شہزاد رائے کے ملالہ یوسفزئی سے چھبنے والے سوالات💥مجھے سے کسی نے پوچھا آپکا فیورٹ ایجنٹ کون ہے؟
آپکا انٹرنیٹ ابھی خراب ہوا ہے یا جب سے اسرائیل نے فلسطین میں جینوسائیڈ شروع کیا تب سے خراب ہے؟
ہمارے نوجوان جو ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں آپکے پاس دعا لپا کا نمبر ہے؟🫡
اگر فوج کو خیبرپختونخواہ کی حکومت سے ایک فیصد بھی خطرہ ہوتا تو وہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کبھی نہ بننے دیتی۔ جن عدالتوں اور الیکشن کمیشن کی مدد سے باقی تین صوبوں میں اپنی مرضی کی حکومتیں مسلط کیں، انہی کی مدد سے یہ کام خیبرپختون خواہ میں بھی کرسکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔
اس کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ فوج چاہتی تھی کہ عوام کو ایک تسلی رہے کہ ایک صوبے میں ان کی حکومت قائم ہے اس لئے وہ کبھی بھی سر پر کفن باندھ کر احتجاج کیلئے نہ نکل سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جب تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو پروٹوکول اور حکومتی اختیارات کی لت لگ جائے گی تو وہ خودبخود احتجاج کی بجائے مصالحتی سیاست کا رخ کریں گے۔
اگر آپ کے ذہن میں یہ معمولی سی بھی خوش فہمی ہے کہ تحریک انصاف کے عہدیداران کسی قسم کی مؤثر احتجاجی تحریک چلائیں گے تو یہ غلط فہمی اپنے دل سے نکال دیں۔
الیکشن کو دو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا، اب یہ لوگ کسی نہ کسی طریقے سے اگلے تین سال بھی اسمبلیوں میں نکالنے کی کوشش کریں گے۔ ان سے کسی قسم کی امید فضول ہے۔
عمران خان کی رہائی اور حقیقی آزادی کا حصول اسی وقت ممکن ہوگا جب عوام پوری قوت سے باہر نکلیں گے اور اس کیلئے وہ کسی دو نمبر لیڈر کی کال کا انتظار کرنے کی بجائے خود اقدام کریں گے۔
اگر یہ نہیں ہوتا تو جان لیں، فوج جیل سے عمران خان کی لاش ہی باہر آنے دے گی اور شاید اس کا دیدار بھی عوام کو نہ کرنے دے۔
یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ انہوں نے مستقبل میں عمران خان کا مزار بنا کر عقیدت کے پھول اور آنسو بہانے ہیں یا کوئی اقدام کرکے اسے زندہ باہر نکالنا ہے!!!
اللہ نے ہر علاقے کے لوگوں کی فطرت ساخت جسامت کو جدا جدا بنایا ہے
کچھ لوگ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کئے
جب کہ کچھ لوگوں کا مزاج باغیانہ اور سپاہیانہ ہوتا
عرب تو عیاشی سے خراب کر دیئے گئے
اسی طرح پشتون بھی جنگجو مزاج اور بہادر ہیں۔
جب تک ان کی رگوں میں اسلام تھا تو یہ مجاھد بھی تھے بہادر بھی اور غیرت مند بھی ۔
پھر بش کے حکم کے مطابق جہاد کو تو دہشت گردی قرار دے دیا گیا
مختلف طریقوں اور این جی آواز کے ذریعے اسلام سے بھی دور کرنے کی حتی الامکان کوشش جاری ہے
لیکن فطرت تو نہیں بدلی جاسکتی تھی۔
لہذا وہ بہادری بدمعاشی و غنڈہ گردی میں تبدیل ہونا کوئی بڑی بات نہیں بس اسی کے نظارے آجکل پورے پاکستان میں ساری قوم کر رہی ۔
یہ ریاست کا مقصد تھا وہ اس میں کامیاب ہوئی نسل تباہ ہوئی
اب نتیجہ صرف وہی نسل نہیں بلکہ پورا معاشرہ بھگتنے کو تیار ہے۔
بہادروں کی نسلوں کو بچانے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے جہاد ۔
اسکے علاؤہ کوئی طریقہ نہیں ،
عربوں میں بھی جو مٹھی برابر جہاد میں لگے ہوئے پوری دنیا کے سب سے بڑے فرعون کو نتھ ڈال کر رکھی ہوئی یہی مثال افغانستان کی کہ وہی پشتون ہیں لیکن جہاد کی راہ پر چل رہے تو سپر پاور بھی منتیں کرکے اپنے قیدی چھڑواتی
ساری دنیا کے بدمعاش میز پر بیٹھ کر منتیں کرواتے قیدیوں کی ماؤں سے خط لکھواتے کہ بہادر لوگ ماؤں بہنوں کی عزت کرنا جانتے ۔۔
نوجوانوں کو جہاد سے دور کروگے تو پھر وہی ہوگا جو ہو رہا