کرنل صاحب کی بیوی کا دفاع کرنے والے تو کہہ رہے تھے کہ لڑکوں کے جھرمٹ میں محترمہ "گھبرا" گئی تھیں، لہٰذا کرنل صاحب نے اپنی بیوی کے دفاع میں چھڑی چلائی اور فائرنگ کی۔
جبکہ کرنل صاحب کی بیوی کی دادا گیری ملاحظہ ہو۔ 👇🤦
پاکستانی کرکٹرز چونکہ پاکستان میں رہتے ہیں تو ان کے لیے بولنا مشکل ہے، لیکن عمران خان کے ساتھ زیادتی اور ظلم پر ہم انسانییت اور اپنے ساتھی کرکٹر کے لیے آواز اٹھا رہیں ہیں، ہمیں پاکستان کے قوانین کا نہیں پتہ
(پاکستان کے قوانین ججز نے ویسے کہا تھا ، یہ قانون کو نہیں مانتے)
کپل دیو کا کرکٹ کی دنیا سے سیاست کے ایوانوں تک عمران خان کے سفر، ان کی گرفتاری اور جیل میں بدترین حالات پر ایک دھماکے دار اور جذباتی انٹرویو 🔥
وکرانت گپتا: عمران سے آپ کی دوستی تھی آف دی فیلڈ؟
کپل دیو: میں ایسا تو نہیں کہوں گا، لیکن ہاں جب ضرورت ہوتی تھی تو ہم بیٹھ کر بات کرتے تھے۔ فائدہ یہ تھا کہ وہ پنجابی تھے تو ہمیں بھی پنجابی سمجھ آتی تھی، جس سے بات چیت تھوڑی آسان ہو جاتی تھی۔ “”باقی ان کے لائف سٹائل کو تو ہم چھو بھی نہیں سکتے””
وکرانت گپتا: وہ کیسے؟
کپل دیو: ایک بالکل مختلف لائف سٹائل تھا ان کا۔ انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ... ان کی پوری زندگی کا لائف سٹائل الگ تھا۔ میں اس معاملے میں بہت سادہ تھا۔
وکرانت گپتا: لیکن آپ نے ان کے بارے میں بہت سال پہلے پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک دن پاکستان کے وزیراعظم بنیں گے۔
کپل دیو: میرے خیال سے... عمران نے وزیراعظم بننے کے لیے 20 سال بہت سخت محنت کی۔ ان کے اندر وہ جذبہ تھا کہ وہ اپنے ملک کو کچھ واپس دینا چاہتے تھے۔
وکرانت گپتا: لیکن اب جب آپ دیکھتے ہیں... مجھے یاد ہے عمران نے آپ کو اگست 2018 میں اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان بلایا تھا۔ آپ کو، نوجوت سنگھ سدھو اور سنیل گواپکر تینوں کو دعوت دی تھی۔ اس وقت آپ نہیں گئے تھے؟
کپل دیو: جی نہیں۔ میرے خیال سے اس وقت ہندوستان کے ساتھ تعلقات اتنے (اچھے) نہیں تھے، اور ہم... جب آپ کو کوئی وزیراعظم حلف برداری کے لیے بلائے تو یہ ایک اعزاز، احترام اور خوشی کی بات ہوتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن آپ اپنے ملک کے خلاف نہیں جانا چاہتے۔ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے۔ میں کوئی سیاستدان نہیں تھا—سدھو سیاستدان ہیں وہ فیصلہ لے سکتے ہیں—لیکن میں اور سنیل (گواسکر) اس معاملے میں بہتر یہی سمجھتے تھے کہ ہم اپنے ملک کی (پالیسی) کا خیال رکھیں۔
