آواز اٹھائیں 🚨
اعجاز چوہدری کو جیل میں ہارٹ اٹیک ہوا اور سٹنٹ ڈلا۔ جب سٹنٹ ڈلا تو اس کا گردوں پر اثر ہوا اور کافی عرصے تک ڈاکٹرز کہتے رہے کہ گردوں کے ماہرین کو دکھایا جائے۔
اعجاز چوہدری کا کوئی مخصوص گروپ نہیں اس لئے علاج کے لئے ضرور آواز اٹھائیں
اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کو ہماری سوشل میڈیا کے دوستوں کی بھرپور سپورٹ حاصل تھی،چھوٹا سا کام ہوتا اور سوشل میڈیا پر ہم اسکو بڑی کامیابی ظاہر کرتے۔
آج ہماری حکومت کو صرف تنقید اور گالیاں ملتی ہیں حالانکہ اس وقت بھی مسلے ہوتے تھے لیکن اب پاپولر بیانیہ یہ ہے کہ خیبرپختونخواہ کی حکومت کو مسلسل ٹارگت کرو،اگر کوئی اچھا کام ہورہا ہو اسکو بالکل نظرانداز کرتے ہیں۔
ہم مثبت تنقید کرتے رہینگے لیکن اچھے کاموں کی بھی سپورٹ ہونی چاہئیے۔
سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ حکومت مفادعامہ میں مالک کی مرضی کے بغیر بھی جائیداد زبردستی لے سکتی ہے، عدالت نے واضح کیا کہ جائیداد کے مالک کو سونے کے بدلے سونا دیا جائے ناکہ تانبا تھما دیں، سرکاری ریٹ نہیں مارکیٹ ویلیو سامنے رکھی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اراضی کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال اور مستقبل میں اس کی ترقی کے امکانات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے صوابی میں نہری منصوبے کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق کیس میں 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں خیبرپختونخوا حکومت کی تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور ریفرنس کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا گیا۔
اسلام آباد، شیرین مزاری صاحبہ سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی خیریت دریافت کی۔ یہ بہت افسوسناک ہے کہ ایمان اور ہادی کی ارجنٹ اپیل کی سماعت مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ یہ سرا سر زیادتی ہے۔انصاف کا قتل ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ
1۔ فوری طور پر ایمان/ہادی کیس کا فیصلہ معطل کیا جائے
2۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو ضمانت پر رہا کیا جائے
3۔ فیئر ٹرائل جو کہ ہر پاکستانی کا بنیادی دستوری حق ہے کاحق ایمان اور ہادی کو فراہم کیا جائے۔
پاکستان رائٹس موومنٹ
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔
کوہ سلیمان! وہ مقام جہاں بادل پہاڑوں کے قدم چومتے ہیں، سرسبز ڈھلوانیں فطرت کا حسن بکھیرتی ہیں، اور ہر چٹان صدیوں پرانی داستان سناتی محسوس ہوتی ہے۔
کوہِ سلیمان کا یہ عظیم پہاڑی سلسلہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور افغانستان کے سنگم پر اپنی پوری شان سے کھڑا ہے۔ یہ صرف بلند چوٹیوں کا نام نہیں، بلکہ تاریخ، ثقافت، قدرتی حسن اور قبائلی روایات کا ایک ایسا خزانہ ہے جو ہر مسافر کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔
صبح کے وقت جب بادل وادیوں میں سمندر کی مانند پھیل جاتے ہیں اور ان کے اوپر بلند چوٹیاں آسمان سے ہم کلام دکھائی دیتی ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے اس خطے کو اپنے ہاتھوں سے تراشا ہو۔ یہاں کی ٹھنڈی ہوائیں، گھنے سبز پہاڑ، خاموش وادیاں اور دل موہ لینے والے مناظر ہر سیاح کے لیے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ بن جاتے ہیں۔
یہ خطہ اپنی دلکش فطرت کے ساتھ ساتھ یہاں آباد قبائلی عوام کی بے مثال مہمان نوازی، خلوص، روایات اور محبت کے لیے بھی پہچانا جاتا ہے۔ یہاں آنے والا ہر مہمان صرف ایک سیاح نہیں رہتا بلکہ عزت و احترام کے ساتھ خاندان کا حصہ بن جاتا ہے۔
