سندھ نے ایک بات تو ثابت کر دی ہے کہ عوام اپریل ۲۰۲۲ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ ۲۷ ستمبر کو انشاءاللہ تاریخ رقم ہوگی! عمران خان کی صحت اور رہائی کے لیے انشاءاللہ پاکستان کے ہر کونے سے لوگ نکلیں گے۔
#ستمبر27_کی_کال_عوام_تیار
عاصم منیر کو آرمی چیف بنے قریب قریب ہوئے چار سال ہوگئے ہیں۔ عاصم منیر نے اس دوران ائیر چیف نہیں بدلا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نہیں بدلا ، وزیراعظم نہیں بدلا ، وزیر دفاع نہیں بدلا ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا منسٹر نہیں بدلا ، وزیر خارجہ نہیں بدلا ، وزیر قانون نہیں بدلا۔ یعنی مینڈیٹ چھیننے سے پہلے ،اور بعد جو جہاں جہاں تھا وہیں وہیں رہنے دیا۔ کچھ کور کمانڈرز دسمبر 2022 سے اپنے عہدوں پر ہیں جی ہاں آرمی چیف بننے کے وقت جنہیں لگایا۔ دو لوگ کورکمانڈر لاہور اور منگلہ ناپسندیدہ تھے وہ ہٹائے ، ایک کی ریٹائرمنٹ آگئی تو ہٹایا۔ ندیم انجم کو ہٹایا وہ بھی ایکسپائری کے ایک برس بعد۔ بعد میں اسکی مریم سے قربت کی خبر ہی آئی اس کو گھر بیٹھے بٹھائے معلوم نہیں کیا جھٹکا کروایا اسکی کبھی خبر بھی نہیں آئی۔ فیصل نصیر چار سال سے زیادہ وقت سے اسی عہدے پر ہے۔ اب یقینا اسکی ریٹائرمنٹ آگئی ہوگی۔ اس پر احسان کرتے ہوئے اسے تحفتا ایک تین سالہ تعیناتی دے دی گئی ہے۔
پوائنٹ یہ ہے کہ باہر کا سارا ملک اکھاڑ پچھاڑ دیا ، آئین ، جمہوریت ، امن ، استحکام ، ترقی ، سب لپیٹ دیا۔ جو عاصم منیر پر انحصار کرتے ہیں یا جن پر عاصم منیر انحصار کرتا ان کو نہیں بدلا۔ ہر ممکن کوشش کی یہ والے چہرے یہیں رہیں اسکے اردگرد آگے پیچھے رہیں۔ اسکی وجہ بہت سادہ ہے۔ عاصم منیر خود جرنیلی سازشوں ، گٹھ جوڑ اور خفیہ ملاقاتوں کی بدولت یہاں تک پہنچا ہے۔ جو چہرے اسکے ساتھ موجود ہیں وہ اس سسٹم کے کانڑے ہیں اور اپنی اپنی ایکسپائری گزارنے کے باوجود اس سسٹم سے کچھ نا کچھ حاصل کررہے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو پر عاصم منیر کو اعتماد ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی آرمی چیف کے بعد سب سے طاقتور عہدہ ہوتا ہے۔ وہاں بھی وہ شخص بٹھا رکھا ہے جسکی ایکسپائری گزر چکی اور ایکسٹینشن پر ہے۔ یعنی زیر بار ہے احسان مند ہے۔
نئے لوگ آئیں گے ، وہاں آئیں گے جہاں ناگزیر ہوں گے۔ لیکن اکھاڑ پچھاڑ نہیں ہوگی۔ ہرگز نہیں ہوگی۔ یہی وجوہات ہیں کہ ادارہ ہذا عاصم منیر کو تمام تر وحشت طاقت اور بربریت کے باوجود ایک کھسی ، کمزور اور پھس پھس ڈکٹیٹر سمجھتا اور کہتا ہے کہ یہ ڈرا ہوا ہے ، یہ خوفزدہ ہے۔ یہی ڈر اور خوف اسے تاحیات استثنی لینے والی قانون سازیوں ، چیف آف ڈیفینس سٹاف جیسے عہدوں کی تخلیق ، فیلڈ مارشل جیسی بودی ترقیوں ، سبھی فورسز کو ہاتھ میں کرنے جیسی حرکتیں کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
