میں نے محبت کو چلتے ہوئے دیکھا ہے۔
وہ مکہ کی گلیوں سے گزرتی تھی،
تو یتیموں کے سروں پر دستِ شفقت رکھ دیتی تھی۔
وہ مدینہ کی فضاؤں میں چلتی تھی،
تو دلوں کی کدورتیں پگھل جایا کرتی تھیں۔
وہ دشمنوں کے درمیان کھڑی ہوتی تھی،
تو انتقام نہیں، رحمت کی زبان بولتی تھی۔
میں نے محبت کو محمد مصطفیٰ ﷺ کی صورت میں چلتے دیکھا ہے۔
صدیوں تک یاد رکھا جانے والا ایک اعزاز پاکستانی نوجوان کے نام ہو گیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم ایک باصلاحیت پاکستانی خطاط کی جانب سے اپنے ہاتھوں سے تحریر کیا گیا قرآنِ پاک کا نایاب اور خوبصورت نسخہ مسجدِ نبوی ﷺ کی انتظامیہ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا، جسے سعودی حکام نے نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے مسجدِ نبوی ﷺ کی تاریخی لائبریری کا حصہ بنانے کا اعلان بھی کر دیا۔ اس منفرد اعزاز کے بعد پاکستانی نوجوان کی محنت، فنِ خطاطی اور قرآنِ پاک سے محبت کو بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں مقیم پاکستانی فخر کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ دینی اور سماجی حلقوں میں بھی اس کارنامے کو غیرمعمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
میں ایک رائیڈر ہوں۔ روزانہ درجنوں آرڈر پہنچاتا ہوں۔ اکثر لوگ کھانا لیتے ہیں، شکریہ کہتے ہیں اور دروازہ بند کر دیتے ہیں۔
چند روز پہلے ایک لڑکی نے آرڈر کیا۔ جب میں آرڈر لے کر پہنچا تو اس نے مسکرا کر کھانا وصول کیا۔ جاتے جاتے کہنے لگی:
"اگلی بار میرا آرڈر آپ ہی لے کر آئیے گا۔"
میں نے اسے عام سی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
اگلے چند دنوں میں اس کے کئی آرڈر آئے اور ہر بار وہ یہی کہتی:
"دیکھیں، میرا آرڈر کسی اور کو نہ دیا کریں، آپ ہی لے کر آیا کریں۔"
مجھے یہ بات عجیب تو لگتی تھی، مگر میں اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔
ایک دن اس نے آرڈر کیا تو دروازہ کھول کر بولی:
"براہِ کرم یہ آرڈر میرے کمرے تک پہنچا دیں۔"
میں کھانا لے کر اندر چلا گیا۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے کھانا میز پر رکھا اور واپس مڑنے لگا، مگر اس کے انداز، باتوں اور اشاروں نے مجھے چونکا دیا۔
اب مجھے سمجھ آ رہی تھی کہ وہ بار بار یہی کیوں کہتی تھی کہ آرڈر آپ ہی لے کر آیا کریں۔
وہ خوبصورت تھی، بہت خوبصورت۔
ایک لمحے کے لیے نفس نے مجھے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ شیطان نے دل میں کئی وسوسے ڈالے۔ لیکن اسی لمحے مجھے یہ احساس ہوا کہ چند لمحوں کی خواہش انسان کی پوری زندگی کا سکون چھین سکتی ہے۔
میں نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
میں نے مختصر سا سلام کیا اور تیزی سے وہاں سے نکل آیا۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے اندر ایک جنگ چل رہی ہو۔ ایک طرف نفس تھا اور دوسری طرف ایمان۔
جب میں اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا تو بے اختیار میرے ہونٹوں پر شکر کے الفاظ آ گئے۔
اس دن مجھے احساس ہوا کہ اصل کامیابی زیادہ پیسے کمانا نہیں، بلکہ اُس گناہ سے بچ جانا ہے جس کا موقع، خواہش اور تنہائی تینوں موجود ہوں۔
کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ بہادری دوسروں کو ہرانے کا نام ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا بہادر وہ ہے جو اپنے نفس کو ہرا دے۔
آج بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک لمحے کی لغزش سے بچا لیا۔
کیونکہ بعض اوقات انسان گناہ نہیں چھوڑتا، بلکہ گناہ کو اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور یہی فیصلہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار دیتا ہے۔
تحریر ۔ملنگ بابا