نئے صوبوں کے پروگرام کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی حمائت میں سرگرم اجیت ڈیول نیٹ ورک بھی بڑے زور شور سے اس منصوبے کی حمائت کر رہا ہے۔
😌😌😌
ایک عام سا ٹی وی رپورٹر...
پھر ٹی وی چینلز کا مالک...
پھر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا مالک...
پھر نگران وزیراعلیٰ...
اور کسی بھی سیاسی جماعت کا باقاعدہ رکن نہ ہونے کے باوجود سینیٹر۔
اس کے بعد بیک وقت وزیرِ داخلہ، وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع، PCB کا چیئرمین، اور وزیراعظم کے اختیارات بھی...
اگر واقعی نظام میرٹ پر چلتا تو شاید وہ آج کسی نجی اسکول میں استاد، کسی اخبار میں ایک عام رپورٹر، یا کسی کریانہ اسٹور کا مالک ہوتا۔
افسوس! جب ادارے اور عہدے میرٹ کے بجائے طاقت اور اثر و رسوخ سے تقسیم ہونے لگیں، تو لوگ یہی کہتے ہیں کہ نظام تباہ ہو چکا ہے۔
پہلے کہتے تھے مولانا نے نظام کو ننگا کردیا
پھر کہنے لگے محسن نقوی نے نظام ننگا کردیا ہے
آج کہ رہے ہیں کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا
عمرانی یوٹیومر ایسے شہتوت کے ڈھکن ہیں کہ حکومت مخالف ہر آواز کو ولدیت درجہ پر فائز کردیتے ہیں اور جب اس گھر سے بھی مایوسی ہو تو اگلے سٹیشن جانب چل پڑتے ہیں
کل کبل سوات میں تھانے پر خودکش حملہ ہوا، آج ہنگو میں تھانہ اڑا دیا گیا۔نہ کوئی تحقیق اور تفتیش کا آغاز کیا گیا، نہ ذمہ داروں کے تعین کا آغاز ہوا۔ پہلے یہی رویہ سکولوں اور ہسپتالوں کے اڑائے جانے پر تھا، اب تک طالبان کے ہاتھوں جتنے ہسپتال یا سکول اڑائے گئے ان میں سے ایک کی بھی بحالی پر کھا پی کے حکومت نے ایک اینٹ نہیں لگائی۔ اور جواز یہ ہے کہ وپاق ام کو پیسے نہیں دیتی۔
کھا پی کے میں اندھی مچی ہوئی ہے۔
جھوٹ سچ کیسے بنتا ہے؟
پہلی تصویر ایک خاتون اداکارہ فضیلہ قاضی کے وی لاگ کی ہے جس کے 75 ہزار لائیکس ہیں اور اسے 11 ہزار 800 بار سے زائد شئیر کیا جا چکا ہے اور یہ اپنے وی لاگ کا آغاز ہی اس سے کرتی ہیں کہ ہم کشمیر میں اپنے لوگوں کو مار رہے ہیں، ہم بچوں کو مار رہے ہیں، ہم نے اس سے پہلے بلوچستان میں اپنے لوگوں کو مارا وغیرہ وغیرہ اور اس کے بعد یہ خاتون کسی پولیس والے کی کسی عورت سے بدتمیزی کا واقعہ بیان کرتی ہیں۔
جن لوگوں نے یہ سنا، لائیک یا شئیر کیا انہوں نے یقین کر لیا کہ سیکورٹی فورسز آزاد کشمیر میں بھی اپنے لوگوں کو مار رہی ہیں اور بلوچستان میں بھی اپنے لوگوں، اپنے بچوں کو مارا۔ یہ ہرگز ذکر نہیں کریں گی کہ جعفر ایکسپریس پر کس طرح حملہ ہوا اور کس طرح مارا گیا، کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر کس طرح حملہ ہوا اور کس طرح مارا گیا لیکن ان سے یہ سوال کون کرے گا کہ اگر فوج نے اپنے لوگ اور بچے مارے تو لاشیں کہاں ہیں؟ جنازے کہاں ہوئے؟ ان کے وارث کہاں ہیں؟ ان کے شناختی کارڈ نمبر کیا تھے؟ وہاں تو جو ویڈیوز آئیں وہ لاشیں زندہ ہو رہی ہیں تو جنازوں کی ویڈیوز کہاں ہیں؟ معتبر اداروں کی رپورٹنگ کہاں ہے؟ ان سے ایکشن کمیٹی کے مسئلہ کشمیر کو سبوتاژ کرتے بھارتی موقف بارے بھی نہیں پوچھا جائے گا؟ یہ سچی ہیں ہیں میرواعظ عمر فاروق اور آل پارٹیز حریت کانفرنس؟ جو ایکشن کمیٹی کو ایک سازش کہہ رہے۔
مجھے ایک سیاست زدہ شخص کی طرف سے NCCIA کا نوٹس ملا تب بھی یہی سوال کیا تھا کہ ایک کالم نگار کے بیوروکریٹ کو بیوروکریٹ لکھنے پر اخبار کے ایڈیٹر کو بھی نوٹس تو ان کو یہ ادارہ نوٹس کیوں نہیں بھیجتا؟ ان سے سچ جھوٹ کا کیوں نہیں پوچھا جاتا؟ ان کا بیٹا بھی ایسے ہی ایک پروپیگنڈے میں ملوث رہ چکا ہے۔ بہرحال بتانا یہ ہے کہ جھوٹ ایسے ہی پھیلتا ہے۔
