@soldierspeaks میں نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے پیپر میں خان کے اثاثے لکھے تھے ایک ہی فارن اکاؤنٹ تھا اس میں صرف ایک یورو پڑا ہے
پاکستانیوں قدر کرو اپنے لیڈر کی 💔
آج جب پتہ چل گیا ہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں زبردستی سزا سنائی گئی ہے اور آج سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد یہ واضح ہے کہ انکی رہائی کا امکان ہے تو سسٹم حرکت میں آ گیا ہے اور انہیں رہائی ملتے ہی دوبارہ گرفتار کرنے کا انتظام پہلے ہی شروع کر دیا ہے
پیش بندی کے طور پر 9 مئی کے حوالے سے پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو ایک درخواست دی کہ عمران خان سے تفتیش اور انکی جیل میں ہی گرفتاری کی اجازت دی جائے تاکہ اگر وہ توشہ خانہ کیس میں رہا بھی ہو جائیں تو انہیں جیل کے اندر سے ہی گرفتا کر لیا جائے اس درخواست کو منظور کر لیا گیا ہے
عمران خان کو سبق سکھانے کی ان ساری کوششوں سے سسٹم اور "بادشاہ" مزید ننگا ہو رہا ہے
ایک برطانوی شہری کی نیب دفتر سے تقریباً دلہا جیسے کپڑوں میں باعزت بیٹھے تصویر لیک ہوئی تھی اس شخص کی دولت نے پاکستانی میڈیا کے دلال خرید لیئے تھے مہینوں اس اشتہاری برطانوی شہری کے حق میں مظلومیت کے فضا بنائی گئی
میرے ہم وطنو آج ایک ایسے شخص کی جیل میں حالت زار پہ رپورٹ شائع ہوئی ہے جسکے دو فٹ کے باتھ روم کے سامنے کیمرے لگائے گئے ہیں وہ اس وطن کا بیٹا ہے تمہارا مقدمہ لڑتا لڑتا اپنی بہترین زندگی گنوا بیٹھا ہے جسے کپڑے خود دھونے پڑ رہے ۔۔۔ جسے کھانا کم دیا جا رہا ۔۔۔ جسے داڑھی بنانے کی اجازت نہیں ۔۔۔ مگر اس کے پاس کوئی دولت نہیں کہ میڈیا کے دلال خرید لے جو اسکا مقدمہ اٹھائیں اس پہ غیر انسانی سلوک پہ ایوان ہلیں ۔۔۔اسکی دولت اسکی قوم ہے اسکی امید اسکی جائیداد تو آپ ہیں۔۔۔ میں ہوں ۔۔۔
تو کیوں اسکی آواز نہیں بن رہے ؟؟؟؟؟؟
کیوں اس بہادر کا مقدمہ نہیں لڑ رہے ؟؟؟؟؟
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔
جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"
"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔
"کیوں؟"
"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
"خرید لیتے"
"پیسے نہیں تھے"
"گھر والوں سے لے لیتے"
"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"
"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"
"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"
"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"
"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"
جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔
"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"
فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔
("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)