ضلعہ جیکب آباد کے گوٹھ محمد عیسیٰ ماچھی کی رہائشی مائی گھنوری اور دیگر خواتین نے 2022 کے سیلاب میں بے گھر ہونے کے بعد ایس پی ایچ ایف منصوبے کے تحت پہلے تعمیراتی تربیت حاصل کی اور پھر سب نے اپنے نئے پکے گھر اپنے ہاتھوں سے تعمیر کرکے علاقے میں مثال قائم کی ہے۔
#SPHF
جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے اپنے حالیہ مضمون میں شکوہ کیا ہے کہ آج پاکستان میں وکلا تحریک جیسی کوئی مزاحمتی لہر کیوں دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے وہ ایک ایسے بنیادی سوال سے گریز کرتے ہیں جس کے بغیر پوری بحث ادھوری رہ جاتی ہے: آخر 2007ء سے 2009ء کے درمیان چلنے والی وکلا تحریک کو وہ غیر معمولی میڈیا توجہ کیوں حاصل ہوئی جو پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور احتجاجی تحریک کے حصے میں آئی ہو؟
پاکستان میں کوئی تحریک محض اپنے اخلاقی جواز یا عوامی صداقت کے بل پر ہر ٹیلی ویژن اسکرین پر چھا نہیں جاتی۔ قومی بیانیے میں جگہ حاصل کرنا ایک سیاسی عمل ہے۔ کوئی دروازے کھولتا ہے، کوئی راستہ ہموار کرتا ہے، اور کوئی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی آواز پورے ملک کو سنائی جائے گی اور کون سی خاموشی میں دفن کر دی جائے گی۔
وقت گزرنے کے ساتھ وکلا تحریک کے گرد ایک ایسی داستان تعمیر کر دی گئی ہے جس میں اس کے تمام پیچیدہ اور متنازع پہلو تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ اسے ایک خالص، خود رو اور عوامی جمہوری بیداری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس نے تنِ تنہا ایک فوجی حکمران کو للکارا اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ لیکن واقعات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وکلا تحریک کو اس وقت غیر معمولی قوت ملی جب ریاستی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ یہ محض سڑکوں پر نکلنے والے وکلا کی جدوجہد نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے ایوانوں میں جاری ایک بڑی کشمکش کے ساتھ بھی جڑی ہوئی تھی۔ ریاستی ڈھانچے کے اندر موجود مختلف قوتیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھیں اور وکلا تحریک اس وسیع تر تصادم کا ایک مؤثر اظہار بن گئی۔ اگر مقتدر حلقوں کے اندر یہ تقسیم موجود نہ ہوتی تو شاید یہ تحریک نہ وہ رفتار حاصل کر پاتی، نہ وہ تحفظ میسر آتا اور نہ ہی اسے وہ مسلسل میڈیا کوریج نصیب ہوتی جس نے اسے ایک قومی تحریک کی شکل دی۔
اس بیانیے کا سب سے کمزور اور شاید
سب سے زیادہ مبالغہ آمیز پہلو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی شخصیت کے گرد پیدا کی گئی تقدیس ہے۔ آج انہیں جمہوری مزاحمت کے ایک استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا ادارہ جاتی سفر ایک بالکل مختلف کہانی سناتا ہے۔ ایک صوبائی جج سے چیف جسٹس پاکستان کے منصب تک ان کی ترقی انہی طاقت کے مراکز کی سرپرستی میں ہوئی جن کے ساتھ بعد میں ان کا تصادم پیدا ہوا۔ اس دور میں انہیں ریاستی نظام کا ناقد نہیں بلکہ اس کے نمایاں مستفیدین میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہیں بعد ازاں ایک ایسے جمہوری ہیرو کے طور پر پیش کرنا جو ہمیشہ سے طاقت کے خلاف برسرِ پیکار رہا ہو، تاریخ کو یاد کرنے سے زیادہ اسے ازسرِ نو تخلیق کرنے کے مترادف ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا مضمون ایک اور وجہ سے بھی توجہ طلب ہے۔ وہ اس پورے عہد میں اپنے کردار کا ذکر تقریباً سرے سے نہیں کرتے۔ وہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی تحریر یوں محسوس ہوتی ہے جیسے اُس زمانے کے سیاسی واقعات کو مقتدر حلقوں کی سرپرستی، اشرافیہ کی باہمی رقابتوں اور ریاستی اداروں کے پیچیدہ کردار کا حوالہ دیے بغیر سمجھا جا سکتا ہو۔ حالانکہ یہی عوامل اس پورے دور کی سیاست کو سمجھنے کی کنجی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آج وکلا تحریک کیوں موجود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اب تک گزشتہ وکلا تحریک کے بارے میں ایک ایسے بیانیے سے کیوں چمٹے ہوئے ہیں جو خود احتسابی کے بجائے خود ستائی پر مبنی ہے۔ حقیقی عوامی تحریکیں ریاستی سرپرستی، اشرافیائی پشت پناہی یا دن رات جاری رہنے والی میڈیا تشہیر کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کی قوت عوامی شرکت، اجتماعی یقین اور مسلسل جدوجہد سے پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے بہت سے سیاسی تنازعات اور اقتدار کی کشمکشیں بعد میں جمہوریت کی مقدس داستانوں کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ وکلا تحریک بھی بتدریج ایسی ہی ایک مقدس روایت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کے پس منظر، محرکات اور حقیقی سیاسی سیاق و سباق پر سوال اٹھانا بعض حلقوں میں گویا گستاخی کے مترادف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ دستیاب شواہد ایک کہیں زیادہ پیچیدہ اور کم رومانوی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تاریخ کو اساطیر نہیں، دیانت داری درکار ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کو افسانوں کے پردے میں دیکھتی ہیں، وہ اپنے حال کو بھی غلط سمجھتی ہیں۔ جب تک ہم آسان اور دلکش داستانوں کے بجائے غیر آرام دہ حقائق کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، تب تک نہ ہم اپنے سیاسی ماضی کا درست ادراک حاصل کر سکیں گے اور نہ اپنے موجودہ بحرانوں کی حقیقی نوعیت کو سمجھ پائیں گے۔
https://t.co/339BNd3sF2
Kitchen Gardening toolkits were distributed among 23 beneficiaries in Model Village Haji Chaglo Jokhio, District Thatta, under @UNIDO -Sindh Social Registry Livelihood Resilience Program (SSR-LRP) funded by @BMZ_Bund - German Federal Ministry for Economic Cooperation and
یہ کتاب شائع ہو گئی ہے۔ جن احباب کو دلچسپی ہو، ذیل کے پتے پر رابطہ کر سکتے ہیں
جہلم بک کارنر
بالمقابل اقبال لائبریری
اقبال لائبریری روڈ
جہلم ۔ 49600
فون: 5672198 3210
PKR: 2,000/- 1,400/-
https://t.co/q3cwshfGBV
دونوں غیرملکی خواتین کوپاکستان بلانے،اغوا کرنےاورپھرتاوان مانگنےکاعمل رضاڈارنےکیسےانجام دیا؟خواتین کیساتھ کیاسلوک کیاگیا؟کیسے خواتین ملزم کی گاڑی سےفرارہونے میں کامیاب ہوگئیں؟خواتین کےبیان حلفی میں ریپ سمیت تمام واقعات کی تفصیلات دیکھیےا
SRSO conducted a field visit for new brick kiln community mapping at BK Islam Bricks Company in District Khairpur under Equine Welfare Project. During the visit, a men and women awareness session was held at Zehro Khan Burdi to promote equine welfare and responsible
Under the Government of Sindh’s Roshan Ghar – Roshan Sindh initiative, the distribution of Solar Home System (SHS) kits to eligible households across various districts continues.
@sindhinfodepart@AseefaBZ@BakhtawarBZ
The solar kits were distributed under the Energy Department of the Government of Sindh's Solar Home System (On-Grid/Off-Grid) Project, which is being implemented by the Sindh Rural Support Organization (SRSO).
@BBhuttoZardari@SindhCMHouse@jamkhanshoro
P&D Monitoring Officer of the Peoples Poverty Reduction Program (PPRP) Directorate, Govt of Sindh, along with representatives from the SRSO Regional Office Hyderabad and the District Manager, visited three women-led Village Organizations
@MuradAliShahPPP
Jacobabad’s recovery continues at scale, with over 81,000 flood-affected houses now constructed following the devastating 2022 floods, helping families rebuild their lives with safer, more resilient homes.
#sindhpeopleshousing
Under the Government of Sindh’s Roshan Ghar – Roshan Sindh initiative, the distribution of Solar Home System (SHS) kits to eligible households across various districts continues. In this regard, solar kits were distributed to 97 eligible
@BBhuttoZardari@AseefaBZ@BakhtawarBZ
New Issue of SRSO Sindhi Magazine Published
The latest issue of the SRSO Sindhi Magazine 2025 has been published and uploaded on the official SRSO website for readers across Sindh and beyond.
SRSO Sindhi Magazine is a regular publication of the
Interest-Free Community Investment Fund (CIF) Loan Disbursement starts through banking in Larkana
The Sindh Rural Support Organization (SRSO) successfully conducted an Interest-Free Community Investment Fund (CIF) loan disbursement activity through Bank in Larkana.
سپریم کورٹ کے عدالتی رپورٹرز کی پریس ایسو سی ایشن نے چیف جسٹس یحی آفریدی کی طرف سے بلڈنگ سے باہر نکالے جانے کے بعد شاہراہِ دستور پر اپنا اوپن ائیر پریس روم بنا لیا
وکلا تحریک کے دوران سڑکوں پر رُلنے والے ان ججوں کی بحالی میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ساتھ ساتھ پریس ایسو سی ایشن نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا
Under the Roshan Ghar – Roshan Sindh initiative, solar home system kits were distributed to 118 eligible households in Tharparkar District and 22 eligible households in Ghotki District, Sindh. Distribution ceremonies were held in Mithi Tehsil and Mirpur Mathelo.
@sindhinfodepart