئے عملی جدوجہد کرنے کا پیغام دینے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……”جیسا ہے ویسا چلنے دو“ کی سوچ بدلنے اوراسٹیٹس کو چیلنج کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……چلتے ہوئے غیرمنصفانہ نظام کوتبدیل کرنےکےلئے جدوجہد کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… خاموشیوں میں آوازبلند کرنے اورسناٹے میں شور برپا کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……خود کوکمزور، ناکارہ، ناکام، بے وقعت اور بے حیثیت سمجھنے والوں کواپنی طاقت، اپنی حیثیت اوراہمیت سمجھانے ……جدوجہد کی راہ سجھانے ……اور کامیابیوں کی راہ دکھانے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… منزل کا راستہ دکھانے اورعمل کے ذریعے منزل پرپہنچانے کا نام ہے۔
تمام ساتھیوں کو اے پی ایم ایس او کا 48 واں یوم تاسیس مبارک ہو۔
الطاف حسین
11جون2026ء
#11JuneAltafHai
بانی و قائد محترم الطاف حسین بھائی کا نظریہ فکرو فلسفہ آنے والی نسلوں میں سرائیت کر چکا ہے ظلم و جبر سے کوئی بھی دنیا کی طاقت اسے نہیں روک سکتی .
قائدتحریک الطاف حسین بھائی کے چاہنے والوں کو 11 جون APMSO کا 48واں یومِ تاسیس مبارک ہو.
#11JuneAltafHai
✦ علم سے عمل تک ۔۔ اے پی ایم ایس او ✦
١١ جون 2026 اے پی ایم ایس او کا 48 واں یوم تاسیس مبارک ہو.
جیئـــــــــــے قــــائد تـــحــر یـــک الـــــطـــــا ف حــــــســــیـــن
جیئـــــــــــے مہــــــــــــــــــا جــــــــــــــــــــر
#APMSO#MQM
Official hashtag for 11 June — celebrating the true identity, vision, and legacy of APMSO’s founder and leader, Altaf Hussain Bhai. 🙌
Loud. Clear. Unstoppable.
#11JuneAltafHai
بلدیہ فیکٹری سانحہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان نےMQM کے کارکنوں کا باعزت بری کردیا۔ MQM اس کیس میں بھی بے گناہ ثابت ہو گئی ۔
بلدیہ فیکٹری کے سانحے کا الزام MQM پر لگانے والے آج MQM کے کارکنوں، قائد تحریک الطاف حسین اور پوری قوم سے معافی مانگیں
2/2
محرومیوں اورمسلسل ناانصافیوں کے عمل سے نیشنلزم کے پودے پیدا ہوتے ہیں، اپنے حق کے لئے آوازاٹھانے کے خلاف طاقت اورجبر کے مسلسل استعمال سے نیشنلزم کے پودے پر وان چڑھتے ہیں جو بالآخر تناوردرخت بنکر آزاد فضاؤں میں سانس لیناپسند کرتے ہیں۔
اگر گلگت بلتستان کے عوام کوان کے حقوق نہیں دیے گئے اورطاقت وجبرستم کامسلسل عمل کیا جاتا رہے تونظریہ پھیلتا جاتا ہے اورعوام اس جبر کے خلاف میدان عمل میں آتے ہیں اورایک وقت ایسا آتا ہے کہ پھر سپرپاور کو بھی پیچھے ہٹنا پڑتاہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ امریکہ جیسی سپرپاور جو یہ سمجھتی تھی کہ ایران پر48 گھنٹے میں قبضہ ہوجائے گا لیکن آج تین مہینے سے زیادہ ہوگیااورامریکہ کو بالآخر پیچھے ہٹنا پڑا اوروہ ایران سے مذاکرات پر مجبور ہوگیا۔ میں پاکستان کے بااختیار اداروں سےکہتاہوں کہ آپ گلگت بلتستان کوہلکانہ لیں، وہ اپنے حق اور آزادی کے لئےکئی جنگیں لڑچکے ہیں۔ انڈیا نے آرٹیکل 370 ختم کرکے انڈین کشمیر کو اپناحصہ بنالیا لیکن آپ کچھ نہ کرسکے، پاکستان کے زیرانتظام جوآزادکشمیر ہے وہاں کے لوگ بھی وفاق پاکستان کی پالیسیوں سے نالاں ہیں، وہ اپنے حق کے لئے آوازاٹھا رہے ہیں توانہیں طاقت سے دبایا جارہا ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ ان کے خلاف گولہ بارود کااستعمال نہ کریں اورامریکہ سے سبق حاصل کریں۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو تو پھر بھی یہ حق ہے کہ وہاں صدراوروزیراعظم ہوتا ہے لیکن گلگت بلتستان والوں کویہ حق بھی نہیں ہے۔ اگرکچھ نہیں کیا جاتا تو گلگت بلتستان کویہ اسٹیٹس دیدیا جائے کہ وہ اپناصدر اور وزیراعظم بناسکیں۔ یہ یاد رکھاجائےکہ طاقت اور جبر کامسلسل عمل تقسیم کاسبب بنتا ہے، حقوق کی تحریکوں کو مضبوط کرتا ہے،نئے نئے جغرافیوں اورنئے نئے ممالک کوجنم دیتاہے۔ لہٰذا گلگت بلتستان کی محرومیاں ختم کی جائیں، انہیں ان کے حقوق دیئے جائیں اورگلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کاحق تسلیم کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 412 ویں فکری نشست سے خطاب
5، جون2026ء
(مکمل فکری نشست 👇)
https://t.co/FNX0mWZVSY
گلگت بلتستان کی محرومیاں ختم کی جائیں، گلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق تسلیم کیاجائے ۔ الطاف حسین
#GBElection
ہمیں گلگت بلتستان کے وسائل پر قبضے اور اس کےحقوق سےمحرومی کے مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے پس منظر کو سمجھنا ہوگا۔ تاریخی حقیقت یہ ہےکہ قیام پاکستان سےقبل گلگت بلتستان کاعلاقہ ریاست کشمیر کا حصہ تھا جہاں ڈوگرہ راج تھا اور اس پوری ریاستِ کشمیرکا راجہ مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔جب انگریزوں نےانڈین ایکٹ 1947 ء کےتحت برصغیر کی تمام پرنسلے اسٹیٹ کو یہ اختیار دیاکہ وہ آیا انڈیاکا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ریاست کشمیر میں ڈوگرہ راج کے آخری راجہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر1947ء کو انڈیا کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔مہاراجہ ہری سنگھ کے اس اعلان کے تحت جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا پورا علاقہ انڈیا کاحصہ ہوگیا تھا۔ ان علاقوں میں ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔کشمیراورگلگت بلتستان کے ہندوؤں نے تو مہاراجہ ہری سنگھ کے فیصلے کو تسلیم کرلیا لیکن گلگت بلتستان کے مسلمانوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے اس اعلان کوتسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ جنگ کی اور مہاراجہ ہری سنگھ کے نمائندے کو گرفتارکرکے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ اس طرح کشمیر کی طرح گلگت بلتستان بھی متنازع علاقہ بن گیا۔ اس پر اقوام متحدہ نے فیصلہ دیا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں استصواب رائے (Plebiscite) یعنی رائے شماری شماری کرائی جائے گی اوررائے شماری کے نتائج کے مطابق اس کا فیصلہ کیاجائے گا۔ 78سال ہوگئے، اس مسئلہ کاحل نہ ہوا اور اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت گلگت بلتستان آج تک متنازعہ علاقہ ہے۔