چچا صابر شاکر ، ہمارے کچھ دیگر مہربان تجزیہ کار ، کچھ عقل بند تبصرہ پاڑ بھی اپنی جگہ سچے ہیں۔ فوج کے اندر کی ہلچل جب ہوئی عاصم منیر کو کھا جائے گی۔ یہ لوگ بچپن سے یہی دیکھتے آئے ہیں۔ لیکن ہم ہر ایسے امکان کو رد کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم لوگ مفاہمت ، اقتدار یا باری کے انتظار میں نہیں ہیں۔ ہم حقیقی آزادی کے لیے لڑرہے ہیں۔ نجم سیٹھی کے الفاظ میں یوتھیوں نے یہ ایک نظریہ سا خود پر طاری کرلیا ہے۔ ہاں کرلیا ہے۔
ڈر بے غیرتا ڈر
اگر کسی طاقتور عسکری ادارے کی بقا اور اثر و رسوخ کا انحصار مسلسل تنازعات، عدم استحکام اور سکیورٹی کے بیانیے پر ہو، تو پھر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ کیا وقت کے ساتھ ایسا ادارہ صرف اپنے ملک ہی نہیں بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے بھی ایک ممکنہ تھریٹ نہیں بن سکتا؟
سوال صرف یہ نہیں کہ کنفلکٹ کے بغیر وہ کیا کریں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اپنے ادارہ جاتی وجود، مفادات اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے وہ مزید کیا کچھ کر سکتے ہیں اور کس حد تک جا سکتے ہیں؟ کیا نئے تنازعات پیدا کیے جا سکتے ہیں، سیاسی مداخلت بڑھائی جا سکتی ہے،
پاکستانی فوج کو اپنے سیاسی اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کنفلکٹ درکار رہتا ہے۔ ذرا سوچیں، اگر ملک میں کوئی بیرونی یا اندرونی تنازع نہ ہو تو پھر اپنے سیاسی کردار اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے پاس متبادل کیا ہوگا؟
عمران خان ضد بن گیا ہے! جتنے بھی clashes ہیں، وہ اب عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان نہیں ہیں؛ عمران خان تین سال سے اس جنگ سے نکل چکا ہے۔ اب اصل میں clashes پاکستانی عوام اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان چل رہا ہے! یہ جو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ لوگ آپ کو وہ محبت نہیں دیتے، یہ آپ کے اپنے کرتوت ہیں جو عمران خان نے آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں! سید ذیشان عزیز
@iemziishan
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
پاک فوج کے جوانوں کے لیے ایک افسوسناک اطلاع یہ ہے کہ موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر اگر آپ بلوچستان ، وزیرستان , بنوں یا کہیں بھی مارے جاتے ہیں تو آپ کی خبر نہیں چلے گی۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ملک میں بددلی پھیلتی ہے۔ فوج کی ریپوٹیشن تباہ ہوتی ہے۔ لہذا آپ کو خاموشی سے مرنا ہوگا۔
اگر آپ کمشنڈ افسر ہیں کپتان میجر ہیں تو پھر خبر چلے گی۔ جوانوں کی خبر نہیں چلے گی۔ ویسے آپ کو بہت زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپکو دفن سرکاری اعزاز کیساتھ کیا جائے گا۔ پنشن وغیرہ بھی ملے گی۔پلاٹ اور پیکج بھی قائم ہے۔ بس میڈیا میں آج پانچ مرگئے ، آج آٹھ مرگئے آٹھ چھ مر گئے اب نہیں ہوا کرے گا۔
آج میں نے دیکھا، انہوں نے لکھا قاسم گولڈسمتھ۔ ان بچوں کو اپنے نانا کے نام کی ضرورت نہیں ہے، ان کا باپ بہت عظیم انسان ہے۔ نانا کا نام وہ لگاتے ہیں جن کو اپنے باپ کے نام پہ یقین نہ ہو۔ نورین خان
@Noreen_KhanPK
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan