اس جلاد صفت شخص نے کرپٹ اور ہارے ہوئے سیاستدانوں کو اکٹھا کر کے ایک ایسا مکروہ نظام کھڑا کر لیا ہے کہ جہاں قانون، عوام سب ہاتھ باندھے کھڑے ہوئے ہیں-
یہ چاہے تو پاکستان کا ہر نظام بہتر ہو سکتا ہے، ہر شعبہ قانون کے مطابق چل سکتا ہے، مگر اس شخص سے بہتری تو کچھ بھی نہ ہو سکی، ہاں تباہی ضرور مچ گئی ہےـ
اس کی بہت سی وجوہات ہیں، سب سے بڑھ کر یہ شخص نااہل بھی ہے، خوشامد پسند بھی ہے اور سب سے بڑھ کر بدنیت بھی ہےـ اگر اس کی نیت پاکستان کے لئے کچھ کرنے کی ہوتی تو ہر چیز بہتری کی طرف جا سکتی تھی-
#عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
محبت قربانی مانگتی ہے!
اگر آپ واقعی عمران خان سے محبت کرتے ہیں تو 27 ستمبر کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔
گھروں سے نکلنا ہوگا، اپنی آواز بلند کرنی ہوگی اور عمران خان کی رہائی کے لیے پُرامن جدوجہد کرنی ہوگی۔
ان شاء اللہ، 27 ستمبر فیصلہ کن دن ہوگا۔
#عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
”پی سی بی نے بھونڈی حرکت کرکے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو دنیا بھر میں وائرل کر دیا، آج وہ انٹرویو زبان زد خاص و عام ہے۔ موجودہ رجیم نے انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ بھی دھونس کا وہی رویہ اپنانے کی کوشش کی ہے جو عمومی طور پر مقامی طور پر میڈیا کے ساتھ ہوتا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر انتہائی افسوس کیا، کہ یہ وہ پاکستانی ٹیم ہے ہی نہیں جس کو ہم کبھی کھیلتا دیکھا کرتے تھے۔ یہی ہوتا ہے جب آپ کسی قوم سے اس کا وہ ھیرو چھین لیتے ہیں جس کو وہ ہمیشہ فالو کرتی ہے۔ “ بیرسٹر شہزاد اکبر
@ShazadAkbar
#WorldSpeakingUpForKhan
ہمارا بھائی ہمارا قیمتی اثاثہ ہے۔۔ ہم نے عمران خان کو بتایا کہ آپ کو ختم کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے تو خان صاحب نے کہا زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم چپ بیٹھ کر انتظار نہیں کرسکتے ہیں، ہم سب پر عمران خان کی حفاظت فرض ہے
علیمہ خان 💔
ہم عمران خان کی شخصیت سے بے حد متاثر بھی تھے اور ڈرتے بھی تھے،کیونکہ وہ فضول باتیں بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن کرکٹ کے معاملے میں وہ ایک دس سالہ بچے کی طرح جنونی تھے جو ہر وقت کرکٹ ہی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔
جب ہم بطور اوپنر بیٹنگ کے لیے میدان میں جا رہے ہوتے، تو وہ ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے باوجود پہلے سے ہی پیڈز پہن کر تیار بیٹھے ہوتے۔
وہ ہر وقت ہمیں کھیل کی تکنیک، مخالف ٹیم سے نپٹنے کے گر سکھاتےتھے۔ مجھے یاد ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف تین روزہ میچ میں جب سر رچرڈ ہیڈلی کافی تیز باؤلنگ کر رہے تھے اور میں اوپننگ کر رہا تھا، تو عمران خان مجھے ایک طرف لے گئے اور بولے ،تمہیں معلوم ہے ہیڈلی کو اپنے اوور میں باؤنڈری کھانا بالکل پسند نہیں اور وہ زیادہ باؤنسر بھی نہیں پھینکتا۔ اگر وہ تمہیں باؤنسر کرائے تو تم فورا پل شاٹ مارنا، وہ دوبارہ تمہیں باؤنسر کرانے کی ہمت نہیں کرے گا۔
میں نے اس میچ میں 70 سے زائد رنز بنائے۔ ہیڈلی نے مجھے ایک باؤنسر کرایا، میں نے اس پر چوکا جڑ دیا، اور اس کے بعد اس نے پورے میچ میں مجھے کوئی شارٹ پچ گیند نہیں کرائی۔ حریف کھلاڑی کو پڑھنے اور یوں جرات مندانہ سوچ دینے کا نام عمران خان تھا۔ رمیز راجہ کمنڑی کےدوران عمران خان کے گن گاتے ہوئے
My name is Harmeet Singh.
I am the first Sikh anchor in Pakistan’s 79-year history
My only “crime” is that I work as a journalist in Pakistan, ask questions and try to speak the truth.
I appeal to journalists organizations, press freedom groups, and human rights organizations around the world to take notice of what is happening to journalists in Pakistan.If a journalist’s only crime is asking questions and speaking the truth then the world must ask: When did journalism become a crime?
@pressfreedom@FreeThePressNow@RSF_inter@IFJGlobal
@IPI_Global
@rorypecktrust
#HarmeetSingh #JournalismIsNotACrime #PressFreedom #JournalistSafety #Pakistan #FreedomOfPress #JournalistsInDanger