اسے کشمیرکا حصہ بھی کہا جاتا ہے، اسی لئے جب تک اس علاقے کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس متنازعہ علاقے کی زمینیں، پہاڑ اور علاقے کوئی نہیں لے سکتا۔ جس طرح کشمیر ایک علیحدہ خطہ ہے اور وہاں کی اسمبلی، صدر اور وزیراعظم پاکستان سے الگ ہوتا ہے، یہی رول گلگت بلتستان پر بھی عائد ہوتا ہے لیکن گلگت بلتستان کویہ حق بھی حاصل نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کئی ملکوں کے لئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ سی پیک کی بنیادی شاہراہ اسی علاقے سے شرو ع ہوتی ہے لہٰذا یہ علاقے چائناکیلئے بڑے اہم ہیں اور انڈیا کیلئے بھی یہ اہم ہے جبکہ پاکستان گزشتہ 78 برسوں سے اس علاقے کے وسائل استعمال کررہا ہے۔ یہاں کی معدنیات وفاق پاکستان لےجاتا ہے جبکہ گلگت بلتستان کی معدنیات پر وہاں کے لوگوں کوحق نہیں دیا جاتا۔وفاق پاکستان کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کےعوام میں نیشنلزم کے جذبات بڑھنےلگے ہیں اوروہاں آزاد گلگت بلتستان کی تحریکیں شروع ہوچکی ہیں لیکن ان کی بات سننے کے بجائے انہیں طاقت سے دبایا جارہا ہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو خبردار کررہا ہوں کہ انہی حرکتوں کی وجہ سے1971ء میں ملک دولخت ہوچکا ہے، اس وقت بلوچستان میں مزاحمتی تحریک بڑی تیزی سے سرگرم عمل ہےاور اب خیبرپختونخوا کے پشتون عوام بھی دائیں یا بائیں بازو کے نظریاتی کارکنان بننےکےبجائے قوم پرست (Nationalist) بن رہے ہیں اور بہت سے لوگ یہ کہتے سنےگئے ہیں کہ اگر KPK کے پشتون عوام کے ساتھ بھی وفاق کا یہی رویہ جاری رہا تو وہ آزاد پختونستان کا نعرہ لگاکر آزادپختونستان کی جدوجہد کا آغاز کردیں گے۔ ابھی آزادی کی یہ آوازیں دبی دبی ہیں لیکن یہ آوازتیزی سے پھیل رہی ہے اور KPK میں نیشنلزم کا خاموش لاوا پکنےلگا ہے۔یہ بات یاد رکھی جائے کہ KPK کے لوگوں نے 1946ء کے انتخابات میں پاکستان کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا اور وہاں انگریزوں نے اس طرح ریفرنڈم کرایا تھا کہ بیلٹ پیپرز پر ایک جگہ مورتیوں اورمندروں کی تصویر تھی اور دوسری طرف مساجد کی تصویر تھی لہٰذا پشتون عوام کیسے مورتیوں اور مندروں پر مہرلگاتے۔ اس طرح انگریزوں نے دھاندلی کرکے موجودہ KPK کو پاکستان کاحصہ بنادیا حتیٰ کہ باچہ خان تک نے پاکستان کو تسلیم کرلیا تھا اس کے باوجود پشتونوں کی حب الوطنی کو ہمیشہ مشکوک نگاہوں سے دیکھا گیا۔ 78 برسوں سے KPK کے لوگوں کے ساتھ جورویہ روا رکھا جارہا ہے اس سے وہاں محلہ محلہ قوم پرستوں کے گروپ پیدا ہورہے ہیں، Gen Z اور نوجوانوں میں آزاد پختونستان کی سوچ پیدا ہورہی ہے۔
میں وفاق پاکستان اور پاکستان کے تمام بااختیاراداروں سے کہتا ہوں کہ خدارا اپنا طرزعمل بدلیں، طاقت کے استعمال کی وجہ سے 1971ء میں پاکستان دولخت ہوچکا ہے، اب باقیماندہ پاکستان میں اس طرح کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے اور یہ سمجھناچاہیے کہ طاقت اور بندوق کے بل پر سب کچھ کیا جاسکتا ہے لیکن نہ توسوچ اور ذہنوں پر قبضہ کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی دلوں پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ذہنوں میں نیشنلزم کی سوچ پیدا ہوتی ہے،
1/2