حافظ
حافظ فیلڈ مارشل
حافظ فیلڈ مارشل فاتح معرکہ حق
حافظ فیلڈ مارشل فاتح معرکہ حق سید
حافظ فیلڈ مارشل فاتح معرکہ حق سید عاصم
حافظ فیلڈ مارشل فاتح معرکہ حق سید عاصم منیر
وہ شخصیت ہیں جنہوں نے گواہنڈیوں کو “ کینڈے “ میں لایا اور پھر محافظ حرمین شریفین بنے اور اب ترکیہ سعودیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور ان تمام دفاعی معاہدوں کے پیچھے وہ جرات اور بہادری تھی جس کو پوری دنیا 10 مئی 2025 کو دیکھ چکی ہے
سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ہوا تھا ۔ دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے ، جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے ۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکتا ہے ؟
سب خاموش رہے ، دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ۔
سلطان نے شرط منظور کرلی ، اس شخص کو چلہ کے لیے بھیج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا ۔
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے ۔
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا.... ؟
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام ۔ میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا ، بچے بھوک سے مر رہے تھے ، اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا ۔
سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے ؟ وزیر نے کہا اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ہے ، لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے ۔ دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے ، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا ۔
بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا کہ اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے ، اسکا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کر مرے ، اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔
سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو ؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے ، آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا ۔ اگر میری بات مانیں تو اسے معاف کر دیں ، اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے ۔ ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔
سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے ۔
بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اسکا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا ۔ اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا ۔
دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا ، کتوں سے شکار کھیلتا تھا ، اسکا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا ۔ آپکی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ہی مرنا ہے ۔
اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے ۔ سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا ۔
سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو ۔
ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں ، "اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔ "
"شبلی نعمانی کی کتاب سے"
نسل پرست / قوم پرست دنیا کا گھٹیا ترین طبقہ ہوتا ہے!
اللہ اکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسی وجہ سے قوم پرستی کو جاہلیت قرار دیا ہے۔
زرا سنیں کہ خبیث ترین کن کترے قوم پرستوں نے ایک کشمیری جوان شہید عاقب کے ساتھ کیا سلوک کیا
ایسی ویڈیوز ہر جگہ پھیلایا کریں تاکہ حقیقت کھلے
پولیس کانسٹیبل عاقب کشمیری کی میت کالعدم ایکشن کمیٹی کے پاس تھی اس کے والد جب میت لینے گئے تو مسلحہ افراد ان کو اغواہ کرلیا ۔ ان کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی ویڈیوز بناکر دھرنے میں بھیجی گئیں ۔ 4 دن میت ایکشن کمیٹی کے پاس رہی ۔
عاقب کشمیری پونچھ میں ایکشن کمیٹی کے دہشتگردوں کی براہ راست فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا اور زخمی حالت میں جب اس کو ایمبولینس سے اسپتال لے جایا جارہا تھا تو ایکشن کمیٹی نے راستہ بلاک کردیا اور عاقب کشمیری ایمبولینس میں ہی زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔
اس سب کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے بہت زیادہ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔
On 7 August 2026, Security Forces conducted an intelligence based operation in Hangu District, on reported presence of Khwarij belonging to Indian Proxy, Fitna Al Khwarij.
During the conduct of operation, own troops effectively engaged khwarij location. In desperation, Khwarij took refuge inside a mosque, blatantly disregarding the sanctity of the place of worship. In ensuing fire exchange, seven khwarij, belonging to Indian-sponsored Fitna Al Khwarij were sent to hell.
However, during the intense fire exchange, Captain Hamza Akram (age: 27 years, resident of District Narowal), a brave officer, who was leading his troops from front and relentlessly pursuing the Khwarij, fought gallantly, paid the ultimate sacrifice and embraced shahadat.
Weapons and ammunition were also recovered from the killed khwarij, who remained actively involved in numerous terrorist activities against the Security Forces and Law Enforcement Agencies as well as killing of innocent civilians.
Sanitization operation is being conducted to eliminate any other Indian sponsored Kharji found in the area, as the relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm-e-Istehkam” (as approved by the Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out the menace of foreign-sponsored and supported terrorism from the country and such sacrifices of our brave soldiers further reinforce our unwavering commitment of safeguarding our nation at all costs.
پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کو مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ یہ صرف خوشی کی بات نہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک بہت بڑا اور تاریخی سنگ میل ہے ۔انشاءاللہ مقدس سرزمین پر ہونے والا یہ معاہدہ علاقاہی امن کی ضمانت بننے گا اور مستقبل میں اس معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت بھی ہوگی ۔ ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
ہندوستانی میڈیا ترف رہا ہے
افغانی میڈیا چیخ و پکار کر رہا ہے
عمران میڈیا پچھواڑے سے دھواں نکال رہا ہے
بی ایل اے،ٹی ٹی پی ،مہارنگ لانگو ، فتنہ الہندوستان اور ایکشن کمیٹی سے جڑے تمام اکاونٹس ٹکریں ماررہے ہیں گالیاں اور بددعائیں دے رہے ہیں
بس سمجھ جائیں پاکستان کا پرچم بلند ہورہا ہے
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کے موقع پر تینوں ممالک کے رہنماؤں نے نمازِ جمعہ ادا کی
نمازِ جمعہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی
اس موقع پر خطے کے امن و استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں
الحمدللہ 🇵🇰🇸🇦🇹🇷
مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان باہمی دفاعی تعاون کے ایک نئے اور مضبوط باب کا آغاز ہے۔
خانۂ کعبہ کے قرب و جوار میں طے پانے والا یہ اہم معاہدہ تین برادر اسلامی ممالک کے باہمی اعتماد، یکجہتی اور مشترکہ عزم کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس اتحاد کو امتِ مسلمہ کے لیے خیر، امن اور استحکام کا ذریعہ بنائے۔ آمین 🤲
#MakkahDefenceAgreement
#PakistanSaudiTürkiye
On 6 August 2026, ten khwarij belonging to Indian-sponsored Fitna-Al-Khwarij were killed in two separate engagements in Khyber Pakhtunkhwa Province.
In first encounter, a group of Khwarij belonging to Indian Proxy, Fitna Al Khwarij attempted to attack Security Forces Check Posts in general area Azam Warsak, South Waziristan District. The attempt was effectively thwarted by own troops. During ensuing fire exchange, eight khwarij were sent to hell through effective and precise engagements by own troops.
In another encounter that took place in Dir District, own troops successfully neutralized two more khwarij.
Weapons and ammunition have also been recovered from killed Indian sponsored khwarij, who remained actively involved in numerous terrorist activities in the area.
Sanitization operations are being conducted to eliminate any other Kharji found in the area, as relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out the menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
مارخور کی اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے کے نیٹ ورک پر دو انتہائی مہلک اور فیصلہ کن ضربیں لگائی گئی ہیں۔ جس میں 12 دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں ۔ واشک میں کاروائی کے دورران 6 دہشت گرد موقع پر ہی نیوٹرلائز ہو گئے۔
جبکہ مستونگ میں ایک اور کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، شدید فائرنگ کے نتیجے میں مزید 6 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، کارروائی کے دوران دہشتگردوں کا ایک ٹھکانہ بھی تباہ کر دیا گیا۔
مکہ مکرمہ: 7 اگست 2026.
وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز سید عاصم منیر، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور پاکستانی وفد نے مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کیا.
عمرہ کی ادائیگی سے قبل پاکستانی وفد نے کعبہ شریف کی زیارت خاص کی سعادت حاصل کی.
عمرہ کی ادائیگی کے بعد وزیرِ اعظم، فیلڈ مارشل اور پاکستانی وفد نے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی، امت مسلمہ کی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کیلئے دعا کی.
وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطاء اللہ تارڑ، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور پاکستانی وفد نے مکہ مکرمہ میں عمرہ کی سعادت حاصل کی۔
عمرہ سے قبل وفد نے خانۂ کعبہ کی زیارتِ خاص کی سعادت بھی حاصل کی۔
عمرہ کی ادائیگی کے بعد وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور پاکستانی وفد نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی، امتِ مسلمہ کے اتحاد و سلامتی، اور خطے سمیت پوری دنیا میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