رب کعبہ کی قسم جب تک بابا جی کا ایک غلام بھی زندہ ہم تمہاری نیندیں حرام کر دیں گے۔
تم 295-C پر ہاتھ اُٹھاؤ ہم تمہارا کلیجہ نکا*ل دیں گے۔
پولیس کی موجودگی میں رکن شوریٰ مفتی وزیر احمد رضوی صاحب کا جلالی فکر انگیز بیان ضرور سماعت کریں۔👇
ہمیں ہمہ وقت اپنے بابا جانم کے مشن کو ہمیشہ اپنے دل و دماغ میں رکھنا چاہیے۔ ہمیں کسی کی بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ کون کیا کہہ رہا ہے یا کیا کر رہا ہے۔
”جو کوئی ہماری تحریک کے بارے میں بات کرتا ہے۔۔۔
👇 کومنٹ
جو کوںٔی ہماری تحریک کے بارے میں غلط بات کرتاہے ہمارے تحریک کے لوگ جاکے کومنٹس کرنا شروع کر دیتے ہیں، ہوسکتا اُسکی پوسٹ پر کبھی اتنے ویوز نا ہی پڑے ہوں۔
ہوسکتا ہے کہ اسکی پوسٹ کسی دوسرے تک نا ہی پہنچے لیکن ہمارے کومنٹس/کوٹس کرنے سے ضرور پہنچتی ہوگی“۔
لہذا مؤدبانہ گزارش ہے !!
لاہور ہائی کورٹ میں امیر محترم کی جبری گمشدگی کی داںٔردرخواست پر ایک اور پیشرفت سامنے آںٔی ہے۔
جج جوادظفر نے بغیر کسی پیشرفت کےکیس کو ۴۹دن کے لیے ملتوی کردیا۔وکلاء نے زور دیا کہ یہ ایک زندگیوں کا معاملہ ہےلیکن جج نے یکسر نظر انداز کرتے ہوئےایک بار پھر دن دہاڑے انصاف کا قتل کردیا۔
حساس کیس پر بار بار ججز کی تبدیلی اور چھٹیوں کا عذر پیش کر کے سماعت اکتوبر تک لٹکانا انصاف کو دھچکا ہے۔ جج چھٹی پر جائے مگر فیصلہ تو سنا کر جائے کہ ریاست رضوی برادران کی جبری گمشدگی اور تشویش کا جواب کیوں نہیں دے رہی یا پھر جج صاحب بھی حکومت اور اداروں کی مرضی سے حکم سناتے ہیں
لاہور ہائی کورٹ میں ٹی ایل پی قائدین کی جبری گمشدگی سے متعلق کیس میں سماعت چھٹیوں اور عدم دستیابی کے عذر کی بنیاد پر 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی۔ وکلاء کی طرف سے زندگی کو لاحق خطرات اور 318 دن سے گمشدگی کا مؤقف پیش کیے جانے کے باوجود عدالت نے اگلی تاریخ تقریباً 49 دن بعد مقرر کی ہے،
امیر محترم کی بازیابی کیس بغیرکسی کارروائی کے سماعت 15اکتوبر تک ملتوی کرنا عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
بغیرکسی پیشرفت کے سماعت ملتوی کرناظاہر کرتا ہےکہ عدالتیں طاقتوروں کی رنڈیاں ہیں۔
انصاف فراہم کرنا ریاست کی آںٔینی ذمہ داری ہے۔
امیرمحترم کےکیس میں مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