میٹر ریڈرز کا شافی علاج۔۔۔۔۔
آپ کے بجلی کے بل پر تاریخ ریڈنگ کے خانے میں تاریخ لکھی ھوتی ھے کہ جس تاریخ کو آپ کے میٹر کی ریڈنگ لی گئی اور بل کے نیچے میٹر ریڈر نے آپ کی میٹر ریڈنگ کی جو تصویر لی ھوتی ھے وہ پرنٹ ھوتی ھے اور وہ تصویر بل پر لکھی گئی میٹر ریڈنگ کی تاریخ سے 10/15 دن ذائد یونٹس کی ھوتی ھے۔ عموماً ھر بل میں ریڈنگ کی ایک ھی تاریخ ھوتی ھے آپ نے کرنا یہ ھے کہ ریڈنگ والے دن اس تاریخ کا تازہ اخبار لینا ھے اور اس اخبار پر جہاں تاریخ لکھی ھوتی ھو اس اخبار کے حصے کو میٹر کے ساتھ لگا کر ایسے تصویر بنانی ھے کہ میٹر کی ریڈنگ اور اخبار کی تاریخ ایک ھی تصویر میں شو ھو سکیں۔ یا ایک ویڈیو بنانی ھے جس میں اپنی اور اہل م��لہ کے 5/7 گھروں کی میٹر ریڈنگ لیکر اہل محلہ کو ساتھ کھڑا کرکے ان سے آج کی تاریخ اور ٹائم ریکارڈ کرلیں، اس کے بعد اس ثبوت کو محفوظ کرلیں جیسے ھی بجلی کا بل آئے جو لازمی اس تصویر یا ویڈیو والی ریڈنگ سے 100/150 یونٹ زیادہ کا ھوگا۔ اس بل کو لیکر اپنی قریب ترین عدالت سے رجوع کریں اور میٹر ریڈر پر اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کردیں۔ آپ کی صرف ایک دن کی تکلیف اس پورے محکمہ کے میٹر ریڈروں کو تیر کی طرح سیدھا کردے گی اور آئندہ کے لئے آپ کے بجلی کے بل آدھی قیمت پر آجائیں گے۔ یاد رکھیں آپ کا حق آپ کو کبھی بھی بستر پر لیٹ کر نہیں ملے گا اسے لینے کے لئے آپ کو تھوڑی تکلیف ضرور اٹھانی پڑے گی ورنہ ساری زندگی حکومتوں کو گالیاں نکالتے گزر جائے گی
اس بچی کے لئے کچھ نہ لکھنا الفاظ کی حرمت کی کمی کے باعث ہوگا۔
اس لاش کو انصاف کو ملنا چاہیے۔
یہ امر بذاتِ خود عزت مآب چیف جسٹس صاحب کے لئے ایک الارمنگ کیس ہے کہ اتنے تسلسل کے ساتھ ججز صاحبان کی بیگمات کے ہاتھوں گھر کی کمسن ملازماؤں پر بےرحمانہ تشدد کے واقعات کیوں ہورہے ہیں؟
یا پھر کوئی نفسیاتی عوارض ہیں جن کی شکار یہ خواتین ہیں۔
آخر ایسا کیا کر دیا ہو گا اس چھوٹی سی بچی نے جس کی بنا پر ایک عورت اس کے ساتھ یہ سلوک کرنے پر آمادہ ہو گئی ؟
اناللہ و انا الیہ راجعوں
منصف کے گھر درندگی
اسلام آباد میں جج کے گھر میں جس بچی پر ظالمانہ تشدد کیا گیا تھا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی نہ قانون حرکت میں آیا نہ قیامت آئ��
غریب بے بس لاچار بچی رب کا پتہ پوچھتے پوچھتے رب کے پاس پہنچ چکی
میڈیا خاموش ہے معاملہ جج کا ہے @ssgviews