وکرانت گپتا: اب عمران خان کو جیل میں دیکھ کر اور ان کی جو خبریں آتی ہیں، آپ کو دکھ ہوتا ہے؟
کپل دیو: بہت زیادہ، دکھ ہوتا ہے بہت برا لگتا ہے۔، جو رپورٹیں آتی ہیں ان سے یہ لگتا ہے کہ ایک اتنے بڑے... کھلاڑی کو نہیں، کھلاڑی بھی غلطی کر سکتے ہیں، بلکہ ایک اتنا بڑا جو وزیراعظم رہا ہے، اس کے ساتھ سلوک ٹھیک ہونا چاہیے۔ میری شروعات سے یہی اپیل رہی ہے۔ مجھے وہاں کا قانون نہیں معلوم، ان کے خلاف کیا کارروائی ہے مجھے نہیں معلوم، لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے ایک بہت بڑے کرکٹر رہے ہیں اور وزیراعظم رہے ہیں۔ تو کچھ اخلاقیات ہونی چاہئیں۔ جو سننے میں آتا ہے اگر ایسا ہے تو برا لگتا ہے۔
وکرانت گپتا: گریگ چیپل نے بھی آپ کو فون کیا تھا جب آپ تمام سینیئر کپتانوں نے ایک خط لکھا تھا؟ وہ کیا تھا؟
کپل دیو: بات صرف اتنی تھی کہ ایک ساتھی کرکٹر جو ہمارے ساتھ کھیلا ہو اور کسی ملک کا وزیراعظم بن جائے—کوئی بھی کھلاڑی ہو—تو فخر محسوس ہوتا ہے۔ ہماری بھی وہی اپیل تھی کہ ان کے ساتھ رویہ اور سلوک درست ہونا چاہیے۔ ایک انسان کے ساتھ انساني بنیادوں پر درست سلوک ہونا چاہیے۔
انتہائی اہم 🚨🚨🚨
کل ہی ہم نے اس معاملے کے اوپر بہت سارے ای میلز اپنے ایم پی کو بھیجے اور آج یہ معاملہ پارلیمنٹ میں پہنچا
یو کے میں رہنے والا ہر بندہ اپنے ایم پی کو ای میل کرے
اور زیادہ سے زیادہ اس کے اوپر بات کریں
اور جواب مانگیں اور پاکستان جو کامن ویلتھ کا ممبر بھی ہے
اس پہ جواب دینا پڑے گا
اور ہم بہت زیادہ شکریہ ادا کرتے ہیں اپنے علاقے کے ایم پی کا جنہوں نے ہماری اواز کو سنا
ہم چاہیں گے کہ اس کا فالو اپ کیا جائے۔
@Jas_Athwal
عمران خان سےآپکی دوستی تھی؟وکرانت گپتا
عمران اور ہم پنجابی بولتےتھےتوبات کرنا آسان ہوتاتھاورنہ اسکےلائف سٹائل کوہم چھوبھی نہیں سکتے،کپل دیو
آپ نےانکےوزیراعظم بننےکی پیشگوئی کی،وکرانت
اس نے20سال بہت محنت کی،اسکےاندر کچھ تھا جو وہ اپنےملک کودیناچاہتاتھا،کپل دیو
پوری دنیا سے جعلی حکومت پر تھو تھو ہورہا ہے!!
عمران خان کے لیے Indians آواز اٹھا رہےہیں!
عمران خان اتنا بڑا کھلاڑی,
دنیائے کرکٹ کے بڑے بڑے کھلاڑی آواز اٹھا رہےہیں,
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے, لیکن حکومت اتنی کم ظرف ہے, کہ جس ہستپال منتقل کرنا تھا, وہاں منتقل نہیں کیا گیا!!