تختِ سلیمان کو پشتون تاریخ اور روایت میں بھی ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اسی چوٹی پر پشتونوں کے جدِامجد قیس عبدالرشیدؒ سے منسوب مزار واقع ہے، اسی طرح مقامی روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس چوٹی پر تشریف لائے تھے، جس کی نسبت سے اس مقام کو "تختِ سلیمان" کہا جاتا ہے۔
اگر آپ فطرت، تاریخ، مہم جوئی، ثقافت اور حقیقی قبائلی مہمان نوازی کو ایک ہی سفر میں محسوس کرنا چاہتے ہیں، تو کوہِ سلیمان آپ کا منتظر ہے۔
یہ شاندار ویڈیو عبدالاحد سنگھیرا کی تخلیق ہے، جبکہ کوہِ سلیمان پر متعدد ٹریول وی لاگرز نے بھی نہایت خوبصورت وی لاگز تیار کیے ہیں، جو اس خطے کے حسن کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
آئیے، خیبرپختونخوا کو دریافت کیجیے۔ جہاں ہر پہاڑ ایک داستان ہے، ہر وادی ایک احساس، اور ہر سفر ایک یادگار۔
#KPTourism #ExploreKP #TakhtESulaiman #KohESulaiman #Nature #Adventure #Culture #TribalHospitality
آپ صوبوں سے تین سال پیسے لیں یا دس سال لیں ان بیچاروں نے آپ کو دے بھی دینے ہیں اگر نہیں دیں گے تو آپ انہیں ریلیز پہ روک لیں گے اور پھر وہ آئینی عدالت میں اپیل کرتے رہیں وہاں سے جو فیصلہ آئے گا وہ آپ کو بھی پتہ ہے وفاق کا Expenditure to GDP ratio کم ہونا چاہیے تھا وہ اب تین فیصد بڑھ چکا ہے دس سال بعد بھی وفاق کہے گا میں بھوکا ہوں مجھے اور پیسے دو ! اسامہ غیاث میلہ ۔۔
آج حلقہ #PK26 بونیر میں محکمہ آبپاشی کے تحت 28 ملین روپے کی لاگت سے ندیوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی و بحالی منصوبے کا افتتاح کیا۔ منصوبے کا آغاز ریگا خوڑ سے کیا گیا جہاں ڈریجنگ اور ڈی سلٹنگ کا باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔
بونیر ماضی میں سیلابی ریلوں سے شدید متاثر رہا ہے۔ عوام کے جان و مال، گھروں، زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات ہماری اولین ترجیح ہیں۔ ان شاء اللہ ندیوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی سے پانی کے بہاؤ میں بہتری آئے گی اور ممکنہ سیلابی خطرات میں نمایاں کمی ہوگی۔
عوامی خدمت اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔
#PK26 #Buner
"اٹھارویں ترمیم سے پہلے حکومت کا خرچ جی ڈی پی کا دس فیصد تھا، اٹھارویں ترمیم کے بعد 17 وزارتیں صوبوں کو چلی گئیں اس کے باوجود آج حکومت کا خرچ جی ڈی پی کا 13 فیصد ہے ۔بندہ جب اپنی ساری کوششیں کر لیتا ہے نا پھر دوسرے سے مانگتا ہے۔ کہتے ہماری سود کی ادائیگیاں بہت ہیں ہمارے خرچے زیادہ ہیں مجھے بتائیں آئی پی پیز کے معاہدے صوبوں نے کیے؟ پینشنز ریفارمز جو وفاق آج تک نہیں کر سکا وہ صوبوں نے کرنی ہے؟"۔ اسامہ میلہ
ا
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، کابینہ کے دیگر اراکین اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے پُرامن احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے اسلام آباد روانہ۔
یہ احتجاج بانی چیئرمین عمران خان کی ناحق قید کے خلاف، اُنہیں ڈاکٹرز تک فوری رسائی دلانے اور خیبر پختونخوا کو اس کے آئینی و قانونی حقوق دلانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
عوام کے حقِ رائے دہی، آئین کی بالادستی اور انصاف کی جدوجہد جاری رہے گی۔
#ReleaseImranKhan #PK26 #Buner
خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا یوتھ سمٹ بٹگرام میں!
