@SaraMirGilgity بہرحال بہت زیادہ شرم کی بات ھے نام بدل بدل پارٹی کے نام پر پیسے اکٹھے کرکے کھا جانا، خاص اس وقت میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان صاحب اور پارٹی ورکرز پر اتنا بُرا وقت چل رہا ھو،
چیف آرگنائزر پنجاب، عالیہ حمزہ ملک لاہور سے گرفتار ہو گئی ہیں، پولیس نے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ جسکی بھرپور مزمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انکو فلفور رہا کیا جائے،
عون عباس بپی کی قربانی اور جدوجہد سب کے سامنے ہے…
ان کے کاروبار ختم کیے گئے، گھر پر بلڈوزر چلائے گئے اور انہیں شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا…
مگر ہر مشکل کے باوجود وہ ہر کال، ہر احتجاج اور ہر عملی اقدام میں عمران خان کے ساتھ پیش پیش رہے…
ادیالہ ہو یا کوئی اور جگہ،
عون عباس بپی کی قربانی اور جدوجہد سب کے سامنے ہے…
ان کے کاروبار ختم کیے گئے، گھر پر بلڈوزر چلائے گئے اور انہیں شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا…
مگر ہر مشکل کے باوجود وہ ہر کال، ہر احتجاج اور ہر عملی اقدام میں عمران خان کے ساتھ پیش پیش رہے…
ادیالہ ہو یا کوئی اور جگہ، وہ عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اور جنوبی پنجاب کی ٹیم کے ساتھ ہمیشہ موجود ہیں…
ہم ان سے سوال کرتے ہیں: عون عباس بپی کے علاوہ جنوبی پنجاب میں کون واقعی کام کر رہا ہے؟
جھوٹے پروپیگنڈے کو بند کریں اور زمین پر کھڑے رہ کر تحریک کی حقیقت دیکھیں…
عون عباس بپی نے ثابت کیا کہ لفظوں سے نہیں، عمل سے تحریک کی حفاظت کی جاتی ہے…
عمران خان کے سچے سپاہی وہ ہیں، اور عون عباس بپی ان کے حقیقی ساتھی ہیں…
یہ دور PTI کے لیے سب سے زیادہ مشکل اور آزمائشوں سے بھرا رہا ہے…
9 مئی کے بعد پارٹی نے جو نشیب و فراز دیکھے، وہ پوری دنیا کے سامنے ہیں…
آج بھی بے شمار کارکن اور رہنما جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ہیں…
کچھ نے تشدد برداشت کیا، کچھ نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں…
اور کچھ مجبوریوں کے تحت الگ ہوئے، مگر اس سب کے باوجود آج بھی وہ لوگ موجود ہیں…
جو اپنی جان، مال اور خاندان کو داؤ پر لگا کر PTI کے ساتھ کھڑے ہیں…
ایسے نازک وقت میں زمین پر نکل کر جدوجہد کرنا آسان نہیں…
لیکن X اور TikTok پر بیٹھ کر باتیں کرنا، بیانیہ بیچنا اور تنقید کرنا بہت آسان ہے…
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ PTI کا نام استعمال کر کے خود کو “سوشل ایکٹیوسٹ” ظاہر کرتے ہیں…
مگر ان کی تنقید کا رخ مسلسل PTI کی قیادت اور کارکنوں کی طرف ہی رہتا ہے…
یہ آواز کبھی حکومت کے خلاف مضبوطی سے نہیں اٹھتی،،کبھی اس ناانصافی پر واضح مؤقف نہیں دیتی جو عمران خان کے ساتھ ہو رہی ہے…
اور نہ ہی اس نظام پر سوال اٹھاتی ہے جو اصل فیصلے کر رہا ہے…
جبکہ دوسری طرف شاہ محمود قریشی، سلمان اکرم راجہ، نعیم حیدر پنجھوتھا، عون عباس بپی، زرتاج گل، اظہر مشوانی، ریحانہ ڈار
وہ رہنما ہیں جن کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں…یہ لوگ ہر مشکل وقت میں عمران خان کے لیے نکلتے ہیں اور علیمہ خانم کے ساتھ اڈیالہ جا کر عملی یکجہتی دکھاتے ہیں…
اوورسیز بیٹھ کر خود کو مظلوم ظاہر کرنااور مشکل حالات میں جدوجہد کرنے والوں پر انگلیاں اٹھانا نہ سیاسی شعور ہے اور نہ اخلاقی جدوجہد…
ہمارے پاس وہ ویڈیوز موجود ہیں جن میں PTI اور فلاحی اداروں کے نام پر فنڈز مانگے جاتے دکھائی دیتے ہیں…
یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ثبوت اور حقائق ہیں ،،،جو خود ریکارڈ پر موجود ہے…
ان تمام حقائق اور خدشات کی بنیاد پر پی ٹی آئی قیادت UK سے پُرزور درخواست ہے کہ
سارا میر (عرف فرزانہ کوثر) کے کردار اور سرگرمیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے…
کیونکہ پارٹی کے اندر انتشار، کنفیوژن اور باہمی ٹکراؤ کسی کے مفاد میں نہیں…
PTI اس وقت تقسیم نہیں، نظم و ضبط اور یکجہتی کی متقاضی ہے…
سچ تلخ ضرور ہوتا ہے…
مگر خاموشی نقصان دہ ہوتی ہے…
@ptiuk@PTIofficial@PTIKPOfficial@NaeemPanjuthaa@SMQureshiPTI@SHABAZGIL@AonAbbasPTI@aliya_hamza@MashwaniAzhar@RehanaImtiazDar@UdarOfficial
@SaraMirGilgity سُنتا جا شرماتا جا
اور ہاں جن پانچ ہزار منافقوں کا ذکر کیا ھے آپ نے ان سے کہیں کہ اڈیالا بھی پہنچا کریں گھروں میں بیٹھ کر بک بک نا کیا کریں
کوئی پانچ بندے ایسے بتائیں جو حرامخور کسی ایک دن بھی اڈیالا پہنچے ھوں
@SaraMirGilgity مُحترمہ اپنے گریبان میں جھانکو تُم خود کیا ھو،
باقی جن کے بارے آپ بکواس کر رہی ھو وہ ہر دن ہر ٹائم خان کی رہائی کے لیے خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں
مارچ 2025 میں خبردار کیا گیا تھا، مگر اپریل میں پنجاب حکومت نے کسان سے گندم نہیں خریدی۔ کسان نے 2000 روپے من میں بیچی، جبکہ منظورِ نظر پرائیویٹ سرمایہ کاروں نے اسٹاک کر کے آج وہی گندم 5000 اور آٹا 6100 میں بیچ دیا۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو سپلائی روک دی گئی، وہاں آٹا 7000 سے اوپر جا چکا ہے۔
14 روپے روٹی کا نعرہ تھا، آج 32 روپے کی ہے۔
کسان لٹ گیا، عوام پس گئی، منافع مخصوص جیبوں میں گیا۔ اب کسان نے گندم کاشت ہی نہیں کی۔ اگلا سال قحط کا ہے۔ یہ بحران قدرت کا نہیں، حکومت کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