# دور حاضر کے سب سے بڑے فتنے شف شف سرکار کو بے نقاب کرنے پہ اپنے بھائی ،لیڈر،استاد ،باس کمانڈر ٹیم سرعام سید اقرارالحسن شاہ صاحب کو مبارکباد دیتے ہوٸے۔
#TeamSareAam#PakistanZindabad@iqrarulhassan
اگر آپ کا ضمیر مطمئن ہے تو آپ کو کسی شور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
اندر کا اطمینان ہی انسان کو دلیر، فوکسڈ، پُرعزم اور منزل تک پہنچنے والا بناتا ہے۔
Visit us: https://t.co/8VvUkBrtXz
جلد عوام کا راج ہوگا۔ 🇵🇰
پاکستان عوام راج تحریک زندہ باد! ✊🇵🇰
@iqrarulhassan 💚🤲🏻🇵🇰
کیا وجہ ہے کہ دہائیوں گزرنے کے باوجود اقتدار کے دروازے صرف مخصوص خاندانوں کے لیے کھلتے ہیں؟
ایک عام مزدور کی بیٹیاں اور بیٹے صرف تماشائی بنے رہتے ہیں کیونکہ نظام میں ان کے لیے برابری کا کوئی موقع موجود ہی نہیں
@iqrarulhassan
پنڈی عوام راج کشمیر کنونشن پر پولیس کا دھاوا کارکنان اور خواتین کو ڈرایا دھمکایا گیا اس کے باوجود بانی عوام راج تحریک اور تمام کارکنان نے کشمیر کنونشن کو کامیاب بنایا ۔
@iqrarulhassan#awamraj@CMShehbaz@MaryamNSharif @IGPanjab
صرف 25 سے 30 سیکنڈ میں ڈاکٹر ایڈووکیٹ جنید بٹ صاحب نے مہذب، مدلل اور شائستہ انداز میں اس فرسودہ نظام کو بے نقاب کر دیا۔ یہی ہوتا ہے جب دلیل، شعور اور سچ بولتا ہے۔
ڈاکٹر ایڈووکیٹ جنید بٹ، @JunaidButt611 پاکستان کے کم عمر ترین پی ایچ ڈی ہولڈرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ وکیل بھی ہیں، استاد بھی، اور معاشرتی و سیاسی شعور رکھنے والے محقق بھی۔ کشمیر کنونشن میں انہوں نے نہایت مدلل انداز میں بتایا کہ جب عوام مثبت، پُرامن اور منظم انداز میں بیدار ہونا شروع کرتے ہیں تو 78 سالہ فرسودہ سیاسی نظام اکثر دفعہ 144 جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتا ہے تاکہ لوگ اکٹھے نہ ہو سکیں۔
لیکن شعور پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اسی لیے تمام رکاوٹوں کے باوجود خواتین، مرد، نوجوان اور بزرگ کشمیر کنونشن میں شریک ہوئے اور کشمیری عوام کے حق میں مہذب، آئینی اور پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کی۔
اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عوام راج میں اقرار الحسن کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرتا، وہ شاید ہماری ٹیم کو قریب سے نہیں جانتے۔ عوام راج میں بے شمار باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور باکردار لوگ موجود ہیں جو اپنے اپنے شعبوں میں مؤثر آواز رکھتے ہیں۔ البتہ قصور شاید اقرار الحسن @iqrarulhassan بھائی کا ہے… اتنے ہینڈسم ہیں کہ کیمرہ بھی اکثر انہی پر رک جاتا ہے، باقی اچھے لوگ پس منظر میں رہ جاتے ہیں! 😄
اصل طاقت کسی ایک چہرے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے نظریے میں ہے جہاں ہر اہل، باصلاحیت اور باکردار شخص کو آگے آنے اور قوم کی رہنمائی کا موقع ملتا ہے۔ یہی عوام راج کا فرق ہے۔ #عوام_راج_تحریک #پاکستان
For More info visit: https://t.co/F1c5EXzT0W
ہم میں سے کوئی ہو یا نہ ہو، یہ طے ہے انشاءاللہ کہ انے والے برسوں میں ہم پاکستان میں کسی غریب کے بچے کو وزیراعظم بنتے دیکھیں گے! پاکستان کا مڈل کلاس نوجوان ملک کا حکمران بنے گا اور 78 سالہ پرانا نظام بدلے گا
انشاءاللہ
