اٹھا لیا گیا تو کئی ہفتوں یا مہینوں تک کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ نا تو وکیل سے رابطہ کروایا گیا اور نا ہی اہلخانہ سے ۔ اس دوران سختیوں اور پابندیوں کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کافی وقت کے بعد پہلی مرتبہ گھر فون کرنے کی اجازت ملی۔ بتایا گیا کہ دو تین منٹ کی اس فون کال کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کرنی۔ مہینوں بعد ہیلو کی آواز نے زار و قطار رلا دیا۔
“ جنید بول رہا ہوں آپ ٹھیک ہیں ؟ میں بھی ٹھیک ہوں “
تیسرا سوال آپ کی جان نکال دے گا۔
“ عمران خان رہا ہوگیا ہے ؟”
سیاسی گفتگو نہ کرنے کی پابندی تھی۔ خلاف ورزی پر آپریٹر نے کال منقطع کردی۔ جنید جہانگیر کی زبان میں لکنت ہے اللہ نے وہ کسر دماغ میں پوری کردی ۔ دو تین دفعہ اس سے ملاقات ہوئی تھی ۔قدیمی ٹوئٹر والے سبھی لوگ اسے جانتے ہیں۔ پرانے دور کا سلیبرٹی۔ سلمان رضا فرنٹ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک نہیں رہا لیکن انتظامی امور میں ٹیم ورک میں سلمان رضا نے تحریک انصاف کے لیے بہت کام کیا۔
کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بہت لوگوں سے پوچھا۔ ان کیساتھ مسئلہ کیا ہوا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف آفیشلز نے اپنی گردن چھڑانے کے لیے ان کا نام دیا اور یہ امارات میں دھر لیے گئے۔ کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ انکی کچھ پوسٹس اماراتی حکومت کے راڈار میں آئیں جو ان کے لیے یہ مسئلہ بن گیا۔ جتنے منہ اتنی کہانیاں ۔ کچھ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف انکے لیے کچھ نہیں کررہی۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کافی سفارت کاروں ، سابق وفاقی وزراء اور بیک ڈور چینلز کی مدد سے انکی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ سے انکار ہوا۔
سلمان رضا بال بچے دار ہے۔ انکی اہلیہ کی پوسٹس دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ جنید کے خاندان والے بھی روتے پیٹتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ ان کو مختلف طرح کے طبی مسائل ہے۔ بغیر بے ہوش کیے سلمان رضا کی ایک سرجری بھی کی گئی۔ ان کی صحت بھی دن بدن گررہی ہے۔
اب شاید دو تین سال ہوچکے۔ کتنی ہی عیدیں ان دو خاندانوں کی سسکیوں میں گزری ہوں گی۔ بوڑھے ماں باپ دن میں کتنی ہی مرتبہ روتے ہوں گے۔ ان بوڑھے والدین کی بہنوں اور اہلیہ کی بچوں کی سسکیاں اور بددعائیں عرش ہلائیں گی ، ہم یہ سب بے غیرتیاں کرنے والوں کے لیے زمین ہلاتے رہیں گے۔ ایک دن جنید گھر فون کرے گا اور پوچھے گا “ اس کا کیا بنا” اسے بتائیں گے “ وہ آگیا ہے “ ہم سوشل میڈیا کی طاقت سے عمران خان سے جو پہلا کام لیں گے وہ جنید اور سلمان کی رہائی کا لیں گے۔
یہ کرک ہے۔ لوگ آج بھی اسی ایک شخص کے ساتھ کھڑے ہیں جو ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ یا اسکے ٹولے کے لیے پورے پاکستان میں کوئی جگہ شائد نہیں بچی۔
ڈی جی ISPR نے کہا کہ فوج کا آذاد کشمیر ایشو سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ حکومت آذاد کشمیر کا معاملہ ہے
سچ یہ ہے کہ پوری آذاد کشمیر حکومت پاکستانی فوج کا بریگیڈیئر فائق ایوب، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی چلا رہا ہے، اور وہاں نہتے شہریوں پر گولی چلانے کا حکم فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دیا
آج میرے کورس میٹ اور پلٹون میٹ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی برسی ہے۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر عطا کرے۔
