حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ انھوں نے فرمایا : کچھ دعائیں ایسی ہیں جنھیں رسول اللہ ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے ۔ آپ ﷺفرمایا کرتے تھے :
’’ اے اللہ ! میں فکر ‘ غم ‘ عجز ‘ سستی ‘ بخل ‘ بزدلی اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۱)
رسول اللہﷺکی دعا:
اے اللہ! میں تجھ سے جنت کاطالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے،اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سےقریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نےمیرےلیے فیصلہ کیاہے بہتر کر دے۔
(ابن ماجہ،۳۸۴۶)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہیں بھیج لیتے۔
(جامع ترمذی،۴۸۶)
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
﷽
اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔
Urdu Translation Surah Yunus: Verse: 13
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کی یاد نہ کریں، اور نہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ( درود ) بھیجیں تو یہ چیز ان کے لیے حسرت و ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے، اور چاہے تو انہیں بخش دے“۔
(جامع ترمذی،۳۳۸۰)
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
عثمان! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص (خلافت) پہنائے گا، اگر منافقین اس قمیص کو اتارنے کا مطالبہ کریں تو ان کے کہنے پر تم اسے نہ اتارنا، کیونکہ اس کے اتارنے میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔ آپ ﷺنے یہ بات دو تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
(مسند احمد،۱۲۲۳۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہرنماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔
(ابوداؤد،۱۵۲۲)
سود کا لین دین اللہ اور اسکے رسول ﷺ کیساتھ اعلان جنگ ہے۔
ہم اللہ کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے اس ملک میں کبھی بھی خوشحالی نہیں لا سکتے، ہمیں اپنے ملک کو بچانے کیلئے سودی لین دین سے ہر طرح سے بائیکاٹ کرنا ہوگا۔
#سود_اللہ_رسول_سےاعلان_جنگ_ہے#Boycott_UBL_HBL_MCB_and_NBP
پھر تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ ( بروز قیامت ) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا ۔
(سنن ابی داؤد، ۲۰۵۰)
خاموشی اختیار کر لیں مگر گلہ مت کریں ، گوشہ نشین ہو جائیں مگر اپنا معیار مت گرائیں ، عزت نہ ملے تو کنارہ کشی بہتر ھے، کیونکہ "عزت اور محبت" کے بغیر کسی بھی رشتے کا وجود نہیں......
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (تحقیق کیے بغیر) بیان کر دے ۔‘‘
رواہ مسلم ۔
Mishkat ul Masabeeh Hadees # 156
جب اللّٰہ اپنے بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اُسے پائدار عقل اور صحیح کردار سے نوازتا ہے اور پھر اُس پر اپنی نعمتوں کو فراوان اور اپنے احسان کو زیادہ کر دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا ہے: ایک یہ کہ تمہارا نبی تم پر ایسی بدعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ، دوسری یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں آئیں گے، تیسری یہ کہ تم سب گمراہی پر متفق نہیں ہو گے ۔
(سنن ابی داؤد، ۴۲۵۳)
یعلی بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، جو شخص حسین سے محبت کرتا ہے تو اللہ اس سے محبت کرے اور حسین میری اولاد سے ہیں ۔‘‘
(رضی اللہ عنہ)
(مشکوۃ ،۶۱۶۹)
جب تم سجدے پہ سجدہ کرتے ہو،جب تم سانس لیے بغیر بے ساختہ اس کا نام پکارنے لگتے ہو،تب وہ تمھیں دیکھ کر مسکراتا ہے ،تب وہ تمھارے یقین کا بھرم رکھ لیتا ہے ،اور تمھارے مان کی لاج رکھ لیتا ہے ،سارے وسوسوں کو ختم کر دیتا ہے،وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے
”ﷲ کی نعمتوں پر غور کرنے سے ﷲ سے حیا آنے لگتی ہے، پھر انسان اس بات سے شرما جاتا ہے کہ ﷲ ہی کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اسی کی نافرمانی میں استعمال کیا جائے۔“
امام ابن رجب رحمه الله
شاکر شجاع آبادی سے اینکر نے سوال کیا کہ زندگی میں اتنے دکھ دیکھے ، معذور بھی ہیں، بول بھی ٹھیک سے نہیں سکتے، غربت بھی کاٹی، کیا اسکا غم ہے آپکو؟
تو شاکر بولے:
ایتھاں جو بھوگ بھوگے ہن
اُتھاں کوئی جزا مل سی
تھکیڑے سارے لہہ ویسن
نبیﷺ مل سی خدا مل سی
صلی الله علیہ وآلہ وسلم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے۔ الحمد للہ کہنا میزان (ترازو) کو بھر دیتا ہے۔ سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہنا آسمان و زمین کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، زکاۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف۔
(نسائی،۲۴۳۹)