نوجوانوں کے لیے سیکھنے، ترقی کرنے اور نئے مواقع حاصل کرنے کا سنہری موقع آ گیا ہے۔
میٹرکس پاکستان یوتھ سمٹ 2026 – آٹھواں ایڈیشن بروز سوموار، 15 جون 2026 کو ہزارہ یونیورسٹی سب کیمپس بٹگرام میں منعقد ہوگا، جہاں پاکستان بھر سے معروف کمپنیوں کے سی ای اوز، کاروباری شخصیات، ماہرینِ ٹیکنالوجی، اساتذہ، سرکاری افسران اور نوجوان رہنما شرکت کریں گے۔
سمٹ میں شرکاء کو درج ذیل مواقع میسر ہوں گے:
✅ معروف ماہرین کے کلیدی خطابات
✅ انٹرایکٹو ورکشاپس
✅ کیریئر اور انٹرن شپ کے مواقع
✅ کاروبار اور اسٹارٹ اپس کے حوالے سے رہنمائی
✅ ٹیکنالوجی اور جدت پر سیشنز
✅ نیٹ ورکنگ کے مواقع
✅ پرائیڈ آف خیبر پختونخوا ایوارڈز
✅ سوال و جواب کے مقابلے اور خصوصی انعامات
✅ شرکاء کے لیے تحائف اور ٹی شرٹس
تقریب کی سرپرستی مشیر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند کر رہے ہیں، جبکہ وہ تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر بھی شرکت کریں گے۔
📅 تاریخ: 15 جون 2026 (بروز سوموار)
🕘 وقت: صبح 9:30 بجے تا شام 4:00 بجے
📍 مقام: ہزارہ یونیورسٹی سب کیمپس بٹگرام
🎟️ رجسٹریشن بالکل مفت ہے۔
اگر آپ اپنے مستقبل کے لیے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں، کامیاب لوگوں سے سیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو میٹرکس پاکستان یوتھ سمٹ 2026 کا حصہ ضرور بنیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وفاقی وزیر مواصلات کو این 95 کالام روڈ کی خستہ حالی پر مراسلہ۔۔۔
این 95 کالام روڈ 2022 کے سیلاب میں سات مختلف مقامات پر شدید متاثر ہوئی ۔۔اگر وفاق کو مالی یا انتظامی رکاوٹ درپیش ہو تو این او سی جاری کی جائے تاکہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے وسائل سے کام مکمل کرے گی،۔۔این 95 کالام روڈ کی بحالی علاقائی رابطوں اور سیاحت کے فروغ کیلئے ناگزیر ہے،۔۔۔۔
روزانہ حدیث سیریز: پوسٹ نمبر 120
موضوع: مخلوقات پر رحم دلی — مغفرت کا سبب اور لامتناہی اجر
کتاب: ریاض الصالحین | حدیث نمبر: 126
باب: فی بیان کثرۃ طرق الخیر (خیر کے کثیر راستوں کے بیان کا باب)
حدیثِ مبارکہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ایک شخص راستے پر چل رہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی۔ اسے ایک کنواں ملا، وہ اس میں اترا، پانی پیا اور باہر آ گیا۔ وہاں اس نے ایک کتے کو دیکھا جو (پیاس کی شدت سے) ہانپ رہا تھا اور زیادہ پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے (اپنے دل میں) کہا: 'اس کتے کو بھی پیاس کی ویسی ہی شدت کا سامنا ہے جیسی مجھے تھی!'
چنانچہ وہ دوبارہ کنوئیں میں اترا، اپنے چمڑے کے موزے (خف) میں پانی بھرا، اسے اپنے منہ سے پکڑا (تاکہ ہاتھ آزاد رہیں اور وہ اوپر چڑھ سکے)، پھر وہ اوپر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی (شکر ادا کیا) اور اس کی مغفرت فرما دی۔"
صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا ہمارے لیے ان چوپایوں اور جانوروں (کی خدمت) میں بھی اجر و ثواب ہے؟" تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ"
"ہر جاندار (جس کے اندر تر جگر ہے، یعنی جان ہے) کی خدمت کرنے میں ثواب ہے۔" (متفق علیہ)
حدیث کے اہم اسباق
رحمتِ الٰہی کی وسعت: اللہ تعالیٰ جبار و قہار ہونے کے ساتھ ساتھ غفور و رحیم ہے۔ ایک جانور پر مخلصانہ رحم دلی کا مظاہرہ کرنا اور اس کی پیاس بجھانا اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اس نے بندے کے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے۔
انسانیت اور حیوانیت کا احساس: یہ حدیث سکھاتی ہے کہ ایک سچے مومن کا دل اتنا نرم ہوتا ہے کہ وہ صرف انسانوں ہی نہیں، بلکہ بے زبان جانوروں کی تکلیف کو بھی محسوس کرتا ہے اور اپنی راحت قربان کر کے ان کی مدد کرتا ہے۔
اسلام کا ہمہ گیر تصورِ رحمت: صحابہ کرامؓ کے سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے ایک سنہرا اصول بیان فرمایا: "فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ"۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام صرف انسانوں کے حقوق کا ہی علمبردار نہیں، بلکہ یہ پوری کائنات کی مخلوقات کے لیے سراپا رحمت ہے۔
اخلاصِ عمل کی قدر: اس شخص نے جنگل کے اس سنسان راستے پر کتے کو پانی پلایا جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔ اس تنہائی کے اخلاص نے اس کے عمل کو اللہ کے ہاں مقبول بنا دیا۔
آج کا عملی سبق
اپنے گھر کی چھت، بالکونی یا گلی کے کسی کونے میں پرندوں اور بے زبان جانوروں کے لیے پینے کے صاف پانی کا مستقل انتظام کریں۔ خاص طور پر گرمی کے موسم میں یہ چھوٹا سا عمل اللہ کی بارگاہ میں آپ کی بخشش اور بے حساب اجر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