میں اے آئی انجن جیمینائی سے پوچھا کہ عمر نذیر کشمیری کا بھائی کون ہے، کب اور کہاں مرا تو اس نے مجھے پوری تفصیل فراہم کر دی ( اور ساری جھوٹ ) جب اس سے اگلے سوال کئے تو اس نے اپنی غلطی اور اس قتل کو غیر تصدیق شدہ افواہ قرار دے دیا مگر دلچسپ یہ ہے کہ اے آئی انجن اس سے پہلے اس قتل کا یقین کر چکا تھا جیسے فضیلہ قاضی کے ویلاگ پر یقین کر رہے ہوں گے۔
یہ اپنی فوج سے نفرت پیدا کروانے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ کیا اس اداکارہ کو بلا کے اس سے کم از کم آزاد کشمیر کی تازہ ترین لاشوں یا مقتولین کے بارے نہیں پوچھنا چاہیئے کہ وہ کون ہیں؟ کہاں ہیں؟ ان کے جنازے، علاقے وارث کہاں ہیں اور تم نے اپنے ہی ملک کی فوج پر یہ الزام کس ثبوت کی بنیاد پر لگایا؟
گزشتہ روز میجر حافظ احسان الٰہی کی شہادت بارے لفاظی کی جس پر عمران نیازی کے حمایتوں نے دل کھول کر غلاظت بکی یہاں مورخ لکھے گا کہ اس شعور پر لعنت ہے جو عمران خان نے اپنے حواریوں کو دیا ہے جو ایک شہید کیلئے غلیظ القابات استعمال کررہے ہیں
اکرام اللہ نیازی آپکے نطفہ سے نفرت کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ محض اقتدار کی حوس میں پاگل ہوکر اپنی دھرتی ماں کے شہداء کی تضحیک کررہے ہیں
کشمیر کا الیکشن تو ہاتھ سے نکل گیا
اب الذولفقار کب بحال ہو گی بھانجا جی؟
اور نہیں تو کرائے کے بھولڑو میدان میں اتار کر سڑکیں ہی بند کردیں
یا پھر کچے کے ڈاکووں کو ایکٹو کر دیں
کچھ تو کریں
جب شکست ہوٹی ہے ٹو غصہ آٹا ہے
اور جب زیاڈہ بڑی شکسٹ ہوٹی ہے ٹو زیاڈہ غصہ آتا ہے
مار اوئے ڈپٹی
بنام جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب
آپ ٹک ٹاک کرنے بجائے اگر واقعی حکومت سُٹنا چاہتے ہیں تو یہ ایک چُٹکی وجانے سے کم وقت میں ممکن ہے اور اس کا طریقہ واردات یہ ہے کہ آپکے والد صدارت کرسی کو ٹھڈا ماریں چیئرمین سینٹ سمیت تمام گورنر مستعفی ہوں اور اسی جنبش قلم سے سندھ کی اسمبلیاں تروڑ دیں
حکومت تینی منٹی ڈگ جائے گی لیکن اس کام کیلئے تھوڑی سی شرم ہونی چاہیے تھوڑی حیا اور ایتھکس کی اشد لوڑ ہے
شہید میجر حافظ احسان کو سپردِ خاک کیے جانے کے موقع پر ایک انتہائی رقت آمیز منظر اُس وقت دیکھنے میں آیا جب اُن کی ننھی بیٹی نے اپنے والد کو آخری الوداع کہا۔ یہ دل دہلا دینے والے لمحات وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم کر گئے۔
وطن پر اپنی جان نچھاور کرنے والے شہید کی اس آخری رخصتی نے حاضرین کو غم زدہ کر دیا اور ایک بار پھر قوم کو اپنے بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیوں کی یاد دلا دی۔
یہ تو ظلم کی انتہا ھے۔
اتنے غریب ملک کی عوام نے پچھلے پانچ سالوں میں سات کھرب 2 سو 75 ارب IPPs کو کیپسٹی چارجز کی مد میں دئے ہیں اور اس کے بدلے ایک یونٹ بجلی کا نہیں لیا۔۔ یہ ظلم کب ختم ہو گا۔۔ حکومت ان IPPs سے کب جان چھڑوایے گی۔ ایسے معاہدے کرنے والے پاگل تھے کیا؟؟
پہلے کہتے تھے محسن نقوی کو جواب نہیں دے رہے
پھر جب رانا ثناءاللہ نے بوتھا تروڑ جواب دیا تو کہنے لگے یہ جواب تو ہلکا ہے
پھر جب خواجہ آصف نے سسٹم نکال کر سامنے رکھا تو کہنے لگے اب شامت ائے گی اور صحفہ پھٹ جائے گا
پھر جب خواجہ آصف نے شہزاد اقبال پروگرام میں دال والی آندر پاڑ دی تو اب وہی ویڈیو نقوی کو ٹیگ کررہے ہیں
ناظرین یوتھیے چوتٹیوبر ساس داماد اور مچھلی کے سوال طرح اک تھاں کھلو نہیں رہے