جنرل سرفراز کیساتھ بطور کیڈٹ گذرے وقت کی چند یادیں جو میں نے اسکے جنازے سے واپسی پر تحریر کی
https://t.co/emI5A8G89e
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
ایران نے رات انوکھا کام کیا ہے جو پہلے نہیں کیا تھا۔
جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہا تھا تو اردن میں امریکی بیسز پر preemptive strikes لانچ کردیں۔ اسرائیلی اور امریکی یہ کام پہلے کر چکے ہیں ایران نے پہلی بار initiative لیا ہے۔ جنگ جیتنے کے لئے ایسی جرائت اور بروقت فیصلے درکار ہیں۔
اردن میں یہ پیش بند حملے نیتین یاہو اور ٹرمپ دونوں کے لئے کھلا پیغام ہے کہ ہم all out war کے لئے تیار ہیں۔ اگر جنگ ہے تو جنگ ہی سہی۔
اپنے لوگوں پر گولی چلانے سے کبھی کوئی مسلئہ حل نہیں ہوتا سیاسی مسائل صرف اور صرف مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں، شہیدوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے بزرگ سیاستدان حاجی غلام احمد بلور کی ساٹھ سالہ سیاست کا نچوڑ
"سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے..."
قائد اعظم یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی طالب علم اسامہ جمیل راولاکوٹ میں گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم اسامہ جمیل فیصلہ سازوں کے اقتدار بچانے کی حوس کا نشانہ بن گیا۔ جب سے یہ رجیم آئی ہے اس نے پرامن مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے سیدھی گولیوں کا فسطائی نظام شروع کیا ہے،اس کے باوجود چار سال سے عوام ان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ آج جو خون کا کھیل آزاد کشمیر میں کھیلا جارہا ، یہی کھیل پہلے چھبیس نومبر کو پی ٹی آئی کے خلاف ، مریدکے میں ٹی ایل پی کے خلاف بھی کھیلا جا چکا ہے۔ جب تک پوری قوم متحد ہوکر نہیں نکلے گی ماوں کے بے گناہ بچے ایسے ہی شہید ہوتے رہینگے۔
جب تک پوری قوم متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف نہیں کھڑی ہوگی، ماؤں کے بے گناہ بچے یوں ہی قربان ہوتے رہیں گے۔
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت پر چپ رہنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی لیڈرشپ کو 5 اگست کا انتظار کئیے بغیر فوری پر امن احتجاج کی کال دینی چاہیئے۔
آج کشمیری بھائیوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے۔ اگر دیر کردی تو وہ منہ موڑ لیں گے۔ عمل کرنے کا یہی وقت ہے۔ مزید دیر کی گنجائش نہیں۔
جرنیلوں کو خوش کرنے کے چکر میں ملک کو مزید نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
پی ٹی آئی فوری طور پر پر امن احتجاج کی کال دے۔ عوام نکلے یا نہ نکلے یہ عوام کی مرضی۔ آپ اپنا فرض پورا کریں۔
عمران خان جیل سے باہر ہوتے تو ہرگز اس وقت تک چپ نہ رہتے۔
اگر آج پاکستانی عوام حقوق کے لیئے کھڑی نہ ہوئی تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔
اللّٰہ تعالیٰ کو رعونت اور تکبر پسند نہیں جنرل پرویز مشرف اپنے دور کا بہت طاقتور حکمران تھا کہتا تھا بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو پاکستان واپس نہیں آنے دیگا پھر وہ وقت آیا کہ انہیں خود جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور جلاوطنی میں وفات پائی افسوس کسی نے مشرف کے انجام سے سبق نہیں سیکھا
“The system has collapsed,” says Mohsin Naqvi, one of the country’s most powerful ministers. Indeed, it has. What next, Presidential Rule or Martial Law? If I were a politician in the govt, I’d be worried by this statement and already looking for a Plan B. The page has been torn.