دو گھنٹے میں انصاف؟ نہیں دو گھنٹے میں ثبوت دفن🚨
یہ کارکردگی نہیں، یہ خوف ہے
یہ ڈر ہے کہ کہیں ملزم کا منہ کھل نہ جائے۔ کہیں کوئی بڑا راز، کوئی بڑا نام، کوئی بڑا نیٹ ورک بے نقاب نہ ہو جائے
کہیں کوئی "نامعلوم" طاقت، کوئی مافیا، کوئی گینگ ایکسپوز نہ ہو جائے
آج کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا انسانیت سوز، دل دہلا دینے والا واقعہ
مگر اس سے ہزار گنا زیادہ دہلا دینے والی بات یہ ہے: ملزم چند گھنٹوں میں "پولیس مقابلے" میں مارا گیا
واہ! کیا اسپیڈ ہے
تیزاب پھینکا، بھاگا، شناخت ہوا، گھیرا گیا، فائرنگ ہوئی، مارا گیا، دفنایا گیا۔ فلم ختم۔ کریڈٹ رول
قصہ ہی ختم کر دیا۔ اتنی جلدی کیوں؟
کمال ہے
جس پولیس سے ایک ایف آئی آر درج کروانے کے لیے مہینوں تھانے کے دھکے کھانے پڑتے ہیں... جس سے محلے کی چوری کا ملزم تک نہیں پکڑا جاتا... وہ پولیس اچانک "سپرمین" بن گئی؟
اور دوسری طرف... اسی کوئٹہ کی سڑکو�� پر چار چار، پانچ پانچ قتل کرنے والے قاتل سینہ تان کر گھوم رہے ہیں۔
گینگسٹر، مافیا، بھتہ خور، لینڈ گریبر سب آزاد، سب محفوظ، سب "نامعلوم"
ان کے خلاف تو سالوں کارروائی نہیں ہوتی۔ ان کو پکڑتے ہوئے پولیس کے پر جلتے ہیں۔
مگر یہاں؟
سوال یہ نہیں کہ تیزاب پھینکا کیوں
سوال یہ ہے کہ پھینکنے والے کو دفنایا اتنی جلدی کیوں؟
کیونکہ زندہ ملزم بولتا ہے. اور مردہ ملزم صرف "مقابلہ" بنتا ہے
اور دوسرا سوال ہسپتال سے بھاگا کیسے؟
اتنی "ہائی سیکیورٹی" میں، درجنوں گارڈز، کیمروں اور انتظامیہ کے ہوتے ہوئے ایک شخص تیزاب پھینک کر آرام سے نکل کیسے گیا؟ کیا سیکیورٹی صرف مریضوں کو روکنے کے لیے ہے؟
تیزاب سے چہرہ جلتا ہے، مگر سچ چھپانے سے ضمیر جلتے ہیں۔
اور آج کوئٹہ میں ایک نہیں، دو چہرے جلائے گئے۔ ایک ڈاکٹر کا، دوسرا انصاف کا
عمران خان میں کچھ تو خاص تھا جس کو گرانے کے لئے سب لوگ سب کچھ بھول گئے؟
کہاں ہیں مولوی؟کہاں ہیں سیاسی جماعتیں؟ کہاں گئی جمہوریت؟ کہاں ہیں عدالتیں؟ کہاں ہیں صحافی؟
سب کے سب عمران خان سے خوفزدہ ہو گئے ہیں؟
#ImranKhanUnjustlyJailed