سابق انگلش کپتان ناصر حسین 🚨
سپریم کورٹ کے حکم کے تحت پچھلے دنوں عمران خان کو ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ اور مقصد یہ تھا کہ وہ ہسپتال میں رہیں گے کیونکہ انہیں علاج کی ضرورت تھی۔
وہ اب 73 سال کے ہیں اور اتنے عرصے سے قیدِ تنہائی میں ہیں۔ انہیں علاج کی ضرورت تھی اور اتفاقِ رائے یہ تھا کہ وہ شاید ایک ہفتے کے لیے ہسپتال میں رہیں گے۔
لیکن وہ انہیں اس ہسپتال لے گئے جہاں نہیں لے جانا چاہیے تھا، ان ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا جن سے نہیں کروانا چاہیے تھا، اور پھر اسی صبح—میرے خیال میں صبح 5:00 بجے—انہیں واپس جیل لے گئے۔
حکومت اب بھی بہت زیادہ حساس ہے کہ ان کی کوئی بھی ممکنہ جھلک سامنے نہ آئے، یا ان کے باہر آنے سے متعلق کوئی خبر سامنے نہ آئے۔
🚨میرے والد بہت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، ان پر قاتلانہ حملے ہوئے، انھوں نے طویل سیاسی جدوجہد کی اور اب وہ 3 سال سے سخت ترین قید برداشت کررہے ہیں لیکن وہ اپنے اصولوں پر کھڑے ہیں،
قاسم خان نیازی
#WATCH | Delhi: On the international cricket captains' letter to the Pakistan government regarding Imran Khan's health and well-being, former Indian cricketer Kapil Dev says, "...I like to support our friend whom we played with and admired for his cricketing skill. We don't know the law of the country; that's fine. But humanity and simply giving facilities to a prisoner, whoever it may be, and he was the former Prime Minister of the country and a top cricketer of the world, we want him to get the best treatment as we are asking for. We are not asking for anything else... When you request, you are not asking for a reply..."
ایران جنگ کا محاذ کھول کر امریکہ نے خود کو ایک بہت بری مصیبت میں مبتلا کر لیا ہے اور اب کوئی بھی امریکہ کو نجات دہندہ نہیں مل رہا۔ اگر امریکہ کو نجات ملے گی تو صرف ایک صورت میں کہ ٹرمپ سفید جھنڈا لہرا دے۔
#Iran
ہم اپنے اس دوست (عمران خان) کی مدد کرنا چاہتے ہیں جس کے ساتھ ہم نے کرکٹ کھیلی۔ ہمیں پاکستان کے قوانین کا علم نہیں، لیکن انسانیت کے ناطے کسی بھی قیدی کو بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں۔ عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم اور دنیا کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک رہے ہیں، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں بہترین علاج اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں مانگ رہے، کپل دیو
ہم اپنے اس دوست (عمران خان) کی مدد کرنا چاہتے ہیں جس کے ساتھ ہم نے کرکٹ کھیلی۔ ہمیں پاکستان کے قوانین کا علم نہیں، لیکن انسانیت کے ناطے کسی بھی قیدی کو بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں۔
کپل دیو
امریکہ کا گھناؤنا مذاق دیکھیں۔ القاعدہ کے سابق دہشتگرد کو شام کا صدر بنا کر شام کو دہشتگرد ریاستوں کو فہرست سے نکال دیا۔
اس فہرست میں ڈالا اس وقت تھا جب بشر الاسد شام کا صدر تھا۔
🇵🇰 Pakistan's Supreme Court ordered Imran Khan moved to hospital. He was back in his cell within hours, and the whole episode captures exactly how his three years in custody have gone.
The backstory: Khan, 73, has been jailed since August 2023 on corruption convictions he and his party call politically motivated.
Concerns have built for months over his health, fluctuating blood pressure, anxiety the jail's own cardiac board linked to restricted family contact, and reported vision loss in one eye that first surfaced back in February.
Last week the Supreme Court ordered him transferred to Shifa International Hospital within 48 hours for an independent medical board assessment, with family access and calls to his sons abroad.
The government fought the order and even tried a review petition. When the transfer finally happened, Khan was diverted to a different, state-run hospital, PIMS, over what officials called a "security situation."
A six-doctor team, including a cardiologist and ophthalmologist, examined him overnight and declared him fit to remain in custody. By 5am he was back in Adiala jail.
@PTIofficial calls the whole sequence a violation of the court's order.
What makes this more than a routine prison-health story: Khan was Pakistan's elected prime minister until a 2022 no-confidence vote, and his imprisonment has become the central fault line in a country where the military has historically held the real levers of power.
Courts have sided with him on paper repeatedly, this is now at least the third medical order in a year, while the practical outcome each time is identical: examined, cleared, returned to the same cell.
The pattern itself, a former PM's health becoming a recurring legal battle rather than a settled fact, says something about how contested power actually is in Pakistan right now.
Source: The Telegraph / Writer: Oliver