خیبر پختونخوا صوبے میں تمام سرکاری گاڑیوں میں بلیک لیبل شہد لیکر جانے کی اجازت ہوگی۔
اسی کے باعث اب صوبہ خیبرپختونخوا میں
“بلیک لیبل شہد کی نہریں بہیں گی”۔
یہ کام صرف اور صرف کوئی ولی اللہ ہی کرسکتا ہے، بہت بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے جناب نے، ورنہ الطاف حسین کے جو جرائم ہیں اور خصوصا" جو رویہ الطاف حسین نے اس مظلوم کے ساتھ روا رکھا ہے اسکی تفصیلات سننے کے بعد کوئی ذی شعور ایسانہیں ہوگا جو اس قدام کی تعریف کئے بغیر رہ سکے، مظالم کی لمبی فہرست ہے، الطاف ایسا سنگدل انسان ہے کہ جس نے، نارتھ کراچی سیکٹر ۵ اےمیں رہنے والے ایک لوئیر لوئیر مڈل کلاس کے نوجون کو اسکی ماں سے جدا کردیا، ملائشیا بھیج دیا اعلی تعلیم کے لئے، اس سنگدل کو یہ خیال بھی نا آیا کہ اس غریب کے خاندان سے کوئی کراچی سے باہر بھی نا گیا تھا، اعلی تعلیم تو لکھنا نہیں آتا تھا کسی کو، ماں دن رات اپنے لختِ جگر کو یاد کر کر کے الطاف کو بددعائیں دیتی تھی، لیکن یہ شخص اور اسکی نفرت تو ابھی شروع ہوئی تھی، واپس بلوا کر ایم پی اے بنا دیا، ارے دل کیوں نا پھٹ گیا تمہارا الطاف، اس پہ بھی اس ظالم کے دل کو سکون نا ملا تو آئی ٹی منسٹر بھی بنا دیا، ہائے ہائے، کیڑے پڑیں گے تجھے ظالم--- ستم ظریفی اس شخص کی ملاحظہ ہو، اسکے دل میں لگی نفرت کی آگ اس پہ بھی نا بجھی، پاکستان کے سب سے ��ڑے شہر کا ناظم/مئیر بنا دیا---- تجھے تو اللہ بھی معاف نہیں گا الطاف، یہ مظالم کی فہرست یہاں ختم نا ہوئی تو اس ظالم انسان نے اپنا اصل رنگ دکھایا اور سینیٹر بنا کر ظلم کی حد ختم کردی--- ہائے ہائے، آسمان سے آگ کیوں نا برس پڑی ، ایسے مظالم سہنے کے بعد بھی اگر کوئی ایسے ظالم اور فاسق انسان کو معاف کردے تو وہ کوئی ولی اللہ ہی ہوسکتا ہے-
بہت شور مچ رہا ہے کہ حافظ صاحب نے اپنی MPA کی سیٹ پی ٹی آئی کے حق میں چھوڑ دی ،جبکہ اصل کہانی یہ ہے کہ حافظ صاحب اس وقت بلدیاتی نظام میں اپوزیشن لیڈر ہیں جبکہ دوسری طرف حافظ صاحب نے MPA کی کرسی بھی جیت لی تھی ، اور قانون کے مطابق حافظ صاحب ایک وقت میں دونوں عہدے نہیں رکھ سکتے تھے اور کوئی ایک عہدہ انہیں چھوڑنا ہی تھا ،
پیپلز پارٹی کی سندھ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے بعد حافظ صاحب کی mpa کی سیٹ کسی کام کی نہیں رہی تھی ،اس لیے انہوں نے mpa کی سیٹ کو خیر آباد کہہ دیا اور بلدیاتی کابینہ میں لیڈر آف اپوزیشن کی کرسی برقرار رکھی ہے ، یہ ڈرامے بازی کچھ وقت تو چل جاتی ہے لیکن جب اصل معاملہ سمجھ آتا ہے تو لوگ تھو تھو کرتے ہیں ، اس ہی وجہ سے پاکستان کے عوام جماعت اسلامی کو اسمبلیوں میں نہیں بھیجتے کیوں کہ سوائے ڈرامے بازی کے یہ کچھ اور نہیں کرتے
Ameer of Jamaat-e-Islami, Siraj-ul-Haq, stepped down from his position because the party did not perform well in the elections. In a statement, he mentioned that despite putting in a lot of effort, they did not achieve success they hoped for.
