دنیا دے رنگ ،رنگ جاواں تے
میں چنگی کہلاواں
دل اپنڑے دی کر بیٹھاں تے
میں کھسماں نوں کھاواں
دم ہمدم میرا گھٹدا ای جاوے
تِل تِل مردی جاواں
روح میری نوں سینے لا
تینوں اِک اِک درد سناواں
وے مینوں دُنیا تانے مارے
وے میں چھڈ آواں محل منارے
👇
آج سعید بکس جانا ہوا تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ میں بیٹھا کچھ بکس دیکھ رہا تھا کہ ایک خاتون کی کاونٹر سے آواز آئی کہ میں نے آپ کو دو ہزار روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔
کاونٹر پر کھڑا نوجوان پختون اختر کچھ حیران ہوا کہ کس چیز کی ؟
وہ خاتون جن کی عمر شاید پینتس چھتس ہوگی کہنے لگی ایک سال پہلے میں نے یہاں سے کچھ بکس لی تھیں۔ میں پشاور سے ہوں ۔ واپس جاتے وقت راستے میں چیک کیا تو مجھے پتہ چلا کہ باقی کتابوں کی قیمت تو ادا کر دی تھی لیکن ایک کتاب اس بل میں شامل نہ تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ جب چکر لگے گا تو وہ میں پیسے دوں گی۔
کہنے لگیں وہ اب حج پر جارہی پیں اور نہیں چاہتیں اپنے پیچھے کچھ ایسا قرض چھوڑ جائیں۔ کتاب کا نام Power of Now تھا۔
اختر نے کتاب ڈھونڈ کر اس کی قیمت نکالی تو تین ہزار روپے بنی۔ وہ کہنے لگیں اس وقت اس پر دو ہزار لکھی تھی۔
شاید ڈالر ریٹ کم ہوگا۔
احمد سعید نے اپنے کیبن سے اختر کو اشارہ کیا کہ دو ہزار ہی لے لو۔
اس خاتون نے دو ہزار کی ادائیگی کی اور مطمئن ہو کر چلی گئی۔
احمد سعید بتانے لگے جب ان کے والد سعید صاحب کی وفات ہوئی تو بہت سارے نوجوان لڑکے اور کچھ لوگ ان سے تعزیت کرنے آئے۔ گلے لگے اور جاتے وقت وہ ایک لفافہ ان کی جیب میں ڈال جاتے۔ انہیں اس وقت تو اندازہ نہ ہوا کہ ان لفافوں میں کیا تھا کہ بہت رش تھا اور وہ سمجھے شاید وہ سب تعریت کرنے آئے تھے۔ بعد میں ان لفافوں کو کھولا تو پیسوں کے ساتھ نوٹ تھا کہ ہم نے کبھی اسٹوڈنٹ لائف میں سعید بکس سے بکس چرائی تھیں۔ اب ہم کماتے ہیں تو ضمیر پر دبائو بڑھا جب ان کی وفات کا سنا۔ ہم اس کتاب کے پیسے چھوڑ کر جارہے پیں جو چرائی تھیں۔
احمد سعید کہنے لگا رئوف صاحب جو لوگ لٹریچر پڑھتے پیں ان میں دوسروں سے ہٹ کر کچھ خاص ہوتا ہے۔
مجھے اپنے دوست شعیب بٹھل کی بات یاد آئی کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ادب پڑھا/کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور دوسرے وہ جنہوں نے نہیں پڑھیں۔ تیسرے کوئی نہیں ہوتے۔
احمد سعید جن کرداروں کی کہانیاں سنا رہے تھے جو ان کے باپ کی وفات پر لفافے ان کے جیب میں چھوڑ گئے تھے یا پشاور کی وہ نوجوان خاتون جو حج پر جانے سے پہلے چند سال پہلے کی کتاب کا بل چکانے آئی تھی ، وہ سب اس دنیا کی پہلی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔
تحریر/رئوف کلاسرا
#RaufKlasra #bookstore #booksbooksbooks #literature
جس روز ہمارا کوچ ہو گا
پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی
شیریں سخنوں کے حرفِ دُشنام
بے مہر زبانیں بند ہوں گی
معبود ! اس آخری سفر میں
تنہائی کو سرخ رو ہی رکھنا
جز تیرے نہیں کوئی نگہدار
اس دن بھی خیال تو ہی رکھنا
جس آنکھ نے عمر بھر رلایا
اس آنکھ کو بے وضو ہی رکھنا
جس روز ہمارا کوچ ہو گا
ترے فراق میں، آئے تھے جو وصال کے دن !
ہیں مدتوں سے کہیں لا پتا کمال کے دن !
یہی دعا ہے ! رہیں سبز ہی ! ترے موسم !
خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن
زین شکیل
@zainshakeel300
In English we say:
"Time will make them realize how rare I was."
But in urdu we say:
یاد آئیں گی تمھیں غفلتیں تمھاری
تمھیں دکھ نا ہونے کا بڑا دکھ ہوگا!