BREAKING: Jailed former prime minister of Pakistan Imran Khan uses AI video to claim victory for PTI party in Pakistan elections
https://t.co/48u8lOkbPq
Virgin 602, Freeview 233 and YouTube
There is no shortcut to success except the ideology of Unity, Faith and Discipline.
The golden principals of Quaid-e-Azam are a constant source of guidance for us. 🫡
#QuaidDay
ایک بار عمران خان سے ملنے زمان پارک جانا ہوا وہاں عمران خان کے پاس لان میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اسکے سامنے چھوٹے سے ٹیبل پر خلاف توقع چائے کا ایک کپ موجود تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ شخص خان صاحب کا کافی قریبی تھا وہ شخص کسی بات پر عمران خان کو مجبور کررہا تھا کہ وہ کسی کو ایک فون کریں مگر عمران خان بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ میرے فون کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اگر کام ہونا ہوا تو ویسے ہی ہوجائے گا تم وہاں جاکر کوشش تو کرو تو وہ شخص کہنےلگا کہ میں وہاں گیا تھا مگر انہوں نے انکار کردیا اسی لیے آپکے پاس آیا ہوں کہ آپ ایک فون کردیں گے تو میرا کام ہوجائے گا
بالاآخر عمران خان نے مجبور ہوتے ہوئے کسی کو فون ملایا اور فون کا لاؤڈ اسپیکر آن کردیا، دوسری جانب سے کال اٹینڈ ہونے پر عمران خان نے کہا کہ فیصل میرے ایک جاننے والے کا عزیز کینسر میں مبتلا ہے اور وہ مریض کو لیکر شوکت خانم بھی لے کر آئے تھے مگر اسکی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد تم نے اس مریض کو داخل کرنے سے انکار کردیا
دوسری جانب سے شوکت خانم ہسپتال کے سی ای او فیصل سلطان نے کہا کہ خان صاب اگر رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد مریض کو ایڈمٹ نہیں کیاگیا تو اسکا مطلب ہے کہ کینسر کا یہ مریض بیماری کی اس اسٹیج پر ہوگا جہاں اب اسکا علاج شوکت خانم سمیت کہیں بھی ممکن نہیں ہوگا اس پر عمران خان نے کہا کہ جن کا یہ مریض ہے وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ شوکت خانم کے ریگولر ڈونر ( چندہ دینے والے) ہیں اور ہر سال ڈونیشن دیتے ہیں کیا ہم انکے لیے کچھ کرسکتے ہیں
سی ای او فیصل سلطان نے کہا کہ خان صاب یہ پالیسی آپ ہی کی بنائی ہوئی ہے کہ ہم نے کسی کے کپڑے یا رنگ دیکھ کر علاج نہیں کرنا بلکہ ہر اس شخص کی جانی بچانی ہے جسکا علاج ممکن ہو تو اس لیے میں تو اب معذرت ہی کروں گا البتہ آپ چاہیں تو یہ پالیسی تبدیل کرکے انکے مریض کو داخل کرسکتے ہیں اور مزید جتنے ڈونرز ہیں انکے لیے بھی کوٹا رکھ دیتے ہیں تاکہ انکے مریض بھی فائدہ اٹھائیں،
یہ باتیں سن کرعمران خان کچھ مضطرب ہوئے اور اس سے پہلے کہ کچھ کہتے کہ اچانک وہ شخص اپنی جگہ سے اُٹھ کر خان صاب کی جانب آیا اور کہا خان صاب فون بند کردیں، عمران خان نے فون بند کردیا تو اس شخص کے چہرے پر انکار سننے کے باوجود ایک جوش تھا اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی محسوس ہورہی تھی مگر وہ جب بولا تو وہاں موجود ہر شخص حیران رہ گیا، اس نے کہا کہ خان صاب جب میں آپکے پاس آرہا تھا کہ میرے دل ایک یقین تھا کہ آپ میری بات نہیں ٹال پائیں گے کیونکہ آپ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور میں شوکت خانم ہسپتال کو باقاعدگی سے عطیہ بھی دیتا ہوں اسکے علاوہ میں کبھی کبھی سوچا کرتا تھا کہ شوکت خانم کو جو پیسے دیتا ہوں کیا وہ اسی طرح خرچ ہوتے ہوں گے جیسے بتایا جاتا ہے
آج آپکے اور شوکت خانم ہسپتال کے منتظم کے درمیان ہونی والی گفتگو سن کر میرا دل اطمینان سے بھر گیا ہے کہ کس قدر شفافیت کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال کا نظام چلایا جارہا ہے جہاں کسی کی سفارش کی بجائے صرف مریض کی بیماری دیکھی جاتی ہے اس نے یہ بھی کہا کہ خان صاب مجھے شرمندگی بھی محسوس ہورہی ہے کہ میں آپ کے پاس اس کام کے لیے سفارش کرنے کیوں آگیا اور آپکو میرٹ سے ہٹ کر کام کرنے پر مجبور کیا
پبلک پول : 17 جولائی کا ضمنی انتخابی معرکہ کس کے نام رہے گا ؟
(نوٹ : پول کے نتائج ٹی وی شو میں شامل کئے جا سکتے ہیں اس لئے زیادہ سے زیادہ ووٹ اور ری ٹوئیٹ کریں)