ہر بیس سال بعد یہ تماشہ دہرایا جاتا ہے۔ بھٹو نے جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا، جنرل یحییٰ کے مارشل لاء کا خیر مقدم کیا، اقتدار پایا، نکالے گئے تو انقلابی بن گئے۔ نواز شریف نے جنرل جیلانی کی گود میں پرورش پائی، جنرل ضیاء کے “مشن” کو آگے بڑھانے کے وعدے کیے، اقتدار پایا، نکالے گئے، انقلابی بن گئے۔ عمران خان نے ڈکٹیٹر مشرف کو ووٹ دیا، ایمپائر (راحیل شریف) کی انگلی کی خواہش کی، باجوہ کو جمہوری کہا، اقتدار پایا، نکالے گئے، انقلابی بن گئے۔
ہم ہر بیس سال بعد ہونے والے اس تماشے کو شعور اور انقلاب سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ سلسلہ روکنا ہے تو جرنیلوں کی گود میں پلنے والے ہر سیاسی ڈکٹیٹر کو ہمیشہ کے لیے مسترد کرنا ہو گا، ورنہ آنے والی نسلوں کو یہی پیغام جائے گا کہ اقتدار کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ پالش کرو، اقتدار اور عروج پاؤ۔۔۔ جب جی چاہے اس بھولی قوم کو بے وقوف بنا کر انقلابی بن جاؤ۔ یہ پیٹرن ختم کرنا ہو گا پاکستانیو !!
فرض کریں کہ حکومت کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی ذرا سیریس ہو جاتی ہے اور عمران خان صاحب کے پاس آپشن آ جاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت کو گھر بھیج دیں یا ن لیگ اور پی پی کے ساتھ مل کر اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے دھکیل دیں تو آپ کے خیال میں وہ کیا کریں گے؟
ہم رہیں نہ رہیں۔۔۔۔ اس ملک میں مڈل کلاس کے اقتدار کا وقت آنے والا ہے۔ یہ اشرافیہ آپس میں گتھم گھتا ہو کر اپنے انجام کو پہنچے گی، ملک میں حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہو گا اور انشاء اللہ عوام کا راج نافذ ہو گا
سب سے پہلے تو میں اُن سے اُن کی ذاتی زندگی پر کیے گئے اپنے کمنٹس پر معذرت کروں گا۔ پھر درخواست کروں گا کہ آئیے ایک ایسا نظام بنانے میں ہماری مدد کیجئے جہاں میرٹ اور انٹرنل الیکشن کے ذریعے آرگینک قیادت آگے آئے۔ دنیا کی مہذب جمہوریتوں کی طرح ایک ایسی سیاسی جماعت جو قابلیت کی بنیاد پر مڈل کلاس کو آگے لائے، جس میں عام لوگ مل کر فیصلے کریں، جہاں وڈیرے اور جاگیردار کے مقابلے میں کسان اور مزدور کی اولاد کے پاس بھی برابر کا موقع ہو، چاپلوسی یا خوشامد کی بنیاد پر نہیں، صلاحیت اور میرٹ کی بنیاد پر۔ جہاں ایک لیڈر کی پسند نہ پسند یا نامزدگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ انٹرنل ڈیموکریسی اور مشاورت کی بنیاد پر فیصلے ہوں۔ نام عوام راج ہو، تحریک انصاف ہو یا کچھ بھی۔۔۔۔ لیکن ہم ایک ایسا ادارہ بنا جائیں جس پر ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑے اور یہ صدیوں تک پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمت کرتا رہے۔
یہ نظام آخر ہے کیا؟
کرپٹ جرنیل
+
غلام عدلیہ
+
بکاؤ میڈیا
+
بدعنوان بیوروکریسی
+
تلوے چاٹ کر تیسری تیسری بار حکومت کرتے حکمران
+
تیس تیس سال نظام کا حصہ رہ کر گود سے اُتارے جانے پر انقلابی بنے سیاستدان
کوئی اعتراض ؟؟؟
کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والو !! ہوش کے ناخن لو۔ تم نے اس ملک میں وہ ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں جمہوریت اور انسانیت شرمسار ہیں، ظلم اور جبر کی حکومت ہے اور مڈل کلاس اور غریب کا جینا عذاب ہو گیا ہے۔۔۔ لیکن یاد رکھنا فرعونوں کی حکومت بھی نہیں رہی، اور آپ نے بھی ہمیشہ نہیں رہنا۔