#situation#meeting#party#success
کیا ریاست کاکام فقط ججوں کو سیکیورٹی فراہم کرناہے؟
کیا جج صرف تنخواہیں اور مراعات لینے کے لئے کرسی پر بیٹھتے ہیں؟
کیا عوام کا کوئی نہیں، وہ عوام جس کے ٹکڑوں پر یہ سارےسیاستدان، بیوروکریٹ، اعلیٰ عملدار پلتے ہیں؟
ہمارا قصور ہے ہم اس ملک میں پیدا ہوئے جہاں قانون اندھا لولا لنگڑا ہے
“عمران خان کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو اس نے اپنے مخالف سیاستدانوں کے ساتھ 2018 میں کیا تھا اور بالکل ٹھیک ہو رہا ہے۔ یہی لیول پلینگ فیلڈ ہے۔ اصل سیاست اس کے بعد ہی شروع ہو گی اور یہی ہونا چاہیے تھا۔” جواد احمد۔
“عمران اب قوم سے صرف جھوٹ نہ بولنے، مذہبی منافقت نہ کرنے اور کرپشن، چوری نہ کرنے کا حلف لے گا ورنہ اسے معافی نہیں ملے گی۔”
#TOKAlert
15 رنز کے عوض ابتدائی تین بھارتی بلے بازوں کو پویلین بھیجنے والے بھیجنے والے بیئرڈمین کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
https://t.co/YFWUKtGXPP
#U19WorldCupFinal
ملتان: پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سید علی موسیٰ گیلانی کی جیت کا حتمی و س��کاری اعلان
ملتان: ہم الحمدُللّٰہ جیت گئے ہیں، مخالفین سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، ترجمان گیلانی ہاؤس
سوشل میڈیا افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، ترجمان گیلانی ہاؤس
@SyedMusaGillani
گوہر خان نے رونی آواز میں جیو پر کہا کہ ہم کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کرینگے- گوہر خان
اصل میں کوئی آپ کے ساتھ اتحاد نہیں کررہا- ہر سیاسی پارٹی نے لعنت بھیجی ہُوئی ہے، یہ صرف فیض تھا جس کی کرشمہ سازی کی وجہ سے اتحادی بنے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی #چنو_نئی_سوچ_کو کے تحت کراچی میں ایک نوجوان ورکر (جو مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں) کو شہر قائد کے بیچوں بیچ صوبائی سیٹ پی ایس 102 کیلئے نامزد کیا۔
یہ سیٹ جو کہ (پی آئی بی جمشید کوارٹرز وغیرہ) پر مشتمل ہے جس پر پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی تین ہزار تو کبھی زیادہ سے زیادہ چھ ہزار ووٹ حاصل کیئے۔
مگر جب ایک مڈل کلاس گراؤنڈ ورکر کو موقع ملا تو اس نے اپنی محنت سے پی ایس 102 پر بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے پندرہ ہزار ووٹ حاصل کیئے۔
اقربا فاطمہ جیسے گراؤنڈ ورکر ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا اثاثہ ہیں۔
امید رکھتے ہیں کہ پارٹی ان جیسے نوجوان ورکرز کی حوصلہ افزائی کرتی رہے گی، جو پاکستان پیپلز پارٹی کا مستقبل ہیں۔
ویل ڈن ادی اقربا فاطمہ۔
حلقہ کی عوام اور پار��ی کارکنان آپ کے ساتھ ہیں۔